فالٹ لائن سے سرخ لکیروں تک

اردو صحافت کی لغت اور لہجے میں دیکھتے ہی دیکھتے بہت سی تبدیلیاں آ گئی ہیں۔ انگریزی الفاظ کا استعمال بڑھ گیا ہے۔ بہت سے لفظوں کی املا بدل گئی ہے، اور بہت سی تراکیب ایسی چلی آئی ہیں کہ مولانا غلام رسول مہر تو خیر جدید اردو صحافت کے معمار تھے، نوائے وقت کے موقر اداریہ نویس بشیر احمد ارشد مرحوم کی پیشانی پر بھی گہری لکیریں نمودار ہو جاتیں۔ کسی مہربان نے عوام کا صیغہ تبدیل کر کے اسم جمع مذکر کو اسم واحد تانیث میں بدل دیا۔ پہلے ’’عوام مطالبہ کرتے تھے‘‘۔ اب ’’عوام کہتی ہے‘‘۔ خیر سے ’’عام عوام‘‘ کا لفظ بھی دھڑلے سے استعمال ہو رہا ہے۔ نامعلوم اس سے کون مخلوق مراد ہے۔ ایک عزیز دوست تقریر و تحریر میں ’’عالمی دنیا‘‘ لکھتے اور بولتے ہیں۔ کسی سے کیا گلہ، ابھی گزشتہ کالم میں درویش نے سانس کو مذکر باندھ دیا۔ دوسری دفعہ نظر ڈالی تو غلطی کا احساس ہو گیا۔ درستی کی درخواست کی گئی۔ غالباً درست کرنا یاد نہیں رہا۔ اخبار چھپ کر آیا تو ’’سانس پھول گیا‘‘۔ جس روز ہم اہل پنجاب نے سانس اور پیاز کو مونث لکھنا اور بولنا سیکھ لیا، ہماری سانس میں سانچی پان کی خوشبو اتر آئے گی۔ دیکھئے یہ زبان کی معمولی لغزشیں ہیں۔ زبان ٹھہرا ہوا جوہڑ نہیں۔ علم، معاش اور انسانی میل جول کے بدلتے ہوئے آفاق میں زبان تو کیا، اقدار تک بدل جاتی ہیں۔ صحیح زبان لکھنا اور بولنا بہت خوب لیکن اصل توجہ ان فکری نکات اور سیاسی فیصلوں پر مرکوز رہنی چاہیے جو لاکھوں کروڑوں انسانوں کی زندگیوں پر اثرانداز ہوتے ہیں۔

دسمبر کا مہینہ دنیا بھر میں تفریح، تہوار اور جشن کا پیغام لاتا ہے۔ جن منطقوں میں برف کی سفید چادر نہیں بچھتی، وہاں بھی سورج کی تمازت میں ٹھنڈک اتر آتی ہے۔ ہماری تاریخ مگر ظالم ہے۔ ہماری بہتر سالہ تاریخ میں دسمبر کے مہینے میں چار واقعات ایسے گزرے کہ یہ مہینہ ہمارے لئے ماہ الحزن قرار پایا۔ سات دسمبر 1970کو عام انتخابات منعقد ہوئے۔ قوم نے پہلی بار کاغذ کے ایک ٹکڑے پر مہر لگا کر اپنے حکمران چنے تھے لیکن فیصلہ سازوں نے انتخابی نتائج ماننے سے انکار کر دیا۔ سات دسمبر کو جمہور کی بالادستی کا سورج طلوع ہونا تھا لیکن مقتدرہ کی غلطی نے ہمارے جسد ِ اجتماعی پر شکست کی مہر لگا دی۔ جمہور کے فیصلے سے انکار کا نتیجہ ٹھیک ایک برس بعد 16دسمبر 1971کو ڈھاکہ کے پلٹن گراؤنڈ میں سامنے آیا۔ ہماری تاریخ کا سیاہ ترین سانحہ جب ہم وطنوں کی اکثریت نے سیاسی اور معاشی استحصال کے خلاف احتجاج کرتے ہوئے اقلیتی حصے سے علیحدگی اختیار کر لی۔ 16دسمبر کی اس منحوس تاریخ نے 45برس بعد ایک بار پھر ہمارے دروازے پر دستک دی۔ پشاور کے آرمی پبلک اسکول میں ہمارے پھول نوچ لئے گئے۔ ان کمسن طالب علموں کی کتابیں لہو میں بھیگ گئیں جن کی قامت کے تابوت بھی دستیاب نہیں تھے۔ 16دسمبر 2014کی صبح پشاور میں بچوں کے لہو کی ہولی چند گمراہ افراد کا مجرمانہ فعل نہیں تھی۔ ہم نے ستمبر 2001میں دہشت گردی کو قطعی طور پر مسترد کرنے کے بجائے دو کشتیوں میں بیک وقت سفر کرنے کا فیصلہ کیا تھا۔ اے پی ایس کے سانحے اور ستر ہزار ہم وطنوں کی شہادت نے اسی غلطی سے جنم لیا۔ دو کشتیوں میں سفر کرنے والوں کے اثاثے ہوا میں معلق ہوتے ہیں اور انجام لہروں کے رحم و کرم پر ہوتا ہے۔ دسمبر ہی کے مہینے میں 27تاریخ بھی گزری۔ 2007کی اس شام لیاقت باغ راولپنڈی کے دروازے پر بینظیر بھٹو کو شہید کیا گیا تھا۔ بینظیر بھٹو کی شہادت حادثہ تھی اور نہ محض جرم، یہ عوام کی حکمرانی کے امکان کو دفن کرنے کی مجرمانہ سازش تھی۔

چار حادثے ہم نے گن لئے۔ ان میں کوئی ایک سانحہ ایسا نہیں جس کی جڑیں ماضی کے غلط فیصلوں میں نہ ہوں۔ ہم نے عنوان میں دو لفظ استعمال کئے، فالٹ لائن اور سرخ لکیر یعنی ریڈ لائن۔ فالٹ لائن زلزلے کا وہ امکان ہے جو زیر زمیں قوتوں کی کشمکش میں پوشیدہ ہوتا ہے۔ فالٹ لائن کو نظر انداز کرنے سے سطح زمیں پر ریڈ لائن (سرخ لکیر) نمودار ہو جاتی ہے جس کا کوئی مداوا نہیں ہوتا۔ میں ایک صحافی ہوں۔ میری فالٹ لائن اس خبر کو عوام تک پہنچانا ہے جسے کوئی روکنا چاہتا ہے۔ اخبار میں باقی جو کچھ چھپتا ہے وہ محض سرکاری پریس ریلیز ہے۔ صحافی کا امتحان اس فالٹ لائن کی اطلاع دینا ہے جو مستقبل میں سرخ لکیر میں بدل سکتی ہے۔ ممکن ہو تو لائبریری سے 1971کے اخبارات اٹھا کر دیکھئے۔ کیا صحافی نے 7دسمبر 1970کو پیدا ہونے والی فالٹ لائن کی خبر دی۔ اگر ایسا نہیں ہوا تو پچھلے 48برس میں سقوط ڈھاکا پر لکھے سب مرثیے بے معنی ہیں۔ عدالتوں میں ہر روز ہزاروں فیصلے دیے جاتے ہیں۔ منصف کا امتحان وہ مقدمہ ہے جس میں شہری آزادیوں اور دستور کی بالادستی کا سوال اٹھایا گیا ہو۔ تادم تحریر ہماری عدلیہ نے کبھی وہ فیصلہ نہیں دیا جو فالٹ لائن کے دہانے پر زلزلوں کی پیش بندی کر سکے۔اسی طرح اصل مسئلہ یہ بھی ہے کہ دستور کو منسوخ یا معطل کرنےوالوںکو کیسے روکا جائے؟ آج کل ہم وکلا اور ڈاکٹروں کے پیشہ ورانہ انحرافات سے دوچار ہیں۔ یہ سرخ لکیریں بھی راتوں رات نمودار نہیں ہوئیں۔ ہم نے نظام تعلیم کی فالٹ لائن میں بارودی سرنگیں بچھائی ہیں۔ ایک سوال ہماری معیشت کا بھی ہے۔ ہم کسی آتش بجاں کے انتظار میں ہیں جو کوہ طور سے دامن میں وہ چنگاری چھپائے نمودار ہو جس سے ہماری معیشت کے خرابے روشن ہوں۔ آسمانوں میں اندھیروں کے سوا کچھ بھی نہیں۔ فالٹ لائن زمیں کے نیچے ہوتی ہے اور سرخ لکیر زمیں کے اوپر نمودار ہوتی ہے۔ دسمبر سے لہو کی سرخ لکیریں مٹانے کے لیے لازم ہے کہ اب آنکھ زمیں پر اترے۔

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *