غزل

جانِ بہار! سامنے آؤ کہ عید ہے
دیدار اپنا مجھکو کراؤ کہ عید ہے

ان دورییوں نے حال عجب کر دیا مرا
ان دورییوں کو آج مٹاؤ کہ عید ہے

مل جاۓ کچھ سکون دلِ بے قرار کو
مجھکو گلے سے اپنے لگاؤ کہ عید ہے

رِندوں میں رِندِ عشق کی یہ ضد ہے ساقیہ
آنکھوں کے جام مجھکو پِلاؤ کہ عید ہے

موقع محل یہی تو مناسب ہے اے فہیم
رودادِ عشق تم بھی سناؤ کہ عید ہے