قطعہ

رہا ہوں اس طرح انجان اپنی زندگانی میں
کہ ہو معصوم سا کردار کوئی اک کہانی میں
ستم اس پر ہوا جب عشق میں ناکام ہو بیٹھا
جھکا کر سر میں ڈوبا شرم سے چلو کے پانی میں

error: