قبرستان کے بھانبڑ چوک کا ایک نظارہ

قبروں کے ساتھ میری دلچسپی میں اضافے کا کریڈٹ میرے دوست رانا ریاض کو جاتا ہے، رانا صاحب ایک ریٹائرڈ بیورو کریٹ ہیں اور قبروں کے ساتھ اُن کی دلچسپی ریٹائرمنٹ سے اگلے روز ہی شروع ہو گئی تھی۔ اُس وقت سے اب تک وہ روزانہ قبرستان جاتے ہیں اور ایک ایک قبر کو ٹٹول ٹٹول کر دیکھتے ہیں۔ میں نے ایک دن اُن سے پوچھا کہ آپ روزانہ قبرستان جاتے ہیں اور گھوم پھر کر زندہ کے زندہ ہی واپس آ جاتے ہیں۔ اِس ’’ونڈو شاپنگ‘‘ سے آپ کو کیا حاصل ہوتا ہے؟ بولے، تم اکثر انارکلی جاتے ہو، خریدتے وریدتے کچھ نہیں، تم بتائو، تمہیں اس سے کیا حاصل ہوتا ہے؟ اب میں انہیں کیا بتاتا اور انہیں کیا کہتا کہ یہ میرے سوال کا جواب نہیں ہے، چنانچہ میں خاموش ہو گیا، بہرحال میں آپ کو بتانا یہ چاہتا تھا کہ قبروں سے میری اپنی دلچسپی بھی پہلے سے موجود تھی مگر جب رانا صاحب سے ملاقاتوں میں اضافہ ہوا تو میں رانا صاحب اور قبروں کے مزید نزدیک ہوتا چلا گیا۔

اب ہم دونوں بھائی جب بھی اکٹھے ہوتے ہیں، ہمارا واحد موضوع قبریں ہی ہوتی ہیں بلکہ اب معاملہ قبروں کی زیارت تک نہیں رہا بلکہ ہم نیو ایئر نائٹ بھی کسی اچھے سے قبرستان میں مناتے ہیں چنانچہ پچھلے سال ہم نے یہ نائٹ اسلام آباد کے خوبصورت قبرستان میں منائی تھی جہاں بوڑھے گورکن نے ہمارے لئے اعلیٰ درجے کی سردائی تیار کر رکھی تھی۔ سردائی کی خصوصیت یہ ہے کہ اسے پیتے ہی انسان رونا یا پھر ہنسنا شروع ہو جاتا ہے اور ہم دونوں دوستوں کی خصوصیت یہ ہے کہ سردائی پینے کے بعد ہم پر یہ دونوں کیفیتیں باری باری طاری ہوتی ہیں اور ہاں کچھ عرصہ سے رانا صاحب سے میری ملاقات تقریباً روزانہ ہوتی ہے، ہم فون پر میٹنگ پوائنٹ طے کرلیتے ہیں۔

ایک دفعہ میں اور رانا صاحب قبرستان کے بھانبڑ چوک میں ایک شکستہ قبر پر بیٹھے اپنے کاروباری امور ڈسکس کر رہے تھے کہ ناگہاں میری نظر آگ کے اس بھانبڑ پر پڑی، میں نے دیکھا کہ ایک بدنامِ زمانہ رقاصہ بہت وارفتگی کے عالم میں رقص کر رہی تھی۔ میں نے رانا صاحب کو بھی اُس طرف متوجہ کیا، جب یہ زندہ تھی، رانا صاحب کے اُن سینکڑوں معتقدین میں سے ایک تھی جن پر رانا صاحب کی خاص نظرِ کرم تھی۔ رانا صاحب نے نظر بھر کر اُس کی طرف دیکھا اور پھر مجھے مخاطب کرکے کہا برادر یہ رقص نہیں کررہی، شعلوں کی حدت سے تھرک رہی ہے، اللہ تعالیٰ اس کی مشکل آسان کرے۔ دریں اثنا قبرستان کا گورکن قریب سے سلام کرکے گزرنے لگا تو میں نے اُسے روکا اور پوچھا، کیا بھانبڑ چوک میں اِس طرح کے رقص روزانہ ہوتے ہیں یا ایسا کبھی کبھار ہوتا ہے؟ بولا نہیں بابو جی، یہاں سب کو باری باری اِس طرح کا ڈانس کرنا پڑتا ہے۔ کل ایک ذخیرہ اندوز یہاں پھڑکتا نظر آیا تھا، اِس سے پہلے جعلی دوائیاں بنانے والے منشیات فروش، بےایمان حکمران، ملک توڑنے والے سیاستدان، منافع خور تاجر اور ہم غریبوں کی زندگیاں عذاب بنانے والے بہت سے دوسرے لوگوں کو بھی میں نے یہاں شعلوں کی لپیٹ میں تڑپتے دیکھا ہے۔ 

اِس قبرستان میں ہم پہلی دفعہ آئے تھے چنانچہ قبروں سے ہمارے عشق سے وہ واقف نہیں تھا۔ اُس نے ہمیں مخاطب کیا اور پوچھا، آپ لوگ کیا کرتے ہیں؟ میں نے اُسے بتایا کہ میں اخبار میں کالم لکھتا ہوا اور میرا دوست ایک بہت بڑا افسر رہا ہے، اِس پر وہ ہنسا اور بولا ’’اِس کا مطلب ہے چند برسوں بعد مجھے اسی بھانبڑ میں آپ کا رقص بھی دیکھنے کو ملے گا‘‘۔ یہ کہہ کر وہ بھاگ کھڑا ہوا کہ وہ جانتا تھا کہ اُس نے کس درجہ بدتمیزی کی ہے اور کتنے بڑے لوگوں سے کی ہے۔ تاہم اِس تجربے کا ہمیں بہت زیادہ فائدہ ہوا کیونکہ صورتحال کی سنگینی دیکھ کر ہم وہاں سے سیدھا بہاولپور روڈ پہنچے جہاں قبروں کے حوالے سے دستیاب ہر قسم کی سہولتوں پر مشتمل لاہور کی سب سے بڑی مارکیٹ ہے۔ دکاندار نے ہمارا پُرتپاک استقبال کیا اور پوچھا ’’میں آپ کی کیا خدمت کر سکتا ہوں؟‘‘ رانا صاحب بولے ہم نے اپنی قبروں کا ڈیزائن پسند کرنا ہے۔

دکاندار ہماری بات سے حیران نہیں ہوا، اُسے شاید ہماری ناگہانی موت کا ہم سے بھی زیادہ یقین تھا۔ وہ اندر سے ایک کیٹلاگ اُٹھا لایا۔ سبحان اللہ کیسی کیسی عالیشان قبریں تھیں۔ ہم دونوں نے اپنے لئے دو الگ الگ ڈیزائن پسند کئے۔ ہم نے دکاندار سے کہا، باقی سب ٹھیک ہے بس یہ قبریں اندر سے کافی کشادہ ہونا چاہئیں۔ دوسرے اُس میں ایئر کنڈیشنر کی بھی ضرورت ہو گی، وہ ہم سے مرعوب ہونا شروع ہو گیا تھا، بولا سر ایئر کنڈیشنر دیوار میں لگوانا پسند کریں گے یا اسپلٹ یونٹ چلے گا؟ رانا صاحب نے کہا اسپلٹ یونٹ ٹھیک ہے، دکاندار نے پوچھا کوئی اور حکم سر، رانا صاحب بولے ’اِس میں دو اعلیٰ درجے کے صوفے بھی رکھوانے ہیں‘ دکاندار نے یہ بھی نوٹ کر لیا مگر پوچھا وہ کس لئے سر؟ رانا صاحب نے جواب دیا جو فرشتے حساب لینے آئیں گے انہیں زمین پر بٹھانا تو اچھا نہیں لگے گا۔ دکاندار نے ایک بار پھر ہمیں مخاطب کیا اور بولا اِس کے علاوہ جو سہولت آپ چاہتے ہیں وہ بھی بیان فرما دیں۔ رانا صاحب نے کہا، بس ایک آخری سہولت اور وہ یہ کہ اِس میں ایک چور دروازہ بھی ہونا چاہئے تاکہ فرشتوں کو باتوں میں لگا کر ہم وہاں سے کھسک سکیں۔ رانا صاحب نے ابھی اپنی بات مکمل ہی کی تھی کہ دکاندار کا چہرہ بدلنا شروع ہو گیا۔ اُس کے چہرے پر موٹے موٹے نقوش ابھر آئے اور اُس کا قد بڑھتے بڑھتے دکان کی چھت سے جا لگا، پھر اُس کی گرج دار آواز گونجی ’’تم سمجھتے ہو کہ مرنے کے بعد بھی اپنے جرائم سے بچنے کے لئے تم وہ ہتھکنڈے استعمال کر سکو گے جو تم دنیا میں استعمال کرتے رہے ہو؟ یہاں سے کان لپیٹ کر نکل جائو اور پیچھے مڑ کر نہ دیکھو ورنہ میں تمہیں یہیں بھسم کردوں گا اور تمہیں دفن ہونے کے لئے دو گز زمین بھی نہیں مل سکے گی‘‘۔

رانا ریاض بےہوش ہو گیااور میری آواز میرے حلق میں پھنس کر رہ گئی۔ بالآخر بہت کوشش کے بعد میں نے اپنی آواز کی لرزش پر قابو پایا اور پوچھا، آپ کون ہیں؟ اُس نے جواب دیا، میں وہ نہیں ہوں جو جسمانی صورت میں تمہیں نظر آ رہا ہوں، میں صرف وہ آواز ہوں جو تم جیسے لوگ اپنی زندگی میں سننا نہیں چاہتے۔ یہ آواز اپنے ساتھ لے جائو! اِس کے بعد ہم دونوں نے وہاں ٹھہرنا مناسب نہیں سمجھا۔

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *

error: