قانون کی حکمرانی یہ ہوتی ہے

ابھی میں نے برادرم یونس جاوید کی بھیجی ہوئی ایک پوسٹ پڑھی ہے اور اس وقت سے ذہن میں خیالات کا ایک بھونچال سا آیا ہوا ہے۔ اس پوسٹ کا تعلق قانون کی حکمرانی سے ہے۔ قانون کی حکمرانی کے بھاشن تو میں نے بہت سنے ہیں مگر دیکھنے میں کم کم ہی آتی ہے۔ جو دیکھنے میں آتا ہے وہ یہ ہے کہ فلاں اپوزیشن کا ہے تو اسے بغیر عدالتی کارروائی کے جیل میں ڈال دو، اگر سرکار کا ہے تو ایک تحقیقاتی کمیٹی ملزم کی مرضی کی شخصیات پر مشتمل بنا دو۔ اور اگر کوئی مذہبی مسئلہ ہے اور ’’مشتعل ہجوم‘‘ نے دس بارہ بندے مار دیے ہیں تو ایسے مجاہدوں کو سزا دینے کا سوچا بھی نہیں جا سکتا کہ مشکل کے وقت کام بھی تو یہی آتے ہیں۔

یہ آخری مثال اسی پوسٹ کے حوالے سے ہے۔ آپ اس خاتون کی کہانی پڑھیں جو طوائف تھی، اس نے دو قتل کئے تھے اور اسے جیل جانا پڑا۔ جیل میں اس کی ذہنی کایا پلٹ ہوئی اور مسیحیت کی تبلیغ اس نے اپنا مشن بنا لیا۔ اس کے آگے میں کچھ نہیں بتائوں گا۔ آپ قانون کی ’’سنگ دلی‘‘ کی کہانی خود پڑھیں۔

کارلافے ٹکر ایک طوائف کے یہاں پیدا ہوئی۔ماں کی گوناگوں ’’مصروفیات‘‘ کے باعث ٹکر کی تربیت کا مناسب بندوبست نہ ہوسکا ۔ 13برس کی عمر میں جب وہ ابھی جوانی کے دروازے پر ہلکی ہلکی دستک دے رہی تھی تو اس کی ماں اسے پہلی بار ’’ساتھ‘‘ لے کر ’’باہر‘‘ نکلی جس کے بعد وہ مسلسل 11برس تک گناہ کی گھاٹیوں میں اترتی رہی اور ذلت کے صحراؤں میں ننگے پیر چلتی رہی۔پھر 1983کی وہ رات آگئی جب اپنے بوائےفرینڈ کے ساتھ مل کر ایک جوڑے سے موٹر سائیکل چھیننے کی کوشش میں جوڑے کو ہلاک کردیا اور یہ دونوں فرار ہو گئے لیکن چند ہی ہفتوں میں پولیس نے انھیں گرفتار کر لیا۔ مقدمہ چلا اور ٹیکساس کی عدالت نے دونوں کو سزائےموت سنا دی، جس کے بعد اپیلوں کا ایک طویل سلسلہ شروع ہو گیا۔ اسی دوران اس کا بوائےفرینڈ بیمار ہو کر جیل میں انتقال کر گیا جس کے بعد وہ تنہا رہ گئی۔پھر اچانک وہ لڑکی جو بات بات پر جیل انتظامیہ کو ننگی گالیاں دیا کرتی تھی وہ اپنا زیادہ تر وقت بائبل کے مطالعے میں گزارنے لگی۔ وہ ایک طوائف زادی اور قاتلہ کی جگہ مبلغہ بن گئی اور اس نے تبلیغ کو اپنی زندگی کا نصب العین بنا لیا۔

اس کی بدلی ہوئی شخصیت کی مہک جب جیل سے باہر پہنچی توامریکہ کی معاشرتی زندگی میں بھونچال آگیا، یہاں تک کہ پوپ جان پال نے بھی زندگی میں پہلی بار عدالت میں کسی قاتلہ کی سزا معاف کرنے کی درخواست کر دی۔سزائے موت سے پندرہ روز قبل جب لیری کنگ جیل میں ٹکر کا انٹرویو کرنے گیا تو دنیا نے سی این این پر ایک مطمئن اور مسرور چہرہ دیکھا جو پورے اطمینان سے ہر سوال کا جواب دے رہا تھا۔ لیری نے پوچھا ’’تمھیں موت کا خوف محسوس نہیں ہوتا؟‘‘۔ ٹکر نے مسکرا کر جواب دیا ’’نہیں! اب مجھے صرف اور صرف موت کا انتظار ہے، میں جلد سے جلد اس ہستی کا دیدار کرنا چاہتی ہوں جس نے میری ساری شخصیت ہی بدل دی‘‘۔

انٹرویو نشر ہونے کے دوسرے روز پورے امریکہ نے کہا:’’نہیں یہ وہ ٹکر نہیں ہے جس نے دو معصوم شہریوں کو قتل کیا تھا، یہ تو ایک فرشتہ ہے اور فرشتوں کو سزائے موت دینا انصاف نہیں ظلم ہے‘‘۔ رحم کی اپیل ’’ٹیکساس بورڈ آف پارڈن اینڈ پیرول‘‘ کے سامنے پیش ہوئی۔ 18رکنی بورڈ نے کیس سننے کی تاریخ دی تو 2ممبروں نے چھٹی کی درخواست دیدی جبکہ باقی 16ممبران نے سزا معاف کرنے سے انکار کر دیا۔ بورڈ کا فیصلہ سن کر عوام سڑکوں پر آگئے اور ٹکر کی درخواست لے کر ٹیکساس کے گورنر ’’جارج بش‘‘ کے پاس پہنچ گئے۔ گورنر نے درخواست سنی اور ہجوم سے اظہار ہمدردی کیا، لیکن آخر میں یہ کہہ کر معذرت کرلی:’’مجھے قانون پر عملدرآمد کرانے کیلئے گورنر بنایا گیا ہے، مجرموں کو معاف کرنے کیلئے نہیں‘‘۔ موت سے 2روز قبل جب ٹکر کی رحم کی اپیل سپریم کورٹ پہنچی تو چیف جسٹس نے یہ فقرے لکھ کر درخواست واپس کر دی: ’’اگر آج پوری دنیا کہے کہ یہ عورت کارلافے ٹکر نہیں، ایک مقدس ہستی ہے تو بھی امریکن قانون میں اس کیلئے کوئی ریلیف نہیں ہے کیونکہ جس عورت نے قتل کرتے ہوئے دو بےگناہ شہریوں کو کوئی رعایت نہیں دی اسے دنیا کا کوئی منصف رعایت نہیں دے سکتا، ہم خدا سے پہلے ان دو لاشوں کے سامنے جوابدہ ہیں، جنہیں اس عورت نے ناحق مار دیا‘‘۔3 فروری 1998کی صبح پونے6بجے ٹیکساس کی ایک جیل میں 38سالہ ’’کارلا فے ٹکر‘‘ کو زہریلا انجکشن لگا کر سزائے موت دیدی گئی۔4 فروری کو جب سی این این سے کارلافے ٹکر کی موت کی خبر نشر ہو رہی تھی تو میں نے اپنے ضمیر سے پوچھا کہ وہ کیا کرشمہ ہے جو امریکہ جیسے سڑے ہوئے بیمار معاشرے کو زندہ رکھے ہے تو حافظے میں حضرت علیؓ کا قولِ زریں چمکنے لگا:’’معاشرے کفر کے ساتھ تو زندہ رہ سکتے ہیں لیکن ناانصافی کے ساتھ نہیں‘‘۔

جو عدالتیں عوامی احتجاج یا حکمرانوں سے متاثر ہو کر اپنے فیصلے بدل دیں، تو وہ عدالتیں نہیں بادبانی کشتیاں ہوتی ہیں جن کی منزلوں کا تعین ملاح نہیں ہوائیں کرتی ہیں۔

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *

error: