فیصل واڈا کی تاحیات نااہلی کےخلاف درخواست قابل سماعت ہونے پر فیصلہ محفوظ

اسلام آباد ہائی کورٹ (آئی ایچ سی) نے پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) رہنما فیصل واڈا کی جانب سے الیکشن کمیشن آف پاکستان (ای سی پی) کے تاحیات نااہلی کے فیصلے کے خلاف دائر درخواست کے قابل سماعت ہونے پر فیصلہ محفوظ کرلیا۔

اسلام آباد ہائی کورٹ کے چیف جسٹس اطہر من اللہ نے فیصل واڈا کی اپیل پر سماعت کی، سماعت کے دوران فیصل واڈا کے وکیل وسیم سجاد کا دلائل دیتے ہوئے کہنا تھا کہ الیکشن کمیشن نے فیصل واڈا کو تاحیات نااہل کیا ہے، فیصل واڈا نے قومی اسمبلی کے لیے کاغذات نامزدگی جمع کرائے تھے تاہم فیصل واڈا قومی اسمبلی کی نشست سے استعفیٰ دے کر سینیٹر بن گئے تھے۔

وکیل وسیم سجاد کا کہنا تھا کہ الیکشن کمیشن اس نتیجے پر پہنچا کہ بیان حلفی جھوٹا ہے، الیکشن کمیشن کے پاس نااہل کرنے کا کوئی قانونی اختیار نہیں، الیکشن کمیشن کورٹ آف لا نہیں ہے اور وہ 62 (ون) (ایف) کا فیصلہ نہیں دے سکتا۔

جسٹس اطہر من اللہ نے استفسار کیا کہ فیصل واڈا کا بیان حلفی جمع کرانے کی آخری تاریخ کیا تھی؟ جس کے جواب میں فیصل واڈ کے وکیل نے بتایا کہ 11 جون 2018 کو بیان حلفی جمع کرایا۔

اس موقع پر چیف جسٹس کا کہنا تھا کہ 3 سال سے فیصل واڈا کیس چل رہا ہے، حقائق بتائیں، آپ تکنیکی دلائل دے رہے ہیں لیکن ہمیں حقائق بتائیں، الیکشن کمیشن نے کیا غلطی کی؟

انہوں نے کہا کہ سپریم کورٹ نے بیان حلفی سے متعلق کہا ہے کہ اگر جھوٹا ہوا تو نتائج بھگتنا ہوں گے، جواب میں فیصل واڈا کے وکیل کا کہنا تھا کہ فیصل واڈا نے جان بوجھ کر جھوٹا بیان حلفی نہیں دیا۔

چیف جسٹس ہائی کورٹ نے کہا کہ سپریم کورٹ نے قرار دیا تھا کہ اس کے طے شدہ حلف نامے کی خلاف ورزی کے قانونی نتائج ہوں گے، شہریت چھوڑنے کا سرٹیفکیٹ کیوں نہیں دیا؟ عدالت کو بتائیں کہ الیکشن کمیشن نے نہیں تو انکوائری کس نے کرنی تھی۔

فیصل واڈا کے وکیل نے کہا کہ الیکشن کمیشن انکوائری کر سکتا ہے، جس پر چیف جسٹس نے استفسار کیا کہ کیا الیکشن کمیشن انکوائری کر کے سپریم کورٹ کو بھیج دیتا، سپریم کورٹ کا پانچ رکنی بینچ اپنے فیصلے میں کہہ چکا کہ غلط بیان حلفی جمع کرانے پر توہین عدالت کی کارروائی ہوگی۔

فیصل واڈ کے وکیل کا ان کے حق میں دلائل دیتے ہوئے کہنا تھا کہ چار دن کے لیے کوئی کیوں جھوٹ بولے گا۔

چیف جسٹس اطہر من اللہ نے استفسار کیا کہ یہ بتائیں سپریم کورٹ میں جھوٹے حلف نامے کے خلاف کیا کارروائی ہو سکتی ہے؟ جس پر وسیم سجاد نے جواب دیا کہ اس کے خلاف فوجداری کارروائی ہو سکتی ہے۔

وسیم سجاد کا کہنا تھا کہ فیصل واڈا وکیل نہیں ہیں انہوں نے قانون کے مطابق اپنی ذمہ داری پوری کی، فیصل واڈا نے اپنا دوسرا پاسپورٹ منسوخ کروا دیا تھا، انہوں نے نادرا سے سرٹیفکیٹ بھی لیا کہ وہ اب صرف پاکستانی ہے۔

انہوں نے کہا کہ عدالت، قانونی طور پر درست کہہ رہی ہے کہ بیان حلفی جھوٹا نکلے تو نااہلی ہوتی ہے، فیصل واڈا نے اپنی دانست کے مطابق کوئی جھوٹ نہیں بولا، سپریم کورٹ کے فیصلے کے مطابق غلط بیان حلفی جمع کرانے پر صرف اُس الیکشن کے لیے نااہل کیا جاسکتا تھا، غلط بیان حلفی جمع کرانے پر فیصل واڈا کو تاحیات نااہل نہیں کیا جاسکتا۔

چیف جسٹس کا کہنا تھا کہ سپریم کورٹ نے واضح لکھا ہے کہ توہین عدالت کی کارروائی شروع ہوگی، سپریم کورٹ کا فیصلہ قانون ہے جس کے نتیجے میں کچھ قانون سازوں کو نااہل کیا بھی گیا۔

انہوں نے استفسار کیا کہ کیا فیصل واڈا نے شہریت ترک کرنے کا سرٹیفکیٹ پیش کیا، ان سے اگر تاخیر ہو بھی گئی تھی تو وہ اپنا سرٹیفکیٹ پیش کرتے، فیصل واڈا اپنی نیک نیتی تو ثابت کرتے کہ مجھ سے تاخیر ہوگئی ہے، اب جب سوال اٹھ گیا ہے تو فیصل واڈا نے اپنی نیک نیتی ثابت کرنی ہے، سپریم کورٹ کا حبیب اکرم کیس تھا اس کا فیصلہ پڑھیں۔

ان کا کہنا تھا کہ عدالت بیان حلفی پر سپریم کورٹ کے پانچ رکنی بینچ کے فیصلے کو کیسے نظر انداز کرے؟ انسان سے غلطی بھی ہوسکتی ہے لیکن کیا فیصل واڈا نے آج تک شہریت چھوڑنے کا سرٹیفکیٹ دیا؟ اپنی بےگناہی اور صاف نیتی فیصل واڈا نے ثابت کرنی تھی۔

واضح رہے کہ الیکشن کمیشن نے 2018 کے عام انتخابات میں قومی اسمبلی کا الیکشن لڑتے وقت ان کی دوہری شہریت چھپانے پر ان کو نااہل قرار دیا تھا۔

الیکشن کمیشن آف پاکستان نے 9 فروری کو پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے رہنما فیصل واڈا کو تاحیات نااہل قرار دیا تھا، جس کے خلاف انہوں نے گزشتہ روز ہی اپیل دائر کی تھی۔

فیصل واڈا نے اپنی اپیل میں مؤقف اپنایا تھا کہ الیکشن کمیشن ان کے خلاف نااہلی کا فیصلہ دینے کا مجاز نہیں تھا، اس لیے الیکشن کمیشن کے فیصلے کی کوئی قانونی حیثیت نہیں ہے۔

اپیل میں دلائل دیتے ہوئے مؤقف اپنایا گیا تھا کہ الیکشن کمیشن کا یہ تاثر غلط ہے کہ آرٹیکل 63 (ون) (سی) کے اطلاق پر آرٹیکل 62 (ون) (ایف) کا اطلاق ہوگا، الیکشن کمیشن کورٹ آف لا نہیں، آرٹیکل 62 (ون) (ایف) کے تحت ڈیکلریشن کے لیے ٹرائل کا ہونا ضروری ہے۔

پی ٹی آئی رہنما کا الیکشن کمیشن کے فیصلے کے خلاف اپنی درخواست میں مزید کہنا تھا کہ سعدیہ عباسی کو سپریم کورٹ نے دوہری شہریت پر نااہل کیا لیکن ان کے خلاف اپنے فیصلے میں آرٹیکل 62 (ون) (ایف) کا اطلاق نہیں کیا گیا۔

ان کا کہنا تھا کہ انہوں نے الیکشن کمیشن میں بارہا کہا کہ نااہلی کی درخواست سننا اس کا اختیار نہیں، الیکشن کمیشن کو بارہا بتایا کہ وہ کورٹ آف لا نہیں ہے، جبکہ الیکشن کمیشن کو یہ بھی بتایا کہ انہوں نے جان بوجھ کر ایسا کوئی جھوٹا بیان حلفی نہیں دیا۔

فیصل واڈا نے اپنی اپیل میں اسلام آباد ہائی کورٹ سے استدعا کرتے ہوئے کہا تھا کہ الیکشن کمیشن کا 9 فروری 2022 کا نااہلی کا فیصلہ کالعدم قرار دیا جائے۔

واضح رہے کہ الیکشن کمیشن آف پاکستان (ای سی پی) نے دوہری شہریت کیس میں پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے سینیٹر اور سابق وزیر برائے آبی وسائل فیصل واڈا کو رواں ماہ 9 فروری کو نااہل قرار دے دیا تھا۔ چیف الیکشن کمشنر کے سنائے گئے مختصر فیصلے میں کہا گیا کہ 2018 کے انتخابات کے لیے کاغذات نامزدگی جمع کرواتے وقت فیصل واڈا نے جھوٹا بیان حلفی جمع کروایا تھا۔

یاد رہے کہ ای سی پی نے فیصل واڈا کے خلاف دوہری شہریت پر نااہلی کی درخواستوں پر فیصلہ 23 دسمبر 2021 کو محفوظ کیا تھا۔

محفوظ شدہ فیصلہ سناتے ہوئے الیکشن کمیشن نے فیصل واڈا کو آئین کے آرٹیکل 62 (ون) (ف) کے تحت تاحیات نااہل قرار دیا تھا جبکہ انہیں بطور رکن قومی اسمبلی حاصل کی گئی تنخواہ اور مراعات دو ماہ میں واپس کرنے کا حکم بھی دیا گیا تھا۔ اس کے علاوہ ای سی پی نے فیصل واڈا کے بطور سینیٹر منتخب ہونے کا نوٹی فکیشن بھی واپس لے لیا تھا جبکہ ان کی جانب سے بحیثیت رکن قومی اسمبلی، سینیٹ انتخابات میں ڈالے گئے ووٹ کو بھی 'غلط' قرار دیا گیا تھا۔

فیصلے میں کہا گیا تھا کہ فیصل واڈا نے خود کو اپنے عمل سے مشکوک بنایا، انہوں نے بطور رکن قومی اسمبلی سینیٹ الیکشن میں ووٹ ڈالا، جس کے بعد خود کو بطور سینیٹ امیدوار بھی پیش کیا، فیصل واڈا کا بطور رکن اسمبلی مستعفی ہو کر سینیٹ الیکشن لڑنا مشکوک تھا۔

خیال رہے کہ فیصل واڈا پر الزام تھا کہ انہوں نے 2018 کے عام انتخابات میں کراچی سے قومی اسمبلی کی نشست پر الیکشن لڑتے ہوئے اپنی دوہری شہریت کو چھپایا تھا۔

فیصل واڈا نااہلی کیس 22 ماہ سے زائد عرصے تک زیر سماعت رہا، مذکورہ کیس پر اسلام آباد ہائی کورٹ میں بھی کیس پر سماعت ہوئی۔

فیصل واڈا کی دوہری شہریت کے خلاف قادر مندوخیل کی جانب سے 2018 میں درخواست دائر کی گئی تھی۔

درخواست میں کہا گیا تھا کہ جس وقت فیصل واڈا نے قومی اسمبلی کے انتخاب کے لیے کاغذات نامزدگی جمع کرائے تھے اس وقت وہ دوہری شہریت کے حامل اور امریکی شہری تھے۔

درخواست میں یہ بھی کہا گیا تھا کہ فیصل واڈا نے انتخابات میں حصہ لیتے ہوئے الیکشن کمیشن میں ایک بیانِ حلفی دائر کیا تھا کہ وہ کسی دوسرے ملک کے شہری نہیں ہے۔

درخواست میں مؤقف اختیار کیا گیا تھا کہ چونکہ انہوں نے جھوٹا بیانِ حلفی جمع کرایا تھا اس لیے آئین کی دفعہ 62 (1) (ف) کے تحت وہ نااہل ہیں۔

درخواست کی سماعت کے دوران سابق وزیر کے وکیل کا کہنا تھا کہ فیصل واڈا نے کوئی جھوٹ نہیں بولا، کاغذات نامزدگی جمع کروانے سے قبل انہوں نے اپنا غیر ملکی پاسپورٹ منسوخ کروا دیا تھا۔

سماعت کے دوران فیصل واڈا کے وکیل بیرسٹر معید نے ان کا پیدائشی سرٹیفکیٹ کمیشن میں جمع کروایا اور بتایا تھا کہ فیصل واڈا امریکی ریاست کیلی فورنیا میں پیدا ہوئے تھے اور پیدائشی طور پر امریکی شہری تھے۔