فواد عالم، بابر اعظم: پاکستانی کھلاڑی ٹی ٹوئنٹی کے بعد ون ڈے اور ٹیسٹ ٹیموں میں بھی، انڈین کھلاڑیوں کی عدم موجودگی پر صارفین برہم

سال 2021 پاکستان کرکٹ ٹیم کے لیے بہترین سال رہا ہے، خواہ ٹی ٹوئنٹی ہو، ون ڈے یا ٹیسٹ فارمیٹ آئی سی سی کی سال کی بہترین ٹیمیں پاکستانی کھلاڑیوں کے بغیر پوری ہوتی دکھائی نہیں دے رہیں۔

پاکستانی کرکٹ ٹیم کے کپتان بابر اعظم آئی سی سی کی سال کی بہترین ٹی ٹوئنٹی ٹیم کے کپتان کے بعد اب ون ڈے ٹیم کے کپتان بھی ہوں گے جبکہ آئی سی سی کی سال کی بہترین ٹیسٹ ٹیم کے لیے پاکستان کے تین کھلاڑیوں کو نامزد کیا گیا ہے۔

جمعرات کے روز آئی سی سی کی جانب سے ون ڈے کرکٹ کی سال کی بہترین ٹیم کا اعلان کیا گیا جس میں نہ تو کوئی آسٹریلوی یا انگلش کھلاڑی شامل ہے اور نہ ہی کوئی انڈین کھلاڑی اس ٹیم میں جگہ بنا سکا ہے۔ پاکستانی اوپنر فخر زمان بھی اس ون ڈے ٹیم میں جگہ بنانے میں کامیاب ہوئے ہیں۔

دوسری جانب خواتین کی سال کی بہترین ٹیم میں 20 سالہ پاکستانی بولر فاطمہ ثنا کو بھی شامل کیا گیا ہے۔ فاطمہ ثنا نے سنہ 2021 میں 24 کی اوسط سے 20 وکٹیں حاصل کیں، جس میں ایک فائیو فار شامل تھا۔

آئی سی سی کی جانب سے ٹیسٹ کی بہترین ٹیم کا اعلان بھی کیا گیا ہے جس میں پاکستان کے تین کھلاڑی فواد عالم، حسن علی اور شاہین شاہ آفریدی شامل ہیں۔

فواد عالم، جنھوں نے سنہ 2020 میں 11 برس بعد ٹیسٹ ٹیم میں اپنی جگہ بنائی تھی، نے سنہ 2021 میں 57 کی اوسط سے 571 رنز بنائے جس میں تین سنچریاں شامل تھیں۔ دوسری جانب پاکستان کے دو فاسٹ بولرز شاہین آفریدی اور حسن علی نے بھی بہترین بولنگ کا مظاہرہ کیا ہے۔

سنہ 2021 میں ٹسیٹ میچوں میں شاہین آفریدی نے 17 کی اوسط سے 47 وکٹیں حاصل کیں جبکہ حسن علی نے 16 کی اوسط سے 41 وکٹیں حاصل کی ہیں۔

ون ڈے اور ٹی ٹوئنٹی کی ٹیم کی کپتانی بھی بابر اعظم کے سپرد

ادھر ون ڈے کی اس علامتی ٹیم کے گیارہ کھلاڑیوں کا انتخاب گذشتہ سال ان کی کارکردگی کی بنیاد پر کیا گیا ہے۔ اس ٹیم کی قیادت پاکستان کے بابراعظم کے سپرد کی گئی ہے۔ بابر اعظم نے سنہ 2021 میں چھ ون ڈے میچوں میں 67 کی اوسط سے 405 رنز بنائے جس میں دو سنچریاں شامل تھیں۔

اوپنر فخر زمان نے ان چھ میچوں میں 60 کی اوسط سے 365 رنز بنائے، جس میں دو سنچریاں شامل تھیں اور اُن کا بہترین سکور جنوبی افریقہ کے خلاف 193 رنز تھا۔

اس ٹیم میں انڈیا، آسٹریلیا اور انگلینڈ کی ٹیموں کا کوئی کھلاڑی شامل نہیں ہے۔ اس کی ایک وجہ تو یہ ہے کہ اس سال ٹی ٹوئنٹی ورلڈکپ اور کووڈ کے باعث انڈیا اور انگلینڈ نے ایک سیریز میں عمومی طور پر کھیلنے والے کھلاڑیوں کو شامل نہیں کیا، جبکہ آسٹریلیا نے سنہ 2021 میں صرف تین ایک روز میچ کھیلے۔

تاہم سوشل میڈیا صارفین اس ایک روزہ ٹیم کے حوالے سے ملے جلے ردِ عمل کا مظاہرہ کر رہے ہیں۔ جہاں انڈیا کے صارفین برہم ہیں کہ ان کی ٹیم کا کوئی کھلاڑی اس ٹیم میں شامل نہیں، وہیں کچھ صارفین آئی سی سی کی جانب سے بنائی گئی اس ٹیم کو کمزور بھی قرار دے رہے ہیں۔

بابر اعظم

اس سے قبل گذشتہ روز جاری کی گئی سال کی بہترین ٹی ٹوئنٹی ٹیم میں بابراعظم کو کپتان نامزد کیا گیا تھا۔ بابراعظم نے گذشتہ برس 29 ٹی ٹوئنٹی انٹرنیشنل میچوں میں ایک سنچری اور نو نصف سنچریوں کی مدد سے مجموعی طور پر 939 رن بنائے تھے۔

آئی سی سی کی اس ٹیم میں پاکستان کے محمد رضوان وکٹ کیپر اوپنر کے طور پر شامل کیے گئے ہیں۔

سنہ 2021 محمد رضوان کے لیے یادگار ترین سال ثابت ہوا تھا، جس میں انھوں نے 29 بین الاقوامی ٹی ٹوئنٹی میچوں میں پاکستان کی نمائندگی کرتے ہوئے ایک سنچری اور 12 نصف سنچریوں کی مدد سے1326 رن بنائے تھے، جو گذشتہ سال کسی بھی بیٹسمین کے بنائے گئے سب سے زیادہ رن تھے۔

محمد رضوان کی غیرمعمولی کارکردگی کا اندازہ اس بات سے بھی لگایا جا سکتا ہے کہ گذشتہ سال تمام ٹی ٹوئنٹی میچوں میں ان کے مجموعی رنز کی تعداد 2036 تھی۔

پاکستان کے نوجوان فاسٹ بولر شاہین شاہ آفریدی کے بغیر آئی سی سی کی اس ٹی ٹوئنٹی ٹیم کی تکمیل نہیں ہو سکتی تھی۔ شاہین نے گذشتہ برس 21 میچوں میں 23 وکٹیں حاصل کیں۔ ان کی خطرناک بولنگ کا سب سے خوبصورت نظارہ ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ میں انڈیا کے خلاف میچ تھا، جس میں انھوں نے لوکیش راہول، روہت شرما اور وراٹ کوہلی کو پویلین کی راہ دکھائی تھی۔

ٹوئٹر

’ون ڈے ٹیم کو تو انڈیا اے بھی ہرا دے گی‘

ایک صارف نے لکھا کہ اس ٹیم کو تو چنئی کی کوئی سکول ٹیم بھی ہرا سکتی ہے تو ایک دوسرے صارف نے لکھا کہ اس ٹیم کو انڈیا اے بھی ہرا دے گی۔

اسی طرح اکثر صارفین اس دوران اپنی ٹیمیں بھی بنا کر پوسٹ کر رہے ہیں۔ ایک صارف نے آئرش کرکٹر سمی سنگھ کے نام پر سوال اٹھاتے ہوئے لکھا کہ ’یہ شاید ون ڈے کی تاریخ کی سب سے کمزور ٹیم ہے۔‘

ایک صارف ابراہیم حنیف نے لکھا کہ ’آئی سی سی کی سال کی بہترین ٹیم دراصل اعداد و شمار کی بنیاد پر بنائی جاتی ہیں اور ان میں اس سال بہترین کارکردگی دکھانے والوں کو شامل کیا جاتا ہے۔‘

ٹوئٹر

انھوں نے لکھا کہ ’(سری لنکن بولر) چمیرا نے سال 2021 میں بہترین کارکردگی دکھائی ہے لیکن اس کا یہ مطلب نہیں ہے کہ وہ بمرا یا شاہین سے اچھے بولر ہیں تاہم ہمیں انھیں پھر بھی سراہنا ہے۔‘

ایک اور صارف نے یہ بھی لکھا کہ بابر اعظم بہترین کارکردگی دکھا رہے ہیں اور پی سی بی کو چاہیے کہ انھیں بطور کپتان ایک طویل عرصے تک کپتانی سونپی جائے۔

ایک صارف فہد نے لکھا کہ ’پاکستان کرکٹ نے گذشتہ ایک سے دو سالوں میں بہترین کارکردگی دکھائی ہے، پاکستان اب دوبارہ دنیائے کرکٹ کے نقشے پر ہے اور اس کی ہر فارمیٹ میں ہی ایک مضبوط ٹیم ہے۔ یہ ایک گولڈن جنریشن کا آغاز ہے بالکل 90 کی دہائی کی طرح۔‘

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published.