فرض کفایہ

شاکر حسین شاکر بڑا پیارا دوست ہے، بلکہ دوست بھی کہاں؟ یوں سمجھیں کہ چھوٹا بھائی ہے اور محبت کے بڑے اونچے درجے پر فائز ہے۔ دو تین روز قبل ملا تو پوچھنے لگا: خالد بھائی! آپ جوجنوبی پنجاب کے حقوق کے لئے لکھتے رہتے ہیں اور اس لکھنے لکھانے میں سب سے بگاڑے رکھتے ہیں۔ آپ کے لکھنے کا کوئی فائدہ؟ آپ کے اس لکھنے سے، سوائے آپ کے لوگوں سے تعلقات خراب ہونے کے، اور کیا نتیجہ نکلتا ہے؟ آپ نے کالم لکھا کہ آپ کے ایک پرانے دوست کو وزیراعلیٰ نے تین یونیورسٹیوں کی سنڈیکیٹ کا ممبر بنا دیا ہے۔ اس کالم کا کوئی اثر ہوا؟ الٹا یہ ہوا کہ آپ کے ہی کالم سے پتا چلا کہ اب آپ کے دوست کو وزیراعلیٰ صاحب نے اپنا اثرورسوخ استعمال کرتے ہوئے دو عدد یونیورسٹیوں میں گریڈ اٹھارہ سے یکدم گریڈ اکیس میں فل پروفیسر لگوا دیا ہے۔ آپ نے سرگودھا یونیورسٹی کے وائس چانسلر کے بارے میں لکھا کہ اس کی انکوائری رپورٹ وزیراعلیٰ کی میز پر صرف ایک دستخط کی منتظر پڑی ہے۔ آپ کے کالم کے بعد یہ فائل غالباً میز سے اٹھوا کر الماری میں رکھوا دی گئی ہے۔ آپ نے ان کے ایک عزیز کے خلاف پورا کالم ضائع کر دیا۔ ان محترم کی تقرری اسی طرح ہے۔ ایسے میں مسلسل لکھنے کا فائدہ؟
میں بھلا شاکر کی بات کیا جواب دیتا۔ اس کی باتیں اپنی جگہ سچ ہی تھیں۔ مجھے خاموش دیکھ کر کہنے لگا: میں آپ کو عرصہ سے سمجھانے کی کوشش کر رہا ہوں کہ ان تلوں میں تیل نہیں ہے۔ آپ فضول میں لکھ لکھ کر ''پھاوے‘‘ ہو رہے ہیں۔ یہاں کسی پر کوئی اثر نہیں ہو رہا۔ سب اپنے اپنے مفادات میں لگے ہوئے ہیں۔ آپ کو پتا تھا کہ آپ کا کالم پھوپھا محترم کا بال بھی بیکا نہیں کر سکے گا۔ آپ کو بخوبی اندازہ تھا کہ اس کالم کے باوجود انہوں نے ملتان میں آ کر اپنے عہدے پر بیٹھ جانا ہے۔ آپ سمجھداری سے کام لیتے اور پھوپھا کی تقرری پر داد دیتے۔ ان کی تعریف میں چار سطریں لکھتے۔ ان کی بطور والی وال کھلاڑی توصیف کرتے۔ ان کی سمجھداری اور عقلمندی کی داد دیتے کہ کس طرح گریڈ سترہ میں ہونے کے باوجود وہ اپنی خداداد صلاحیتوں کے طفیل دو تین اضلاع میں ڈی پی او رہے حالانکہ گریڈ اٹھارہ کے کئی پولیس افسر موجود تھے مگر وہ ڈی ایس پی کے گریڈ کے حامل ہو کر ڈی پی او شپ فرماتے رہے۔ پھر وہ مجھے دیکھ کر مسکرایا اور کہنے لگا: آپ الحمدللہ بڑے اچھے دوست ہیں لیکن ایسے معاملات میں آپ اپنے ساتھ اپنے دوستوں کے لئے بھی نہایت ہی بے فائدہ شخص ثابت ہوتے ہیں۔
میں نے حیرانی سے پوچھا وہ کیسے؟ شاکر میاں! آپ تو مجھے اچھی طرح جانتے ہیں پھر بھی آپ ایسی بات کہہ رہے ہیں؟ شاکر مسکرا کر کہنے لگا: آپ بات کو کسی اور طرف لے جا رہے ہیں۔ میرا مطلب تھا کہ آپ اگر ملتان کے سیاستدانوں، اعلیٰ افسران اور دیگر طاقتور لوگوں سے اپنے تعلقات بھلے ٹھیک نہ کریں تاہم ہمہ وقت کی کوششوں سے ان سے اپنے تعلقات کو جس طرح آپ خراب کرنے میں لگے رہتے ہیں اگر یہ نہ کریں تو کم از کم اپنے دوستوں کے کام تو آسانی سے کروا سکتے ہیں۔ ویسے بھی آپ ان کا بگاڑ تو کچھ سکتے نہیں۔ پھر خواہ مخواہ صرف تعلقات کی خرابی کے علاوہ آپ کے ہاتھ کیا آتا ہے؟ تین یونیورسٹیوں کی سنڈیکٹ کا ممبر بننے پر جو کالم آپ نے اپنے سابقہ دوست کے بارے میں لکھا اس کا کیا ہوا؟ وہ اب بھی اسی طرح تین جامعات کی سنڈیکیٹ کا ممبر ہے۔ میں نے قطع کلامی کرتے ہوئے کہا کہ شاکر آپ اسے میرا سابقہ دوست کیوں کہہ رہے ہیں، وہ میرا اب بھی دوست ہے۔ شاکر طنزیہ سی ہنسی ہنس کر کہنے لگا: یہ آپ کا خیال ہے کہ وہ اب بھی آپ کا دوست ہے‘ دوستی بھی گئی اور وہ خیر سے اکیسویں گریڈ میں یونیورسٹی میں پروفیسر بھی لگ گیا۔ اس ساری کالم بازی میں یہ ہوا کہ آپ کا ایک اور دوست آپ کے ہاتھ سے چلا گیا۔ ایک اور دوست؟ میں نے حیرانی سے پوچھا شاکر کہنے لگا: جی ہاں! ایک اور دوست، آپ پر حق گوئی کا جو خبط سوار ہے اس کا یہی نتیجہ نکلنا تھا۔
آپ وزیراعلیٰ کے قریبی رشتے دار سے تعلقات خراب کرنے کے بجائے بہتر کرتے تو اگلے تین سال اپنا نہ سہی، دوستوں کا بھلا کر سکتے تھے۔ پورے شہر میں کسی سیاستدان سے آپ کے تعلقات ٹھیک نہیں ہیں۔ صرف لے دے کر ایک جاوید ہاشمی ہیں، جس سے آپ کے تعلقات خراب ہونے کے بعد پھر ٹھیک ہو جاتے ہیں اور اس کی وجہ بھی صرف یہ ہے کہ جاوید ہاشمی صاحب آپ کے مینوفیکچرنگ فالٹ کے ساتھ سمجھوتہ کر چکے ہیں اور اپنے مرحوم چھوٹے بھائی مختار شاہ کا دوست ہونے کی وجہ سے آپ سے پھر نارمل ہو جاتے ہیں وگرنہ آپ نے کسی سے تعلقات کو ٹھیک نہ رکھنے کی گویا قسم کھا رکھی ہے۔ سابقہ ڈسٹرکٹ ناظم مرحوم پیر ریاض قریشی ہر مہینے آپ کے بارے مجھ سے گلہ کرتے تھے‘ میں نے کئی دفعہ آپ کی ان سے صلح کروائی مگر آپ اس صلح کے عین چوتھے دن پھر ان کے خلاف کالم لکھ کر حالات کو وہیں لے آتے تھے، جہاں سے آغاز ہوا تھا۔ عامر ڈوگر، مرحوم صلاح الدین ڈوگر، حافظ ا قبال خاکوانی، غفار ڈوگر، مرحوم حاجی بوٹا، حامد سعید کاظمی، شیخ طاہر رشید، مرحوم حامد رضا گیلانی، سید یوسف رضا گیلانی، شاہ محمود قریشی، فیصل مختار، رانا محمود الحسن، ملک رفیق رجوانہ، شہزاد مقبول بھٹہ، رائے منصب، جاوید علی شاہ، سید فخر امام، ڈاکٹر اخترملک، نوید ارائیں، سلیم لابر اور دیوان عاشق بخاری کے علاوہ اور بے شمار لوگ جن کے مجھے نام اس وقت یاد نہیں آ رہے، کسی سے آپ تعلقات ٹھیک ہوں؟ کسی سے ڈھنگ کی بول چال ہو؟ کسی کا نام بتائیں؟
میں نے کہا شاکر میاں! آپ کا کیا خیال ہے مجھے اپنے بارے میں کوئی غلط فہمی ہے؟ ہرگز نہیں! مجھے علم ہے کہ میرا کالم ان میں سے کسی کا کچھ نہیں بگاڑ سکتا۔ مجھے پتا ہے کہ سب اپنے اپنے مفادات سے وابستہ ہیں اور اس عاجز کی کسی نے نہیں سننی۔ میں تو ایمان کے دوسرے درجے پر فائز شخص ہوں جو خرابی کو خرابی اور غلط کو غلط کہنے کی اپنی سی سعی کر رہا ہے۔ یہ ایمان کا دوسرا درجہ ہے، ہم گنہگار پہلے درجے کے قابل نہیں تو کیا اب اس دوسرے درجے سے بھی تائب ہو جائیں؟ روز محشر اپنی روزی کو کس طرح حلال ثابت کر پائیں گے۔ ''آج مرے، کل دوسرا دن‘‘کسی نے یہاں سے جانے کے بعد تو یاد بھی نہیں کرنا لیکن آگے کا حساب تو میں نے ہی دینا ہے۔ ہم اس حساب کے بھی کہاں قابل ہیں؟ بس اس کی رحمت کا آسرا ہے۔ زیادہ گزر گئی ہے تھوڑی رہ گئی ہے وہ بھی اسی طرح گزر جائے جیسی زیادہ گزارلی ہے۔
گزشتہ روز شاکر کا فون آیا کہنے لگا: لیں جی! اس بار تو آپ کی سنی گئی میں نے حیرانی سے پوچھا کیا ہوا ہے؟ شاکر کہنے لگا وہ نوٹیفکیشن واپس ہو گیا ہے میں نے پوچھا پھوپھا جی والا؟ شاکر زور سے ہنسا اور کہنے لگا۔ نہیں! جنوبی پنجاب سیکرٹریٹ کو لپیٹنے والا نوٹیفکیشن واپس ہو گیا ہے۔ چلیں آپ کے کسی کالم کی تو سنی گئی۔ میں نے کہا شاکر میاں! مجھے اس بارے میں قطعاً کوئی غلط فہمی ہے اور نہ ہی کوئی خوش فہمی۔ سرکار نے گزشتہ ہفتے سے کوئی یوٹرن نہیں لیا تھا اور ادھر بڑی اداسی چھائی ہوئی تھی۔ سو انہوں نے محض یوٹرن سے اپنی ازلی محبت اور وفاداری کو قائم و دائم رکھنے کی غرض سے یہ نوٹیفکیشن واپس لیا ہے۔ اگر میرے کالم کا کوئی اثر ہوتا، کسی کو خیال آتا تو وہ والا نوٹیفکیشن واپس ہوتا جس میں اقرباپروری کا ریکارڈ توڑا گیا ہے۔ لیکن مجھے پتا ہے کہ یہاں کسی پر کچھ بھی لکھ لیں اثر نہیں ہوتا۔ اگر ایسا ہوتا تو بذات خود وزیر اعلیٰ صاحب نہ اب تک فارغ ہوگئے ہوتے؟ ہم تو لکھ کر فرض کفایہ ادا کررہے ہیں۔ یہ جو ''امر بالمعروف و نہی عن المنکر‘‘ کا حکم ہے نا! یہ فرضِ کفایہ ہے۔

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *