Dunya Pakistan

فیس بک: آن لائن ٹول کی مدد سے جانیے کہ سماجی رابطے کی ویب سائٹ سے آپ کا ڈیٹا تو لیک نہیں ہوا

اگر آپ بھی اس حوالے سے فکرمند ہیں کہ فیس بک سے لیک ہونے والے تازہ ترین ڈیٹا میں کہیں آپ کی معلومات تو نہیں، تو اس حوالے سے آپ کی مشکل آسان کرنے کے لیے ایک ویب سائٹ موجود ہے۔

یاد رہے کہ حال ہی میں دنیا بھر کے مختلف ممالک کے 53 کروڑ افراد کی تفصیلات ایک آن لائن ڈیٹا بیس پر لیک کر دی گئی تھیں۔ ان تفصیلات میں زیادہ تر موبائل نمبرز تھے۔

اس ویب سائٹ ’ہیو آئی بین پونڈ‘ پر ایک آن لائن ٹول دیا گیا ہے جس کی مدد سے آپ یہ جان سکتے ہیں کہ آپ کا موبائل نمبر یا ای میل ایڈریس لیک ہوا ہے یا نہیں۔

فیس بک کا کہنا ہے کہ یہ ڈیٹا سنہ 2019 میں ڈیٹا لیک کی ایک ’پرانی‘ کارروائی کا حصہ تھا مگر رازداری کے تحفظ پر نظر رکھنے والی تنظیمیں اب اس حوالے سے تحقیق کر رہی ہیں۔

فیس بک کا کہنا ہے کہ اس نے ڈیڑھ سال سے بھی زیادہ عرصہ پہلے اس ڈیٹا لیک کی اس کارروائی کو ’تلاش کر کے ٹھیک کر دیا تھا۔‘

مگر اب لیک ہونے والے اس ڈیٹا کو اب ایک ہیکنگ فورم پر مفت میں شائع کر دیا گیا ہے، سو یہ وسیع پیمانے پر دستیاب ہے۔

اس حوالے سے تحقیق کرنے والوں کا کہنا ہے کہ اس ڈیٹابیس میں 106 ممالک کے 53 کروڑ 30 لاکھ افراد کا ڈیٹا موجود ہے جس میں تین کروڑ امریکی، ایک کروڑ 10 لاکھ برطانوی اور 70 لاکھ آسٹریلوی افراد شامل ہیں۔

،تصویر کا کیپشنیہ اطلاعات بھی ہیں کہ اس لیک ڈیٹا میں فیس بک کے اپنے بانی اور چیف ایگزیکٹیو مارک زکربرگ کا فون نمبر موجود ہے

ہیو آئی بین پونڈ نامی یہ ویب سائٹ چلانے والے ٹروئے ہنٹ جو خود بھی ایک سائبر سکیورٹی ماہر ہیں، کہتے ہیں کہ ہر صارف کے بارے میں ہر طرح کی معلومات موجود نہیں ہیں مگر 50 کروڑ موبائل فون نمبرز ضرور لیک ہوئے جبکہ ’صرف چند ملین ای میل ایڈریس‘ لیک ہوئے۔

ٹروئے ہنٹ کہتے ہیں کہ جب فیس بک کے ڈیٹا لیک کی خبر پھیلنی شروع ہوئی تو اُن کی ویب سائٹ کی جانب ’غیر معمولی ٹریفک‘ آنی شروع ہوئی، جس کے بعد اُنھوں نے فون نمبر تلاش کرنے کا فیچر بھی متعارف کروایا۔

اس سے قبل اس پلیٹ فارم پر صارفین صرف ای میل ایڈریس سرچ کر سکتے تھے۔

اب اس ویب سائٹ پر سرچ باکس میں اپنا موبائل نمبر بھی ڈالا جا سکتا ہے اور یہ ویب سائٹ تصدیق کرے گی کہ آپ کی معلومات اس لیک ڈیٹابیس میں موجود ہیں یا نہیں۔

ٹروئے ہنٹ نے بی بی سی سے گفتگو میں کہا کہ ’میں چاہتا تھا کہ ہیو آئی بین پونڈ سے اس سوال کا جواب صرف محدود تعداد میں لوگوں کے بجائے ہر کسی کو ملے۔‘

یہ اطلاعات بھی ہیں کہ اس لیک ڈیٹا میں فیس بک کے اپنے بانی اور چیف ایگزیکٹیو مارک زکربرگ کا فون نمبر موجود ہے۔

سکیورٹی ماہر ڈیو واکر نے زکربرگ کے لیک فون نمبر کے سکرین شاٹ کے ساتھ ٹویٹ کرتے ہوئے کہا کہ ’یہ نمبر اُن کے حالیہ فیس بک لیک میں موجود اکاؤنٹ سے منسلک ہے۔‘

اس سکرین شاٹ سے یہ بھی اشارہ ملتا ہے کہ مارک زکربرگ سگنل نامی میسجنگ ایپ پر ہیں جو صارفین کو مکمل طور پر خفیہ رابطوں کی سہولت فراہم کرتی ہے اور فیس بک کی ملکیت نہیں ہے۔

فیس بک نے سکیورٹی وجوہات کی بنا پر صارفین سے 2011 سے کہہ رکھا ہے کہ وہ اپنے اکاؤنٹس میں فون نمبر بھی درج کریں۔

اس سے ٹُو فیکٹر اوتھینٹیکیشن نامی فیچر میں مدد ملتی ہے جو کسی اور کی جانب سے اکاؤنٹ لاگ ان کرنے کی کوشش پر مندرج موبائل فون نمبر پر ٹیکسٹ پیغام بھیجتا ہے۔

مگر ٹیکنالوجی کمپنی نے اس حالیہ لیک کے بارے میں وضاحت نہیں کی ہے، صرف اتنا کہا ہے کہ یہ 2019 میں لیک ہونے والا ’پرانا ڈیٹا‘ ہے اور اسے ’تلاش کر کے ٹھیک کر دیا گیا تھا۔‘

ٹروئے ہنٹ نے کہا کہ ’فیس بک نے ابھی تک اس پر واضح موقف نہیں اپنایا ہے۔ اُنھوں نے سنہ 2019 کے ایک واقعے کی جانب اشارہ کیا ہے مگر اس سے موجودہ لیک کے بارے میں کوئی قابلِ اطمینان وضاحت نہیں ہوتی۔‘

ٹروئے کہتے ہیں: ’اس وقت معلومات کا ایک خلا موجود ہے اور اس خلا کو قیاس آرائیاں پُر کر رہی ہیں۔‘

فیس بک نے بی بی سی کی جانب سے تبصرے کی درخواست کا جواب نہیں دیا۔

اس دوران دنیا بھر میں صارفین کی رازداری کے تحفظ کے ذمہ دار اداروں نے فیس بک کے خلاف کئی تحقیقات کا آغاز کر دیا ہے۔

آئرلینڈ کے ڈیٹا پروٹیکشن کمیشن نے کہا کہ وہ اس ٹیکنالوجی کمپنی کے ساتھ مل کر کام کر رہے ہیں تاکہ معلوم کیا جا سکے کہ ’مذکورہ ڈیٹاسیٹ کیا وہی ہے جو 2019 میں سامنے آیا تھا۔‘

اس کے علاوہ فلپائن کے نیشنل پرائیویسی کمیشن اور ہانگ کانگ کے آفس آف دی پرائیویسی کمشنر نے بھی اس ڈیٹا لیک کے حوالے سے تحقیقات شروع کر دی ہیں۔

Exit mobile version