قبائلی خاتون کی افغان شوہر سے محبت: ’شوہر کی موت کا بدلہ لینے کے لیے مبینہ قاتل سے شادی کی‘

’میں نے اپنے پہلے شوہر کی موت کا بدلہ لینے کے لیے ٹھان لیا تھا اور قاتل سے دوستی کی پھر اس سے شادی کی اور پھر آخر کار بدلہ لے لیا۔‘

قبائلی علاقے ضلع باجوڑ کی رہائشی اس خاتون کو پولیس نے گرفتار کر کے عدالت میں پیشی کے بعد چکدرہ جیل بھیج دیا ہے۔

ملزمہ کہتی ہیں کہ وہ تین سال سے اس کوشش میں تھیں کہ اپنے شوہر کی موت کا بدلہ لے سکیں اور اس کے لیے انھوں نے مکمل منصوبہ بندی کی تھی۔

پولیس کو اطلاع اور کارروائی

ضلع باجوڑ کے عنایت کلے میں لوئی سم تھانے کے انسپکٹر ولایت خان نے بی بی سی کو بتایا کہ یہ ایک مشکل کیس تھا جس کے لیے انھوں نے کوشش کی اور کامیابی حاصل کی ہے۔

ملزمہ کے پہلے شوہر کی تین سال پہلے وفات ہوئی تھی لیکن یہ واضح نہیں ہے کہ انھیں قتل کیا گیا یا طبی موت واقع ہوئی تھی۔ انھوں نے اپنے طور پر معلوم کیا اور ان کا کہنا ہے کہ ان کے شوہر کو ان کے دوست گلستان نے زہر کا انجیکش دیا تھا۔

پولیس تھانے میں ان کی موت یا قتل کا کوئی مقدمہ درج نہیں ہے۔ پولیس نے بتایا کہ تین سال پہلے اس علاقے میں پولیس تھانے نہیں تھے اور نہ ہی ایسی کوئی دستاویز ملی ہیں کہ سرزمین کو قتل کیا گیا تھا۔

پولیس کے مطابق دو روز پہلے انھیں اطلاع ملی کہ گلستان نامی شخص کو فائرنگ کرکے قتل کر دیا گیا ہے۔

پولیس انسپکٹر ولایت خان کا کہنا تھا کہ انھوں نے اس اطلاع کے بعد قریبی چوکی پر موجود پولیس اور اپنے ذرائع کو کہہ دیا تھا کہ اس جگہ سے کوئی جانے نہ پائے اور وہ اپنی ٹیم کے ساتھ پہنچ رہے ہیں۔

ولایت خان نے بتایا کہ ہم جب وہاں پہنچے تو بستر پر لاش خون میں لت پت پڑی تھی، ایک گولی سر پر لگی تھی اور ایک جسم کے دائیں جانب لگی تھی۔ ملزمہ میت کے ساتھ بیٹھی تھیں۔ مکان کے باہر اور مکان کے اندر لوگ بڑی تعداد میں جمع تھے۔ ہم نے لوگوں کو ایک طرف کیا اور تفتیش شروع کی اور موقع سے شواہد حاصل کیے۔

فائل فوٹو
،تصویر کا کیپشنملزمہ کے پہلے شوہر شازمین افغان پناہ گزین تھے

قبائلی عورت کی افغان شاہ زمین سے محبت

پولیس رپورٹ کے مطابق ملزمہ نے بتایا کہ ان کے پہلے شوہر افغان پناہ گزین تھے ان کا تعلق افغانستان کے صوبے کنڑ سے تھا۔ میرے شوہر پشاور میں کام کرتے تھے۔ ان کی زندگی بہت خوشگوار تھی۔ پولیس نے بتایا کہ ان کی ایک بیٹی تھی۔

پولیس نے ان کے بیان کا حوالہ دیتے ہوئے بتایا کہ ’میرے شوہر کی گلستان نامی شخص سے دوستی تھی اور میرا شوہر پشاور سے جو کماتا تھا وہ گلستان کو بھیج دیتا تاکہ وہ اپنے پاس رکھے اور جب ضرورت ہوگی تو اس سے رقم واپس لے لے گا۔ گلستان کے ساتھ گہرا یارانہ تھا۔‘

ملزمہ کے شوہر کچھ عرصہ بعد واپس آئے اور گلستان سے کہا کہ میری طبعیت ٹھیک نہیں ہے مجھے اپنے رقم واپس چاہیے لیکن گلستان نے رقم واپس نہیں کی اور کہاں کہ رقم تو اس وقت نہیں ہے۔

ولایت خان کے مطابق ملزمہ نے اپنے بیان میں کہا ’گلستان نے میرے شوہر کو رقم دینے کی بجائے کہا کہ تم بیمار ہو تو میں عنایت کلی کے بازار سے تمھارے لیے دوائی لاتا ہوں۔ گلستان دو انجیکشن لایا اور کچھ گولیاں تھیں۔ ایک انجیکشن گلستان خان نے ندی کے کنارے سرزمین کو لگا دیا اور کہا کہ دوسرا انجیکشن پھر تم بعد میں گھر میں لگا لینا اور یہ گولیاں بھی کھا لینا اس سے طبیعت ٹھیک ہو جائے گی۔‘

بیان میں مزید کہا گیا کہ ’انجیکشن لینے کے بعد میرے شوہر کی طبعیت مزید خراب ہوئی اور زمین پر گر پڑے، وہاں موجود لوگ میرے شوہر کو ہسپتال لے گئے اور پھر ہسپتال سے مردہ حالت میں میرے شوہر کو گھر لے آئے۔‘

انتقام کی منصوبہ بندی

ملزمہ نے پولیس کو بتایا کہ اس بارے میں معلومات حاصل کیں تو لوگوں نے بتایا کہ گلستان نے ان کے شوہر کو انجیکشن دیا تھا جس کے بعد ان کے شوہر کی حالت خراب ہو گئی تھی۔

انھیں ایسا لگا کہ جیسے گلستان خان نے ان کے شوہر کو مارا ہے اور اس وقت انھوں نے یہ ٹھان لی تھی کہ وہ اپنے شوہر کا بدلہ ضرور لیں گی۔

پولیس کے مطابق ملزمہ نے بتایا کہ پانچ چھ ماہ تک وہ اس کوشش میں تھی کہ شوہر کی موت کا بدلہ لے لیکن انھیں موقع نہیں ملا جس کے بعد پھر منصوبہ بندی کی کہ کیسے گلستان کے قریب ہو اور پھر بدلہ لے سکے۔

پولیس نے بتایا کہ ملزمہ نے اپنے بیان میں کہا کہ اس نے پھر گلستان سے شادی کا فیصلہ کیا اور اس کے لیے پیغامات بھجوائے حالانکہ گلستان پہلے سے شادی شدہ تھا اور اس کے بیٹے بھی تھے لیکن ان کے مطابق انھوں نے گلستان خان کو لالچ دے کر راضی کر لیا تھا۔

ملزمہ نے پولیس کو بتایا کہ اس نے گلستان سے کہا کہ ’میرے پاس پیسے ہیں، تم گاڑی خرید لینا اس میں گھومو، اپنے وطن پر مزدوری کرو گے اور ہم خوشحال زندگی گزاریں گے۔‘

ملزمہ نے پولیس کو بتایا کہ گذشتہ سال بڑی عید سے پہلے انھوں نے شادی کی تھی اور چھ ماہ تک وہ کبھی کسی کے گھر کبھی گلستان کی بہن کے گھر میں رہے جس کے بعد اس نے گلستان نے کہا کہ اپنا گھر کرائے پر لے لیتے ہیں کب تک دوسروں کے ہاں زندگی گزاریں گے۔

پولیس نے بتایا کہ بیان کے مطابق انھوں نے عنایت کلی میں ایک مکان تین ہزار روپے ماہانہ کرائے پر حاصل کیا اس کے بعد گلستان سے کہا کہ ہم یہاں اکیلے رہتے ہیں کوئی چور نہ آ جائے اور اپنی حفاظت کے لیے ضروری ہے کہ ایک پستول گھر میں ہونا چاہیے۔ گلستان ساڑھے تیرہ ہزار روپے میں ایک پستول خرید لایا۔

انھوں نے بتایا کہ ’ میرے پہلے شوہر کی وفات کو تین سال ہو گئے ہیں اور دو سال تک میں اس کوشش میں تھی کہ کب اور کیسے میں بدلہ لے سکوں گی۔ گھر میں جب پستول آگیا تو اس موقع کی تلاش میں تھی کہ کب اسے استعمال کر سکوں گی۔‘

ملزمہ کے بیان کے مطابق وقوعے کے روز ’میں رات جاگتی رہی اور رات ایک بجے کے قریب دوسرے کمرے میں گئی اور پستول میں گولیاں ڈال دیں اور گلستان کے کمرے میں گئی، گلستان سو رہا تھا اور اس پر فائر کیا لیکن فائر نہیں ہو رہا تھا، پستول نے کام نہیں کیا۔‘

وہ واپس دوسرے کمرے میں گئی اور پستول کو چیک کیا اس کے بعد دوبارہ گلستان کے کمرے میں گئی اور پہلا فائر گلستان کے سر پر کیا اور دوسرا فائر اس کے جسم کے دائیں جانب کیا۔ گولیاں مارنے کے بعد وہ ادھر بیٹھی رہی اتنے میں سورج طلوع ہوا تو اس نے باہر لوگوں سے کہا کہ اس کے شوہر کو کسی نے قتل کر دیا ہے جس کے بعد لوگ جمع ہو گئے اور پھر پولیس بھی موقع پر پہنچ گئی تھی۔

ولایت خان نے بتایا کہ وہ پہلے کہتی رہیں کہ یہ قتل انھوں نے نہیں کیا لیکن جب پولیس نے تفتیش شروع کی تو اس کے قبول کر لیا اور سب کچھ بتا دیا اور پستول کی نشاندہی بھی کی جو صندوق میں پڑا تھا اور پولیس نے وہاں مقتول کی بیٹے کی موجودگی میں پستول برآمد کیا ہے۔

مقامی لوگوں کا کہنا تھا کہ گلستان ایک شریف النفس انسان تھا اور مقامی سطح پر اپنا کام کرتا تھا۔ پولیس نے بتایا کہ ملزمہ کو عدالت میں پیش کرنے کے بعد انھیں جیل بھیج دیا گیا ہے۔

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *

error: