فروری میں مہنگائی کی شرح 8.7 فیصد تک بڑھ گئی

اسلام آباد: فروری کے مہینے میں اشیا کی قیمتوں میں اضافہ دیکھنے میں آیا جہاں مہنگائی کی شرح جنوری کے 5.7 فیصد کے مقابلے میں بڑھ کر 8.7 فیصد ہوگئی۔

 رپورٹ کے مطابق پاکستان بیورو آف شماریات (پی بی ایس) کے مطابق مہنگائی میں ماہانہ 1.8 فیصد اضافہ کھانا پکانے کے تیل، دالوں، پیٹرولیم مصنوعات اور صارفین کے لیے بجلی کی قیمتوں میں اضافے کی وجہ سے ہوا۔

توانائی کی قیمتوں میں اضافے کی وجہ سے خوراک کے سوا دیگر اشیا کی مہنگائی گزشتہ چند ماہ سے مستقل طور پر عروج پر ہے۔

فروری کے مہینے میں مہنگائی میں اضافے کے بارے میں کابینہ کے کسی بھی وزرا کی طرف سے کوئی باضابطہ بیان سامنے نہیں آیا۔

وزیر برائے صنعت حماد اظہر قومی پرائم مانیٹرنگ کمیٹی کو ہفتہ وار بنیادوں پر گھی اور کھانا پکانے کے تیل کی قیمتوں پر قابو پانے کے اقدامات کے بارے میں یقین دہانی کراتے رہے ہیں۔

تاہم خوردنی تیل/ ویجیٹبل گھی کی قیمتوں میں کوئی کمی نہیں دیکھی گئی جبکہ اس کے برعکس یوٹیلیٹی اسٹورز کارپوریشن میں ویجیٹیبل گھی کی قیمتوں میں اضافہ کیا گیا ہے۔

مقامی سطح پر پیداوار میں کمی کے ساتھ رواں مالی سال کے آغاز میں مہنگائی جولائی میں 9.3 فیصد پر تھی جو اگست میں کم ہوکر 8.2 فیصد پر آئی جس کے بعد ستمبر میں 9 فیصد تک پہنچ گئی تھی۔

ستمبر کے بعد سے مہنگائی کمی کے راستے پر گامزن تھی جس سے صارفین کو کچھ ریلیف ملا تھا۔

سی پی آئی میں اوسطاً کمی

فروری میں صارفین کی چند اشیا اور توانائی کی قیمتوں نے ایک بار پھر مہنگائی کو آگے بڑھایا۔

اس کے نتیجے میں شہری اور دیہی علاقوں میں غذائی افراط زر دو ہندسوں میں داخل ہوا ہے۔

چند اشیائے خورونوش کی قیمتیں اب بھی اوپر کی طرف جارہی ہیں تاہم جولائی سے فروری کے درمیان، 8 ماہ میں اوسطاً کنزیومر پرائز انڈیکس (سی پی آئی) گزشتہ سال کے 11.71 فیصد کے مقابلے میں اس سال 8.25 فیصد تک محدود رہا۔

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *