قصور خان صاحب کا بھی نہیں

وزیرِ اعظم عمران خان کی نیت پر کوئی شک نہیں کہ وہ پاکستان کو ’ریاستِ مدینہ‘ کی روشنی میں اوجِ ثریا تک پہنچانا چاہتے ہیں۔ مجھے تو جنرل ضیا الحق کی نیت پر بھی کبھی شک نہیں رہا کہ وہ پاکستان کو ایک مثالی شرعی ریاست بنانا چاہتے تھے۔ پر وہ جو کہتے ہیں کہ خواہشات کے پر ہوتے تو ہم سب گھڑ سوار ہوتے۔

نیت بھلے کیسی صادق ہو مگر زاویہِ نظر دھندلا یا بھینگا ہو تو آپ خود کو اور دوسروں کو کنفیوژ کر کے فکری و عملی الجھاوا تو بڑھا سکتے ہیں، نیت کے گھوڑے پر سوار بگٹٹ تو بھاگ سکتے ہیں مگر اتنا تھکنے اور تھکانے کے بعد بھی منزل حاصل کر سکتے ہیں کہ نہیں، یہ ایک الگ بحث ہے۔

صرف خواہش کے بل پر اسلام پسند تو چھوڑیے، ایک اچھا جمہوریت پسند، سرمایہ دار، کیمونسٹ، یا فاشسٹ تک بننا محال ہے۔

اور پھر ذہنی کیفیت بھی اس بچے جیسی ہو جو کھلونوں کی دوکان میں داخل ہونے کے بعد ہزاروں کھلونے دیکھ کر سٹپٹا جائے اور اسے ہر کھلونا پسند آ جائے اور یہی نہ طے کر پائے کہ اسے دراصل کون سا والا چاہیے، تو ایسا بچہ یا تو خالی ہاتھ لوٹتا ہے یا پھر ایسے بے جوڑ کھلونوں سے لدا پھندا جن کی دراصل اسے ضرورت ہی نہیں تھی اور پھر گھر پہنچ کر یاد آتا ہے کہ وہ تو پیچھے ہی رہ گیا جس کے لیے وہ دوکان میں گیا تھا۔

جمہوریت، فوج کے کردار، معیشت، خارجہ پالیسی، وفاقی ڈھانچے، اور ملکی سیاست سمیت کسی بھی شعبے کے بارے میں وزیرِ اعظم بننے سے پہلے اور بعد کے بیانات اٹھا کر دیکھ لیں تو آپ کو پسند و ناپسند کی ایک عظیم ورائٹی دکھائی دے گی مگر یکسوئی کا نام و نشان ندارد۔

آپ کہہ سکتے ہیں کہ آدمی ایسے ہی سیکھتا ہے اور وقت اور عمر کے ساتھ ساتھ اس کی ترجیحات پسند ناپسند بدلنا فطری ہے، مگر مسئلہ تب ہوتا ہے جب میں چاہوں کہ چونکہ مجھے پہلے کی برعکس اب پیاز پسند ہے لہٰذا آپ سب بھی پیاز کھائیں، مجھے اب بینگن پسند نہیں، لہٰذا آپ بھی بینگن پکانا چھوڑ دیں، مجھے بالی وڈ فلمیں اچھی نہیں لگتیں آپ بھی نہ دیکھیں، مجھے ترک ڈرامے پسند ہیں آپ بھی دیکھیں اس سے آپ کا ذہنی معدہ صاف رہے گا۔

بہت سے لال بھجکڑوں کی طرح مجھ کم عقل کو بھی آج تک سمجھ میں نہیں آ سکا کہ ایک ایسی ریاستِ مدینہ کیسے ممکن ہے جس میں ملائشیا کی جمہوریت، چین کا ڈسپلن، ناروے اور سویڈن کا فلاحی فلسفہ، قائدِ اعظم کا نظریہِ پاکستان، ترک زاویہِ نظر اور شریعت یکجا ہو، مگر وزیرِ اعظم کا خیال ہے کہ ایسا ممکن ہے۔

عمران
،تصویر کا کیپشنکسی بھی شعبے کے بارے میں وزیرِ اعظم بننے سے پہلے اور بعد کے بیانات اٹھا کر دیکھ لیں تو آپ کو پسند و ناپسند کی ایک عظیم ورائٹی دکھائی دے گی مگر یکسوئی کا نام و نشان ندارد

تازہ ترین انٹرویو میں آپ نے یہ بھی فرمایا کہ مغرب میں منشیات، سیکس اور راک اینڈ رول نے وہاں کے سماج اور نوجوان کو بھٹکا دیا ہے اور پھر یہ بھی فرمایا کہ مغرب میں خاندانی نظام بکھر جانے کے باوجود ان کی اخلاقیات ہم سے بہتر ہیں۔ بندہ اس طرح کے اچاری وچاروں سے کیا نتیجہ اخذ کرے، کرے تو کیا کرے؟

مگر قصور خان صاحب کا بھی نہیں۔ دائیں اور بائیں بازو کی وہ نسل جو نظریاتی فرق کے باوجود ایک واضح نصب العین رکھتی تھی اور اس کی روشنی میں اس ملک کو آگے لے جانا چاہتی تھی اس کی تو عرصہ ہوا ذہنی نس بندی کی جا چکی۔

پھر اس خلا کو نظریاتی و تعلیمی کنفیوژن کی ایک خاص مقدار اور تاریخی ملاوٹ کے آمیزے سے دانستہ بھرا گیا۔ اس تجربے کے طفیل جو نسل وجود میں آئی اسے ایسا ہی ہونا تھا۔ آدھا تیتر آدھا بٹیر اور سر پر دولے شاہ کا آہنی کنٹوپ۔ مشن اکمپلشڈ۔ راجر۔

کتی مرے فقیر دی جیہڑی چوں چوں نت کرے

ہٹی سڑے کراڑ دی جتھے دیوا رات بلے

پنج ست مرن گوانڈناں تے رہندیاں نوں تاپ چڑھے

سونیاں ہو جاون گلیاں تے وچ مرزا یار پھرے

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *