Site icon Dunya Pakistan

فارن فنڈنگ کیس: پی ٹی آئی کو صرف فنڈز ضبط ہونے کا خطرہ

پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کو غیر ملکی کمپنیوں اور شہریوں سے ملنے والے عطیات کے بارے میں حالیہ انکشافات سے شروع ہونے والی بحث میں شدت آتی جارہی ہے البتہ اسکروٹنی کمیٹی کی رپورٹ خود بتاتی ہے کہ حکمران جماعت پر پابندی لگنے کا کوئی خطرہ نہیں ہے۔

 رپورٹ کے مطابق اسکروٹنی کمیٹی کی رپورٹ میں کہا گیا کہ غیر ملکی فنڈنگ اور ممنوعہ ذرائع سے حاصل ہونے والی رقوم ایک جیسی نہیں ہیں اور ثابت ہونے پر ان کے الگ الگ نتائج ہوں گے۔

رپورٹ میں حنیف عباسی اور بینظیر بھٹو کے مقدمات میں سپریم کورٹ کے متعلقہ فیصلوں کا حوالہ دیا گیا اور کہا گیا ہے کہ پولیٹیکل پارٹیز آرڈر (پی پی او) کی شقوں اور ان قوانین کی غیر مبہم زبان سے یہ بات بالکل واضح ہے کہ ممنوعہ ذرائع سے حاصل ہونے والے عطیات پر فورم اور جرمانے کا تعین اس بات کا تعین کرنے کے لیے فورم اور جرمانے سے الگ ہیں کہ کیا کوئی جماعت غیر ملکی امداد یافتہ سیاسی جماعت ہے۔

رپورٹ میں نشاندہی کی گئی کہ ’اگر الیکشن کمیشن اس نتیجے پر پہنچتا ہے کہ کوئی کیس پی پی او کے آرٹیکل 6 (3) کے تحت آتا ہے تو اس پر جرمانہ اس طرح کی رقوم اور عطیات کی ضبطی ہے، تاہم یہ سیاسی جماعت پر پابندی نہیں لگا سکتا اور کارروائی صرف غیر ملکی امداد یافتہ سیاسی جماعتوں تک محدود ہے جس کا فیصلہ مناسب فورم کرے گا۔

اس طرح کے معاملات میں وفاقی حکومت کو اس سلسلے میں ایک اعلان کرنا پڑتا ہے اور پھر سپریم کورٹ کی جانب سے کسی فریق پر پابندی عائد کرنے سے پہلے ایک فیصلہ کیا جاتا ہے۔

آئین کے آرٹیکل 17 (3) کے تحت قانون کے مطابق ہر سیاسی جماعت کو اپنے فنڈز کے ذرائع کا حساب دینا ہوگا۔

پی پی او کا سیکشن 6 (3) بتاتا ہے کہ ’کسی بھی غیر ملکی حکومت، کثیر الملکی یا مقامی طور پر شامل عوامی یا نجی کمپنی، فرم، تجارتی یا پیشہ ورانہ ایسوسی ایشن کی جانب سے براہ راست یا بالواسطہ کوئی تعاون ممنوع ہوگا‘۔

پی پی او کا سیکشن 15 کسی سیاسی جماعت کو غیر ملکی امداد یافتہ قرار دینے کے طریقہ کار کو بیان کرتا ہے جبکہ سیکشن 2 'غیر ملکی امداد یافتہ سیاسی جماعت' کی اصطلاح کی وضاحت کرتا ہے۔

الیکشن کمیشن آف پاکستان (ای سی پی) کی اسکروٹنی کمیٹی نے اپنی رپورٹ میں کہا ہے کہ یہ کمیشن کا دائرہ اختیار ہے کہ وہ کسی سیاسی جماعت کے ممنوعہ ذرائع سے چندہ یا عطیات وصول کرنے کا تعین کرے۔

رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ یہ دائرہ اختیار صرف تیسرے فریق کی جانب سے قابل اعتماد اور قابل تصدیق معلومات کی وصولی پر، یا اس کی اپنی تحریک پر کسی بھی مناسب وقت یہاں تک کہ کسی سیاسی جماعت کو انتخابی نشانات الاٹ کیے جانے کے بعد بھی استعمال کیا جاسکتا ہے۔

رپورٹ کا کہنا ہے کہ ای سی پی کے پاس مطلوبہ معلومات اور حقائق مانگنے اور جمع کرنے کا تمام ضروری اختیار ہے جو اسے یہ فیصلہ کرنے اور اس بات کا تعین کرنے کے قابل بناتا ہے کہ کیا کسی پارٹی کی جانب سے قبول کردہ عطیات ممنوع ہیں یا نہیں۔

رپورٹ میں سیاسی جماعتوں کے قواعد کے رول 6 کا بھی حوالہ دیا گیا جس میں لکھا ہے کہ ’جہاں الیکشن کمیشن یہ فیصلہ کرتا ہے کہ سیاسی جماعتوں کی جانب سے رقوم یا عطیات، جو بھی معاملہ ہو، قبول کرنا آرٹیکل 6 کی شق 3 کے تحت ممنوع ہے، یہ اس بات سے مشروط ہوگا کہ متعلقہ سیاسی جماعت کو نوٹس اور سننے کا موقع دینے کے بعد اسے ریاست کے حق میں ضبط کر کے سرکاری خزانے میں جمع کروانے کی ہدایت کی جائے۔

تاہم اپنے سامنے موجود مواد کی بنیاد پر یہ فیصلہ اور اعلان کرنا وفاقی حکومت کا کام ہے کہ کوئی سیاسی جماعت غیر ملکی فنڈڈ ہے۔

اگر وفاقی حکومت کے اعلان کو سپریم کورٹ نے برقرار رکھا ہے تو پی پی او کے سیکشن 15 (3) کے مطابق غیر ملکی امداد یافتہ سیاسی جماعت فوری طور پر تحلیل ہو جائے گی۔

اس الزام پر کہ وزیر اعظم عمران خان نے بطور چیئرمین پی ٹی آئی اپنی حیثیت میں جھوٹے سرٹیفکیٹ پر دستخط کیے اور اس دعوے پر کہ انہیں آئین کے آرٹیکل 62 (1) (ایف) کے تحت نااہل قرار دیا جانا چاہیے، رپورٹ میں کہا گیا کہ یہ ممکن ہونے کے لیے سب سے پہلے یہ معلوم ہونا چاہیے کہ پی ٹی آئی ایک غیر ملکی امداد یافتہ جماعت ہے اور/یا اس نے ممنوعہ ذرائع سے چندہ اور عطیات وصول کیے ہیں۔

یہ ایک ایسا الزام ہے جس کی پارٹی سختی سے تردید کرتی ہے اور وزیر مملکت برائے اطلاعات فرخ حبیب نے اسکروٹنی کمیٹی کی رپورٹ منظر عام پر آنے کے بعد اپنی پارٹی کا دفاع کیا اور اصرار کیا کہ پارٹی کو ممنوعہ ذرائع سے کوئی فنڈنگ نہیں ملی۔

Exit mobile version