’غیر واضح جنس والے بچے خواجہ سرا نہیں ہوتے‘

صوبہ پنجاب کے دارالحکومت لاہور کی رہائشی نگہت (فرضی نام) کے چار بچوں کی جنس پیدائش کے وقت واضح نہیں تھی۔ پیدائش کے کچھ ہی عرصے بعد اُن کے پہلے دو بچوں کی موت واقع ہو گئی۔

نگہت کے ہاں تیسری اولاد بظاہر ایک بیٹی کی صورت میں ہوئی مگر مسئلہ وہی تھا یعنی بچی کی جنس واضح نہیں تھی۔ وہ بتاتی ہیں کہ تین دن بعد بچی کا پیمپر بدلتے ہوئے انھیں ’عجیب سا محسوس ہوا‘ تو وہ اپنی بیٹی کو ڈاکٹر کے پاس لے گئیں۔

ڈاکٹر نے انھیں آگاہ کیا کہ اس بچی کی جنس بظاہر واضح نہیں ہے۔ اور پھر چوتھے بچے کی پیدائش پر ایک مرتبہ پھر یہی مسئلہ درپیش تھا، یعنی نگہت کے ہاں ہوا تو بیٹا پیدا تھا مگر اس کی جنس بھی واضح نہ تھی۔

ڈاکٹرز نے نگہت کو بتایا کہ آپریشن کے ذریعے اُن کی بیٹی اور بیٹے کو جنس ’اسائن' کیا جاسکتا ہے، یعنی جنس کا تعین آپریشن کے بعد ہی ہو سکتا ہے۔

نگہت بتاتی ہیں کہ ملنے والے مشوروں کے برعکس انھوں نے فیصلہ کیا کہ وہ اپنے رہ جانے والے دونوں بچوں کو خواجہ سراؤں کے حوالے کرنے کے بجائے اُن کی پرورش خود کریں گی۔

پاکستان میں غیر سرکاری اعداد و شمار کے مطابق تقریباً پانچ لاکھ جبکہ سرکاری اندازے کے مطابق ساڑھے 10 ہزار افراد ایسے ہیں جن کی جنس پیدائش کے وقت واضح نہیں تھی۔

بی بی سی نے گائناکالوجسٹ پروفیسر ڈاکٹر فریسا وقار سے نوزائیدہ بچوں میں پیدائشی جنسی نقائص سے متعلق بات کی ہے تاکہ یہ سمجھا جاسکے کہ یہ نقائص کیا ہیں اور ان کا حل کیسے ممکن ہے؟

نوزائیدہ بچے کن پیدائشی جنسی نقائص سے متاثر ہو سکتے ہیں؟

پیدائشی جنسی نقائص

ڈاکٹر فریسا کے مطابق بچے میں مندرجہ ذیل پیدائشی جنسی نقائص ہو سکتے ہیں:

  • غیرواضح جنس: جب بچے کے جسمانی اعضا دیکھ کر یہ تعین نہ کیا جا سکے کہ وہ لڑکا ہے یا لڑکی
  • جنسی اعضا میں سوزش: دورانِ حمل ماں کو دی جانے والی کچھ ادویات اگر بچے کے ایڈرینل غدود (گلینڈ) میں شامل ہو جائیں تو وہ اس کے جنسی اعضا میں سوزش کا باعث بن سکتی ہیں۔ ایسی صورت میں یہ بتانا مشکل ہو سکتا ہے کہ بچہ لڑکا ہے یا لڑکی
  • کلیٹورل سوزش: اگر ماں دورانِ حمل کوئی ایسی دوا لے رہی ہے جس میں ہارمونز شامل ہیں تو پیدا ہونے والی لڑکی کے جسمانی اعضا سوزش کی وجہ سے ایک لڑکے کے جسمانی اعضا سے مشابہت رکھ سکتے ہیں
  • ایکس وائے فیمیل: عالمی ادارہ صحت کے مطابق انسان کروموسومز کے 23 جوڑوں کے ساتھ پیدا ہوتا ہے۔ خواتین اور مردوں میں بالترتیب 46 ایکس ایکس اور 46 ایکس وائی کروموسومز ہوتے ہیں۔ ایکس وائے فیمیل کے طور پر پیدا ہونے والے لڑکوں کے جسمانی اعضا بالکل لڑکیوں جیسے ہوتے ہیں مگر بلوغت میں انھیں ماہواری نہیں آتی
  • ٹیسٹوسٹیرون/اینڈروجن کی ذیادتی: اس صورت میں پیدائش سے قبل ہی لڑکی کے جسم میں اینڈروجن یا ٹیسٹوسٹیرون نامی میل ہارمون کی زیادتی ہو جاتی ہے جس کی وجہ سے ان کا جسمانی عضو لڑکوں جیسا ہوتا ہے جبکہ ان کے بریسٹ ڈویلپ نہیں ہوتے اور بعد میں داڑھی بھی اُگ آتی ہے۔ اندرونی طور پر ایسے بچوں کا جسم لڑکیوں سے مشابہت رکھتا ہے کیونکہ ان میں اووریز موجود ہوتی ہیں
  • اینڈروجن اِن سینسِیٹیوٹی سینڈروم: اس نقص سے دوچار بچے ہوتے تو لڑکے ہیں لیکن ان کا جسم میل ہارمون اینڈروجن کو مسترد کر دیتا ہے جس کی وجہ سے وہ دکھنے میں لڑکی جیسے ہوسکتے ہیں۔

نوزائیدہ بچوں میں جنسی نقص کیوں واقع ہوتے ہیں؟

پیدائشی جنسی نقائص

ڈاکٹر فریسا کہتی ہیں کہ بچہ ایکس کروموسوم ماں سے لیتا ہے اور ایکس یا وائے کروموسوم والد سے لیتا ہے۔ جینیاتی نقص اس صورت میں واقع ہوتا ہے اگر وہ والد سے ایک ایکس اور وائے کروموسوم لینے کے بجائے دو ایکس یا وائے کروموسوم حاصل کر لے اور ایکس یا وائے کروموسوم کی تعداد دو کے بجائے تین ہو جائے۔

نقائص کا تعین کیسے کیا جائے؟

اس بارے میں ڈاکٹر فریسا کا کہنا ہے کہ جب بچہ پیدا ہوتا ہے تو بچوں کے ماہر ڈاکٹر کو اس کا مکمل طور پر معائنہ کرنا چاہیے، اس میں بچے کے جنسی اعضا کو چیک کرنا بھی شامل ہے تاکہ یہ جانکاری حاصل کی جا سکے کہ جنسی اعضا غیر معمولی تو نہیں۔

بچے کی پیدائش کے بعد ماں کو بچوں کے جسمانی اعضا میں ہونے والی تبدیلیوں سے متعلق جلد از جلد ڈاکٹر کو آگاہ کرنا چاہیے تاکہ بروقت علاج ممکن ہو سکے۔

ان جنسی نقائص کا حل کیا ہے؟

ڈاکٹر فریسا کے مطابق بچے کے جسمانی اعضا میں سوزش کی صورت میں بعض ادویات دی جاتی ہیں جن سے سوزش ختم ہو جاتی ہے۔

وہ واضح طور پر کہتی ہیں کہ پاکستانی معاشرے میں رائج عام خیال کے برعکس ’ایسے بچے خواجہ سرا نہیں ہوتے۔‘

ان کا مزید کہنا ہے کہ ایڈرینل ہائپو پلیژیا کہلانے والے اس نقص کا بروقت علاج کروانا ضروری ہے ورنہ بچے کی جان بھی جا سکتی ہے۔

جنس

انھوں نے کہا کہ کلیٹورل سوزش کی صورت میں بچی کی پیدائش کے کچھ عرصے بعد یہ سوزش خود بخود ختم ہو جاتی ہے جبکہ ماہواری نہ آنے کی صورت میں ایک لڑکی کے ایکس وائی فیمیل ہونےکا شبہ ہو سکتا ہے اور اس صورت میں ڈاکٹر سے رجوع کرنا چاہیے کہ آیا لڑکی میں ٹیسٹیز (مردانہ جنسی اعضا) موجود تو نہیں۔

اس صورت میں الٹراساؤنڈ کروا کر ٹیسٹیز کی موجودگی دیکھی جا سکتی ہے۔ ڈاکٹر فریسا کہتی ہیں کہ ٹیسٹیز ہونے کی صورت میں آپریشن کروانا لازمی ہے کیونکہ 30 فیصد امکان ہے کہ یہ کینسر کا سبب بن سکتا ہے۔

وہ کہتی ہیں کہ لڑکی کے لڑکوں جیسے دکھنے یا لڑکے کے لڑکیوں جیسا دکھائی دینے کی صورت میں جنس کی تبدیلی کے لیے بلوغت کے بعد ڈاکٹر سے رجوع کرنا چاہیے کیونکہ بلوغت کے بعد ہی جسمانی اعضا اپنی اصلی شکل میں آتے ہیں اور ماہر پلاسٹک سرجن ہی اس بات کا تعین کر سکتے ہیں کہ جسمانی اعضا کو سرجری کی ضرورت ہے یا نہیں۔

ڈاکٹر فریسا کے مطابق ’اگر آپ کو بچے کے جنس سے متعلق نہیں پتا چل رہی تو اس کا کیریو ٹائپنگ نامی خون کا ٹیسٹ ہو سکتا ہے جس سے جینیاتی طور پر بچے کے لڑکا یا لڑکی ہونے کا پتا چل سکتا ہے۔‘

دورانِ حمل ماں کو کن باتوں کا خیال رکھنا چاہیے؟

اس بارے میں ڈاکٹر فریسا کہتی ہیں کہ غیر واضح جنس موروثی بھی ہو سکتے ہیں، یعنی خاندان کے کسی فرد میں یہ جنسی نقص پہلے سے موجود ہو اور بعد میں بچے میں منتقل ہو جائے۔ اس صورت میں ماں کو چاہیے کہ ڈاکٹر سے رجوع کرے۔

ان کے مطابق ماں کو دورانِ حمل ادویات کے حوالے سے ڈاکٹر سے مشورہ کرنا چاہیے اور خاص خیال رکھنا چاہیے کیونکہ ’کچھ ادویات جسم میں ہارمون کی مقدار بڑھا سکتی ہیں جو بچے کی جنس پر اثر انداز ہو سکتے ہیں۔‘

error: