غزل

دھوکے کے بعد اب نہ محبت کروں گا میں
تجھ سے بھی زندگی نہ شکایت کروں گا میں

ٹوکوں گا باخدا نہ کسی بات پر تمہیں
دوری نہ رکھ، نہ کوئی شرارت کروں گا میں

تجھ تک پہنچنے میں بھی لگائی ہے ایک عمر
پانے کے واسطے بھی نہ عجلت کروں گا میں

جینا ہے صرف حق پہ، سو اے جھوٹے ناخدا
زر کے لئے نہ تیری حمایت کروں گا میں

کتنے حسین چہروں نے لوٹا ہے میرا دل
اب اور نہ یار کوئی حماقت کروں گا میں

کہہ کر غزل ہوئی ہے تسلی مجھے فہیم
اس کے لکھے پہ اب نہ عنایت کروں گا میں