غزل

یہ کیسا عشق جس میں بے بسی ہے
بھلا اس کے بنا بھی زندگی ہے

سنے گا کون میں کس کو پکاروں
دیارِ غیر ہے اور بیکسی ہے

توقع ہے وفاداری کی ہے ان سے
یقیں کامل ہے یا پھر خوش دلی ہے

ہوئی موت ایسے کہ سہما ہے انساں
عجب ہے بیقراری، بے حسی ہے

ہے منزل دور اور راہیں اندھیری
دیا جل جائے تو پھر روشنی ہے

فہیم اب کیسے میں شمع جلاؤں
مخالف ہے ہوا اور تیر گی ہے

error: