فیس ماسکس اور وینٹی لیشن کووڈ کو پھیلنے سے روکنے کیلئے زیادہ مؤثر

اسکولوں میں فیس ماسکس کا استعمال اور ہوا کی نکاسی کا اچھا نظام ہوا کے ذریعے کووڈ 19 کے پھیلاؤ کو روکنے کے لیے سماجی دوری سے زیادہ اہم ہیں۔

یہ بات امریکا میں ہونے والی ایک طبی تحقیق میں سامنے آئی۔

سینٹرل فلوریڈا یونیورسٹی کی تحقیق میں بتایا گیا کہ ہوا کے ذریعے پھیلنے والے وائرس کی روک تھام کے لیے 6 فٹ کی سماجی دوری کی ضرورت اس وقت نہیں جب فیس ماسک کا استعمال لازمی قرار دیا جائے۔‎

محققین نے بتایا کہ یہ تحقیق اہم ہے کیونکہ اس سے رہنمائی ملتی ہے کہ چاردیواری کے اندر طالبعلموں کا تحفظ کیسے یقینی بنایا جائے۔

انہوں نے مزید بتایا کہ نتائج سے عندیہ ملتا ہے کہ فیس ماسکس کے ساتھ بیماری کے پھیلاؤ کی شرح میں کمی سماجی دوری بڑھنے سے مزید کم نہیں ہوتی، جس سے پتا لتا ہے کہ فیس ماسک کا لازمی استعمال اسکولوں اور دیگر مقامات کتنا ضروری ہے۔

اس تحقیق کے لیے محققین نے طالبعلموں اور ایک استاد والے کلاس روم کا کمپیوٹر ماڈل تیار کیا اور وہاں ہوا کے بہاؤ اور بیماری کے پھیلاؤ کا ماڈل بناکر ہوا کے ذریعے وائرس کے پھیلنے کا تخمینہ لگایا۔

محققین نے ہوا کی مناسب نکاسی کے نظام اور ناقص نکاسی والے کلاس روم پر ان ماڈلز کا تجزیہ کیا۔

نتائج سے معلوم ہوا کہ ہوا میں موجود ذرات سے بچنے کے لیے فیس ماسک کا استعمال مفید ہے۔

اسی طرح ہوا کی مناسب نکاسی والے کمرے میں کووڈ کا خطرہ 40 سے 50 فیصد تک کم ہوجاتا ہے کیوکہ ایسے کمروں میں ہوا کا بہاؤ مسلسل موجود رہتا ہے۔

محققین نے بتایا کہ فیس ماسک کا استعمال، 3 فٹ کی سماجی دوری سے بیماری کا خطرہ نہیں بڑھتا اور ان نتائج کا اطلاق اسکولوں اور کاروباری اداروں پر ہوسکتا ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ وینٹی لیشن سسٹم اور فیس ماسک کا استعمال وائرس کے پھیلاؤ کے لیے انتہائی ضروری ہیں۔

اس تحقیق کے نتائج طبی جریدے جرنل فزکس آف فلوئیڈز میں شائع ہوئے۔

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *