فن اور فنکار کا میوزیم۔ٹیٹ بریٹن

لندن دنیا کا خوبصورت اور معروف شہر ہے۔اس میں دو رائے نہیں ہیں۔اس کے علاوہ لندن ایک تاریخی شہر بھی ہے اوراس کی مخصوص پہچان یہاں کی تاریخی عمارتیں،معروف شاپنگ سینٹر، ثقافت، تعلیی نظام،پب، تھیٹر،میوزیم،صاف ستھری سڑکیں اور فوٹ پاتھ کے علاوہ ٹرانسپورٹ کا عمدہ نظام،کھانے پینے کے معروف ریستوران، اور ہرے بھرے پارکوں سے ہے۔ جس کی وجہ سے لندن کا مقام دنیا کے ان شہروں میں ہوتا ہے جو اعلیٰ اور قابلِ دید سمجھے جاتے ہیں۔

آج بھی لندن شہر دیکھنے اور اس کی سیر کرنے کے لئے دنیا بھر سے لوگ آتے ہیں۔ مسافروں کی سہولت کے لئے لندن میں پانچ ائیر پورٹ بنائے گئے ہیں جو اس بات کا ثبوت ہے کہ یہاں کتنی بڑی تعداد میں دنیا بھر سے لوگ آتے جاتے رہتے ہیں۔اس کے علاوہ لندن کو دنیا کا فنانس سینٹر بھی مانا جاتا ہے۔ جہاں دنیا کے زیادہ تر بینکوں کے مراکز ہیں۔

مجھے 1993میں روزگار کے حوالے سے لندن پہلی بار آنے کا موقعہ ملا۔ یقین جانئیے ہم بھی لندن سے پیار کر بیٹھے اور لندن کے خوبصورت گیسو میں ایسے الجھے کہ اب تک لندن کو سینے سے لگائے گھوم رہے ہیں۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ اب لندن پرایا بھی نہیں بلکہ اپناشہر لگنے لگا ہے۔یہاں کی سڑکیں اور گلیاں اب انجان نہیں لگتی ہیں اوریہاں کے لوگ اجنبی نہیں دکھتے ہیں۔ لندن کے لوگوں کی شائستگی اور تہذیب کو دیکھ کر فخر محسوس کرتاہوں۔تہذیب کا کیا کہنا،چاہے راستے میں ہوں یا دفتر میں ہر کوئی تہذیب کے دائرے میں پایا جاتا ہے۔ لندن والوں میں وقت کی پابندی مثالی ہے۔جس سے وقت کی قدر اور ان کی ترقی کا احساس ہوتا ہے۔

اگر میں یہ کہوں کہ لندن میں پوری دنیا بسی ہے تو شایداس میں مبالغہ نہیں ہوگا۔ لندن میں دنیا کے تقریباً ہر ملک کے لوگ پائے جاتے ہیں۔ جس سے اس بات کا احساس نہیں ہوتا ہے کہ آپ ایک خاص علاقے یا ایک خاص قوم کے ساتھ رہ رہے ہیں بلکہ ایسا محسوس ہوتا ہے کہ لندن میں پوری دنیا سمائی ہوئی ہے۔

کئی دنوں سے میری خواہش ہو رہی تھی کہ کچھ وقت نکال کر اب لندن گھومنا چاہیے۔ ویسے بھی پچھلے تیس برسوں میں بمشکل ہی لندن اور برطانیہ کی سیر کر پایا ہوں۔ ایک تو کام و کاج کا دباؤ اور دوسرا دیگر ممالک کی سیر کا چسکا، جس کی وجہ سے ہمیں جب چھٹی ملتی ہم کوئی اور ملک نکل جاتے ہیں۔ خیر کورونا وبا کی وجہ سے زندگی میں جن کئی باتوں میں تبدیلی آئی ہے اس میں یہ بھی آیا کہ اب زندگی جب تک سلامت ہے کیوں نہ دھیرے دھیرے لندن اور برطانیہ کی خوب سیر کی جائے۔

ہفتہ 18/ ستمبر کو میں اپنے واکنگ پارٹنر(چہل قدمی کے ساتھی) غلام دودیا اور پرکاش پٹیل جو پیشے سے اکاونٹنٹ ہیں، کے ہمراہ لندن کا معروف ٹیٹ بریٹن دیکھنے کو نکل پڑے۔ رینس پارک اسٹیشن سے ٹرین پر سوار ہو کر واکسل اسٹیشن پہنچا۔ یہاں بتاتا چلوں کہ واکسل اسٹیشن کے قریب ہی کرکٹ کا معروف اسٹیڈیم اوول واقع ہے۔ اسٹیشن سے لگے انڈر گراأنڈ پر سوار ہو کر وکٹوریہ اسٹیشن پہنچے اور پھر چہل قدمی کرتے ہوئے ہم معروف ٹیٹ بریٹن پہنچ گئے۔ٹیٹ بریٹن میں داخل ہوتے ہی سیکوریٹی کے عملے نے چیک کرنے کے بعد ہمیں اندر داخل ہونے کی اجازت دی۔

ٹیٹ برطانیہ کا ایک معروف میوزیم ہے جو 1897سے1932تک نیشنل گیلری آف برٹش آرٹ اور 1932سے2000تک ٹیٹ گیلری کے نام سے جانا جاتا ہے۔یہ لندن کے ویسٹ منسٹر علاقے کے مل بینک (جہاں لیبر پارٹی کا ہیڈ کواٹر بھی ہے) پر ایک آرٹ میوزیم ہے۔ یہ انگلینڈ میں گلیریوں کے نیٹ ورک کا حصہ ہے۔جس میں ٹیٹ مارڈن، ٹیٹ لیور پول اور ٹیٹ سینٹ آیوس شامل ہیں۔ یہ گیلریوں کے نیٹ ورک کی سب سے پرانی گیلری ہے جو 1897میں کھولی گئی تھی۔ اس میں برطانیہ کے فن کا کافی ذخیرہ موجود ہے جو ٹیوڈر دور سے ہے اور خاص طور پر جے ایم ڈبلو ٹرنر کے کاموں کا بڑا ذخیرہ ہے۔ جنہوں نے اپنے تمام مجموعے کو قوم کے حوالے کیا۔یہ برطانیہ کے سب سے بڑے عجائب گھروں میں سے ایک ہے۔یہ دنیا کے سب سے زیادہ دیکھے جانے والے آرٹ میوزیم کی فہرست میں 52ویں نمبر پر ہے۔

ٹیٹ بریٹن برطانوی فن کو سمجھنے اور اس سے لطف اندوز ہونے کا عالمی مرکز ہے اور بین الاقوامی سطح پر برطانوی فن میں دلچسپی کو فروغ دیتا ہے۔اس میں برٹش آرٹ کی نمائش کئی طریقے سے کئے گئے ہیں۔ اس میوزیم میں تاریخی، بیسویں صدی اور معاصر برطانوی فن کی پیشکش کے لیے وقف ہیں۔ اس کے ساتھ خصوصی طور پر آرٹ انفرادی فنکاروں اور برطانوی فن کے خاص پہلوؤں کو دکھایا گیا ہے۔اس کے علاوہ کلور گیلری رومانٹکس کے کاموں کو دکھاتی ہے جس میں معروف فنکار جے ایم ڈبلو ٹرنر، ولیم بلیک اور جان کانسٹبل شامل ہیں۔

ٹیٹ بریٹن میں کئی کمرے ہیں جہاں مختلف فنکاروں کے فن کی نمائش کی گئی ہے۔ایک کمرے میں بیسویں صدی میں برطانوی آرٹ کی ترقی کے حوالے سے کئی آرٹ لگے ہوئے ہیں۔ ان میں مشہور فنکار وہسٹلر، باربراہیپ ورتھ، فرانسس بیکن اور ڈیوڈ ہاکنی شامل ہیں۔اس کے علاوہ معاصر برطانوی فن کے کچھ مشہور نام بھی نمائش میں نمایاں ہیں جن میں ڈیمین ہرسٹ، سیریتھ وین ایونز اور مائیک نیلسن کے نام شامل ہیں جن کی پینٹنگ میوزیم میں لوگوں کی توجہ کا مرکز ہے۔
دوپہر تین بجے ہم میوزیم سے باہر نکل آئے۔ لندن کا موسم ان دنوں خلاف توقع گرم ہے جس سے لوگوں میں کافی جوش و خروش پایا جارہا ہے۔ تھوڑی دور چلنے کے بعد واکسول برج کے قریب دریائے تھیمس کے کنارے ایک کافی کی دکان پر بیٹھ کر ہم نے کافی پی۔دورانِ گفتگوکافی پیتے ہوئے پرکاش صاحب نے ہمیں بتایا کہ واکسول علاقے میں جب کچھ روسی ڈیلیگیٹ آئے تو انہیں واکسول نام اتنا پسند آیا کہ روس کے ریلوے اسٹیشن کو روسی زبان میں ’واکسزول‘ کہا جانے لگا۔

گھڑی پر نظر دوڑائی توشام کے چار بج چکے تھے۔ لیکن سورج اپنے آب و تاب سے چمک رہا تھا۔ ہم کافی کی دکان سے نکل کر واکسول برج کو پار کرنے لگے۔سامنے ایم آئی فائیو (خفیہ ایجنسی کی عمارت) پر نظر پڑی جو برطانیہ سمیت دنیا بھر پر نظر رکھے ہوئے ہے۔ سڑک پر دوڑتی لندن کی خوبصورت دو منزلہ لال بس بار بار مجھے اپنی جانب میری توجہ کھینچ رہی تھی۔ دریائے تھیمس بھی اپنے آن بان سے خاموشی سے بہہ رہا تھا۔دیکھتے دیکھتے ہم تھوڑی دیر میں ہم واکسول ٹرین اسٹیشن پہنچ گئے اور ٹرین پر سوار ہو کر گھر واپس آگئے۔

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *