Site icon Dunya Pakistan

غلاموں کی منڈیاں!

سنا ہے گزرے زمانوں میں غلاموں کی منڈیاں لگا کرتی تھیں، سوداگر ہاتھوں میں اشرفیوں کی تھیلیاں پکڑے آتے اور زیادہ بولی لگانے والا سوداگر غلام کو ہانکتا ہوا اپنے گھر لے جاتا لیکن میں نے تو جب سے آنکھ کھولی ہے ہر سال بکروں کی منڈیاں لگتی دیکھی ہیں اور متعدد بار خود میں بطور سوداگر وہاں گیا ہوں اور متعدد بار ایسا ہوا کہ صرف مول تول کرکے واپس آ گیا۔ مثلاً میں تو گزشتہ روز بھی اس نیت سے گھر سے نکلا تھا کہ واپسی پر میرے ساتھ ایک سعادت مند بکرا ہوگا جو عید کے روز قصائی کے سامنے

سر تسلیم خم ہے جو مزاجِ یار میں آئے

والا مصرعہ ترنم سے گنگناتے ہوئے اپنی جان، جانِ آفریں کے سپرد کر دے گا مگر اس بار بھی یہی ہوا کہ مول تول کرکے میں ٹھنڈے ٹھنڈے گھر کو لوٹ آیا بیشتر بکرے تو اتنے لاغر تھے کہ ان کا شجرہ نسب مجنوں سے جا ملنے کا گمان گزرتا تھا اسی طرح کے کچھ دنبے بھی میں نے دیکھے اور لگتا تھا کسی نے انہیں مار مار کر دنبہ بنایا ہے البتہ بکروں کی ایک جوڑی مجھے قدرے صحت مند لگی میں نے ریوڑ کے مالک سے قیمت پوچھی تو اس نے دو لاکھ روپے بتائی ۔اس پر مجھے سخت دھچکا لگا اور غصہ بھی آیا کہ اس نے آخر مجھے سمجھا کیا ہے تاہم اس وقت میرا غصہ فرو ہوا جب ریوڑ کے مالک نے وضاحت کی کہ یہ قیمت اس نے بکروں کی لگائی ہے۔ بہرحال قیمت سن کر میں نے جوڑی خریدنے کا ارادہ ترک کیا اور ان میں سے ایک بکرے پر انگلی رکھ کر پوچھا اس اکیلے کی قیمت کیاہے مالک نے کہا ایک لاکھ روپے، یہ سن کر میں خاصا پریشان ہوا اور اسی پریشانی کے عالم میں پوچھا یہ گریڈ بائیس کا بکرا ہے ؟ اس پر ریوڑ کے مالک نے اپنی توجہ میری بجائے دوسرے گاہکوں کی طرف مبذول کرلی اسے غالباً میرے بارے میں یہ گمان گزرا کہ میں گاہک نہیں، مخو لیا ہوں اور صرف جگتیں کرنے کے لئے یہاں آیا ہوں!

یہاں کھڑے کھڑے میں نے ایک بات یہ نوٹ کی کہ جو سچ مچ کے گاہک تھے وہ بکروں کو ٹٹول ٹٹول کر دیکھتے تھے۔ ٹٹول ٹٹول کر کیا دیکھتے تھے ان کا باقاعدہ میڈیکل چیک اپ کرتے تھے کہ کہیں ان میں سے کوئی معذور تو نہیں، پہلے تو میں ان کی حرکت سے پریشان ہوا مگر پھر یاد آیا کہ شرعی نقطہ نظر سے معذور بکروں کی قربانی جائز نہیں ہے۔ قربانی کے لئے جانور کا ہر لحاظ سے اعلیٰ و برتر ہونا ضروری ہے گویا معذوروں کا سال منانے کی رسم انسانوں ہی کی نہیں بکروں کی سلامتی کی بھی ضامن ہے تاہم اس معاملے میں بکروں کو انسانوں پر ایک فضیلت حاصل ہے اور وہ یہ کہ بقر عید پر معذور بکروں کی جان تو بچ جاتی ہے مگر ہر سال بجٹ کے موقع پر قربانی کے بکرے اعلیٰ و برتر طبقے نہیں، ناتواں طبقے بنتے ہیں اور یوں سال ہا سال سے ان کی مائوں نے اب ان کی خیر منانا ہی چھوڑ دی ہے۔

اور یہ جو میں نے اس کالم میں کہیں اس بکرے کے بارے میں اس شبے کا اظہار کیا تھا کہ وہ کہیں گریڈ22 کا تو نہیں تو یہ ایسے ہی نہیں تھا ؟کیونکہ اس روز بکروں کی متذکرہ منڈی سے میرا گزر متعدد بار ہوا اور میں نے دیکھا کہ بیس پچیس ہزار روپے تک کی رینج کے بکرے تو دھڑا دھڑ خریدنے والوں کی رینج میں آ رہے ہیں اور وہ ان کے گلے میں رسی ڈالے انہیں کھینچے لئے جا رہے ہیں مگر یہ جو گریڈ22 کا بکرا تھا۔ اسی طرح اپنے کھونٹے سے بندھا تھا اس پر گوٹے ستارے والی چادر پڑی تھی اور اسے خریدنے والے کم اور پچکارنے والے زیادہ تھے اس کی قیمت اور شان وشوکت دیکھ کر کسی کی ہمت نہ پڑتی تھی کہ وہ اسے بھی کان سے کھینچتا ہوا لے جائے اور اپنے گھر کی ڈیوڑھی میں باندھ دے بلکہ یہ بکرا تو خاصا نک چڑھا بھی تھا اگر اسے کسی پر یہ شبہ گزرتا کہ اس نے اس کے سر پر ہاتھ پچکارنے کے لئے نہیں بلکہ ٹٹولنے کے لئے رکھا ہے تو وہ دو تین گز الٹے قدم چلتا اور پھر سر نیچے اور سینگ سیدھے کرکے اس پر حملہ آور ہو جاتا ممکن ہے یہ سطور شائع ہونے تک کوئی مائی کا لال اس کے گلے میں بھی رسی ڈال کر اسے لے گیا ہو مگر ایسا ذرا کم ہی ہوتا ہے کیونکہ یہ بکرے وہ ہیں جن کی قیمتوں کا فیصلہ ہم نہیں کرتے بلکہ ہماری قسمتوں کا فیصلہ وہ کرتے ہیں!

اور اب آخر میں فواد حسن فواد کی تازہ غزل

اپنا احساس وہ ایسے بھی سوا رکھتا ہے

مل بھی جائے تو مجھے دور ذرا رکھتا ہے

مجھ سے تنہائی میں ملنے کا طلب گار ہے وہ

بزم اپنی کو جو غیروں سے بھرا رکھتا ہے

اس کا کیا ہے وہ کہیں سے بھی پلٹ جائے گا

لوگ کہتے ہیں وہ اک رستہ کھلا رکھتا ہے

میرے احساس نے تقسیم کیا ہے مجھ کو

عشق میرا مجھے سولی پہ چڑھا رکھتا ہے

اس نے کر لی ہے نئی ایک لغت بھی ایجاد

لفظ بُن لیتا ہے معنی کو جدا رکھتا ہے

خواب کیا دیکھتے تعبیر نظر کیا آتی

ان کا امکان ہی آنکھوں کو کھلا رکھتا ہے

وہ تیرے وصل کی خواہش کو بھلا کیا جانے

جو ترے ہجر کو پھولوں سے سجا رکھا ہے

لکھ رہا ہے وہ مری سوچ کی تفسیر حسن

اپنے خوابوں کو بھی جو مجھ سے چھپا رکھتا ہے

Exit mobile version