Site icon Dunya Pakistan

غزل

یوں بے سبب ہی تو اس کے قریں ٹھہرتا ہے
پھر زمانے سے کیسا گلہ یہ کرتا ہے

کچھ ایسے دل پہ ہے قبضہ کسی پری وَش کا
دل اس کے ناز اٹھاتا ہے اس پہ مرتا ہے

چراغاں قبر پہ ہوتا ہے بس امیروں کے
کہاں غریب کے گھر میں چراغ جلتا ہے

ہر ایک شئے میں خدا ہے ہر اک جگہ ہے خدا
تو کس نے کہہ دیا مسجد میں صرف ملتا ہے

ضرور کھوٹ ہے نیت میں اے فہیم اس کی
زبان دے کے وہ ہر بار ہی مکرتا ہے

Exit mobile version