فریدہ ترین: بلوچستان میں خاتون افسر کے ڈیڑھ ماہ میں چار مرتبہ تبادلے پر حکومت پر تنقید

صوبہ بلوچستان کی حکومت کو دو روز سے ایک خاتون افسر کے حوالے سے شدید تنقید کا سامنا ہے اور سوشل میڈیا پر یہ تنقید جس انداز سے ٹرینڈ کرتی رہی اس کا عنوان تھا ’باپ کی شکار اسسٹنٹ کمشنر فریدہ ترین۔‘

یاد رہے کہ ’باپ‘ بلوچستان کی حکمران جماعت‘ بلوچستان عوامی پارٹی (بی اے پی) کا مخفّف ہے۔

حکومت یا حکمران جماعت پر یہ تنقید اس لیے کی گئی کہ خاتون افسر فریدہ ترین کا ایک ڈیڑھ مہینے کے مختصر عرصے میں چار مرتبہ تبادلہ اور پوسٹنگ کی گئی، جس کی ماضی میں بلوچستان میں نظیر ملنا مشکل ہے۔

ٹوئٹر پر صارفین نے اسے فریدہ ترین کے ساتھ امتیازی سلوک اور بے انصافی قرار دیا، تاہم حکومت بلوچستان کے ترجمان نے خاتون افسر کو امتیازی سلوک کا نشانہ بنانے کے الزامات کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ ٹرانسفر اور پوسٹنگ ملازمت کا حصہ ہیں۔

فریدہ ترین کون ہیں؟

فریدہ ترین کا تعلق بنیادی طور پر کوئٹہ کے قریب افغانستان سے متصل بلوچستان کے سرحدی ضلع پشین سے ہے۔ وہ پشتونوں کے معروف قبیلہ ترین سے تعلق رکھتی ہیں جو کہ ضلع پشین اور کوئٹہ کے علاوہ بلوچستان کے یگر علاقوں میں بھی آباد ہیں۔

انہوں نے ابتدائی تعلیم کوئٹہ سے حاصل کی تاہم یونیورسٹی آف بلوچستان سے پرائیویٹ حیثیت میں گریجوئیشن کرنے کے بعد فریدہ ترین نے لاہور سے سیاسیات میں ایم اے کی ڈگری حاصل کی۔

انہوں نے 2017 میں بلوچستان پبلک سروس کمیشن سے اسسٹنٹ کمشنر کی آسامیوں کے لیے مقابلے کا امتحان پاس کیا اور ان کی پہلی تقرری اسسٹنٹ سیٹلمنٹ آفیسر کی حیثیت سے ہوئی۔

اس تقرری کے بعد وہ فروری 2021 تک مختلف عہدوں پر کام کرتی رہیں لیکن 11فروری سے 16مارچ تک کے مختصر عرصے میں ان کی چار مرتبہ ٹرانسفر اور پوسٹنگ ہوئی۔

فریدہ ترین کا تبادلہ کہاں کہاں ہوا؟

فریدہ ترین
،تصویر کا کیپشنبلوچستان میں انتظامی عہدوں پر خواتین کی تعداد ملک کے دیگر صوبوں کی نسبت کم ہے۔

11فروری 2021 سے پہلے وہ چیف سکریٹری کے دفتر میں قائمقام ڈپٹی سکریٹری (اسٹاف) تھیں۔ حکومت بلوچستان کی جانب سے جاری ہونے والے ایک نوٹیفیکیشن کے مطابق 11فروری 2021 کو ان کی تعیناتی اسسٹنٹ کمشنر سٹی کوئٹہ کی حیثیت سے کی گئی لیکن اس عہدے کا چارج سنبھالنے سے پہلے ہی ان کی اس تقرری کو روک دیا گیا۔

16فروری کو ایک اور نوٹیفیکیشن جاری کیا گیا جس میں ان کو قائم قام ڈپٹی سیکریٹری (اسٹاف ) چیف سیکریٹری سے سیکشن آفیسر سروسز (تھری) سروسز اینڈ جنرل ایڈمنسٹریشن مقرر کر دیا گیا۔

محض نو روز بعد ،یعنی 25 فروری کو ایک اور نوٹیفیکیشن کے ذریعے ان کو سیکشن آفیسر (تھری) سے ایس اینڈ جی اے ڈی میں ہی سیکشن آفیسر (ون) تعینات کیا گیا۔

یہ سلسلہ یہاں پر نہیں رکا اور 16مارچ کو ایک اور نوٹیفیکیشن کا اجراء کر کے انھیں سیکشن آفیسر کامرس اینڈ انڈسٹریز مقرر کیا گیا۔

ٹوئٹر پر ایک صارف ابرابر احمد نے فریدہ ترین کی ٹرانسفر اور پوسٹنگ کے نوٹیفیکشنس کو شیئر کرتے ہوئے لکھا ’بلوچستان میں ایک خاتون افسر کے ساتھ کیسا سلوک کیا جارہا ہے۔ فریدہ ترین کی دو ماہ میں پانچ مرتبہ ٹرانسفر پوسٹنگ کی گئی۔‘

حکومت بلوچستان کا موقف کیا ہے؟

فریدہ ترین کی مختصر عرصے میں بار بار ٹرانسفر پر حکومت بلوچستان کے ترجمان لیاقت شاہوانی نے کہا ہے کہ یہ کوئی امتیازی سلوک نہیں ہے۔

انہوں نے فون پر بی بی سی کو بتایا کہ ٹرانسفر اور پوسٹنگز معمول کا حصہ ہیں جسے امتیازی سلوک نہیں قرار دیا جاسکتا ہے ۔

انہوں نے اس حوالے سے ایک ٹویٹ بھی کیا جس میں انھوں نے کہا کہ ’محترمہ فریدہ ترین بلوچستان کی قابل آفیسر ہیں۔ پوسٹنگ اور ٹرانسفر معمول کا معاملہ ہے اور افسروں کی ٹرانسفر کو سیاسی رنگ دینا افسوسناک ہے۔ بلوچستان حکومت کے لیے تمام افسر قابل احترام ہیں اور تمام کی صلاحییتیں عوام کی خدمت کے لیے صرف ہو رہی ہیں۔ ہمارے افسر ہمارا افتخار ہیں۔‘

بغیر جواز کے کسی افسر کو کتنے عرصے تک ٹرانسفر نہیں کیا جاسکتا ہے؟

کسی جگہ پر ایک سرکاری افسر یا ملازم کے ٹرانسفر کو کتنا عرصہ پہلے درست نہیں سمجھا جاتا ہے؟ یہ سوال میں نے بلوچستان کے سینیئر قانون دان اور سپریم کورٹ بار ایسوسی ایشن کے سابق صدر سینیٹر کامران مرتضیٰ ایڈووکیٹ سے پوچھا تو ان کا کہنا تھا کہ سپریم کورٹ کے فیصلوں کے مطابق ایک جگہ پر ایک سرکاری افسر یا ملازم کی تعیناتی کم از کم تین سال تک ہونی چائیے۔

ان کا کہنا تھا کہ سپریم کورٹ نے نہ صرف انیتا تراب کیس میں یہ قرار دیا ہے بلکہ حال ہی بلوچستان کے ایک سینیئر افسر ڈاکٹر عمر بابر کے کیس میں بھی یہی قرار دیا کہ کسی جائز جواز کے بغیر کسی آفیسر کو تین سال سے پہلے ٹرانسفر نہیں کرنا چائیے۔

ان کا کہنا تھا کہ عام طور پر جو سرکاری نوٹیفیکیشن جاری کیے جاتے ہیں ان میں یہ لکھا جاتا ہے کہ یہ فیصلہ عوامی مفاد میں کیا گیا ہے، تاہم کامران مرتضیٰ ایڈووکیٹ کا کہنا تھا کہ صرف عوامی مفاد لکھنا کافی نہیں ہے بلکہ اس کے ساتھ جائز جواز فراہم کرنا چائیے مثلاً مذکورہ افسر یا ملازم نااہل ہے، اس پر بدعنوانی کا کوئی الزام ہے یا کسی اور جائز وجہ کا حوالہ ہونا چائیے۔

فریدہ ترین

بلوچستان میں کتنی خواتین اسسٹنٹ کمشنر کام کررہی ہیں؟

بلوچستان میں انتظامی عہدوں پر خواتین کی تعداد ملک کے دیگر صوبوں کی نسبت کم ہے۔

چھ سات سال قبل بلوچستان کے کسی بھی علاقے میں کوئی خاتون اسسٹنٹ کمشنر تعینات نہیں تھی لیکن گزشتہ چھ سات سال کے دوران اسسٹنٹ کمشنر کے عہدوں پر بھی خواتین کی تعیناتی کا سلسلہ شروع ہوا۔

اس وقت بلوچستان میں 8 سے زیادہ خواتین اسسٹنٹ کمشنر کے طور پر کام کر رہی ہیں تاہم ایک خاتون اسسٹنٹ کمشنر نے بتایا کہ یہ تعداد 10سے زیادہ ہے۔

ان خواتین اسسٹنٹ کمشنر کی تعیناتی بلوچستان کے دوردراز کے علاقوں میں بھی کی گئی۔

کسی خاتون افسر کے ساتھ مبینہ امتیازی سلوک کا یہ پہلا موقع نہیں۔

میں نے فریدہ ترین سے فون پر بات کی لیکن انہوں نے اس معاملے پر اپنا موقف دینے سے انکار کرتے ہوئے کہا کہ وہ سرکاری ملازم کی حیثیت سے بات نہیں کر سکتیں۔

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *

error: