غلام ذہن اور آزاد ذہن!

میں ایک عرصے سے پرندوں کے عشق میں مبتلا ہوں۔ پرندوں میں سے مجھے کوے اور طوطے بہت پسند ہیں، کوؤں کو میں نے دیکھا ہے کہ وہ ہر وقت الرٹ رہتے ہیں۔ اپنی آزادی کے تحفظ کے ضمن میں یہ کسی کمپرومائز کے قائل نہیں۔ صیاد اگر انہیں دانہ بھی ڈالے تو بھی یہ اس کو اپنا دوست سمجھ کر اس سے غافل نہیں ہو جاتے بلکہ دانہ چگتے ہوئے بھی ان کی نظر اس کے ارادے پر رہتی ہے۔ اگر انہیں خدشہ ہو کہ دانے کے ساتھ کہیں دام بھی ہے جو انہیں غلام بنا سکتا ہے تو یہ دانے کی طرف آنکھ اٹھا کر بھی نہیں دیکھتے جبکہ لالچی، احمق یا چند دانوں کی خاطر اپنی آزادی کو خطرے میں ڈالنے کا رسک گوارا کرنے والے دوسرے پرندے صیاد کے پھیلائے ہوئے دام میں آجاتے ہیں۔ کوا اپنی آزادی کی خاطر روکھی سوکھی کھانا پسند کر لیتا ہے لیکن غلامی کی قیمت پر اسے بڑی سے بڑی نعمت بھی گوارا نہیں۔ پرندے کی یہ حریت پسندی پشتینی غلاموں کو اچھی نہیں لگتی۔

کوے کی طرح طوطا بھی مجھے پسند ہے۔ اسے لاکھ چُوری کھلائیں، بہت پیار سے میاں مٹھو کہہ کر پکاریں، اس کے باوجود یہ غلامی پسند نہیں کرتا چنانچہ پنجرے کا دروازہ کھلا پاتے ہی اڈاری مار دیتا ہے اور صیاد اپنے ہاتھ ملتا رہ جاتا ہے۔ اس کی اس آزاد پسندی کو سامراجی ذہن رکھنے والے لوگوں نے ’’طوطا چشمی‘‘ کا نام دے رکھا ہے۔ اگر یہ چاہتا تو چُوری کی لذت میں اپنی آزادی کو صیاد کے آگے رہن رکھ دیتا مگر یہ سمجھ دار جانور ہے، اسے میاں مٹھو کے پیار بھرے نام سے کیوں پکارا جاتا ہے۔ اُسے چُوری کیوں کھلائی جا رہی ہے، اسے اتنا پروٹوکول کیوں دیا جا رہا ہے؟ چنانچہ وہ اپنے بارے میں کسی غلط فہمی میں مبتلا ہونے کے بجائے اپنی لائن سیدھی رکھتا ہے۔ اس کی جگہ کوئی اور پرندہ ہوتا تو وہ اس ناز برداری کی بنیاد اپنی قابلیت قرار دے کر خود کو پرندوں کی ’’تھرڈ ورلڈ‘‘ کا سب سے بڑا لیڈر سمجھنے لگتا مگر یہ پرندہ انسانوں سے زیادہ سمجھدار ہے چنانچہ صیاد کے کسی چکر میں نہیں آتا۔ البتہ مجھے را طوطے اچھے نہیں لگتے، را طوطے وہ ہوتے ہیں جن کے گلے میں سنہری طوق ہوتا ہے اور یہ مالک کے رٹے رٹائے جملے بول کر اسے خوش کرنے کی کوشش میں مشغول رہتے ہیں۔ ان کی اپنی کوئی زبان نہیں ہوتی۔ ان کا اپنا کوئی ذہن نہیں ہوتا، بس جو پٹی انہیں پڑھا دی جائے وہ اسے دہراتے رہتے ہیں۔ اس سے ملتی جلتی مخلوق انسانوں میں بھی موجود ہے بلکہ اپنی اس خوبی کی بنا پر اعلیٰ مسندوں پر فائز ہے۔

جانوروں میں سے مجھے جرمن شیفرڈ بےحد پسند ہے۔ یہ بہت ذہین، تیز و طرار اور بہادر جانور ہے۔ میرے ایک دوست نے مجھے دو مہینے سے چکر دیا ہوا ہے کہ آپ کیلئے لا رہا ہوں۔ اس دوست نے اس کی اتنی خوبیاں گنوائی ہیں کہ میں بن دیکھے اس کا عاشق ہو گیا ہوں۔ یہ آپ ہی کا دوست نہیں بلکہ آپ کے دوستوں کا بھی دوست ہے چنانچہ آپ کے لئے، آپ کے گھر والوں کے لئے اور آپ کے دوستوں کے لئے یہ ریشم کی طرح نرم ہے اور آپ کے دشمنوں کے لئے اس سے زیادہ خونخوار اور کوئی نہیں۔ یہ گھر میں ہو تو کسی ڈاکو لٹیرے کی مجال نہیں کہ وہ اندر قدم رکھ سکے۔ یہ گھر کا محافظ ہے اور اپنے اس فرض کی ادائیگی میں اپنی جان بھی قربان کر دیتا ہے۔ آپ اسے جتنا پیار دیں گے یہ اس سے کئی گنا زیادہ آپ کو پیار دے گا۔ اس میں سونگھنے کی حس بہت زیادہ ہے۔ کھٹکا نہ بھی ہو تو بھی یہ دشمن کی بُو پا کر چوکنا ہو جاتا ہے۔ جس جرمن شیفرڈ میں یہ خوبیاں نہ ہوں سمجھ لیں وہ اصلی نہیں۔ دوست کا کہنا ہے کہ اسے گوشت ابال کر کھلانا چاہئے اگر آپ اسے کچا گوشت کھلائیں گے تو اس میں آہستہ آہستہ درندگی عود کر آئے گی اور یہ گھر والوں کی حفاظت کی بجائے گھر والوں پر حملہ آور ہو جائے گا۔ میرے ایک دوست نے یہ غلطی کی تھی جس کے نتیجے میں اس نے دو اہلِ خانہ کو بہت بری طرح کاٹ کھایا چنانچہ دوست کو اس کا ’’بندوبست‘‘ کرنا پڑا کیونکہ اب یہ جرمن شیفرڈ نہیں رہا تھا، کچھ اور بن گیا تھا۔

چوپایوں میں جو جانور مجھے سخت ناپسند ہے وہ بیل ہے۔ کتنا قوی الجثہ جانور ہے یہ، کتنے بڑے بڑے سینگ ہوتے ہیں اس کے، لیکن اس کے اتنے طاقتور ہونے کا کیا فائدہ کہ اسے جنگلی کتے ہی چیر پھاڑ کر کھا جاتے ہیں۔ یہ تو تیلیوں کے سامنے بھیگی بلی بن جاتا ہے جس کے نتیجے میں ساری عمر کوہلو کا بیل کہلاتا ہے۔ میرے سابقہ گھر کے سامنے سے ایک دبلا پتلا کالا بھجنگ بھنگی گندگی کے ڈھیر سے لدے گڈے کے آگے ایک خوفناک سینگوں والا بیل جوتے گلی میں سے گزرا کرتا تھا اور مجھے غصہ آتا تھا کہ اتنا طاقتور جانور سر جھکائے ایک دبلے پتلے بھنگی کے احکامات پر عمل کرنے میں مشغول ہے۔ وہ اگر چاہے تو اس بھنگی کو اپنے سینگوں میں پرو سکتا ہے لیکن ایک دن میں نے اس صورتحال پر غور کیا تو اِس نتیجے پر پہنچا کہ دراصل اس بیل کو اس کے مستقبل سے مایوس کر دیا گیا ہے۔ اس سے یہ احساس ہی چھین لیا گیا ہے کہ وہ اپنی طاقت میں جنگل کے سینکڑوں جانوروں سے کہیں آگے ہے، اسے غالباً بار بار ایک ’’ناکام بیل‘‘ ہونے کا طعنہ دیا گیا ہے جس کے نتیجے میں اب بھنگی کے چھانٹے کا اشارہ ہی اس کے لئے حکم کی حیثیت رکھتا ہے۔ یہ معاملہ قوموں کے ساتھ بھی ہوتا ہے جس قوم کو اس کے مستقبل سے مایوس کر دیا جائے اس کے کروڑوں عوام اپنی بےپناہ طاقت کے باوجود اپنی توانائیوں کو بروئے کار نہیں لا سکتے۔ کہیں پاکستان کے حوالے سے بھی’’ناکام ریاست‘‘ کی تکرار اسی لئے تو نہیں کی جاتی؟

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *

error: