قعرِ دریا‘‘ میں ’’تختہ بند‘‘ ہوئے انسان 

بچپن کی یادوں میں توانا تر یہ قصہ بھی ہے کہ بستر پر تنہا بیٹھے میرے کئی بزرگ بسااوقات بآواز بلند فارسی کا ایک شعر پڑھا کرتے تھے۔ اسے پڑھنے کے بعد نکلی آہ انسانی بے بسی کا پریشان کن اظہار ہوتی۔ میں اسے سن کر اکثر گھبرا جاتا۔چھٹی جماعت میں فارسی مجھے اختیاری مضمون کی صورت پڑھنا پڑی تھی۔ زیادہ وقت ’’رفت،رفتند …‘‘ جیسی گردان یاد کرنے ہی میں صرف ہوگیا۔ یہ بھی علم ہوا کہ کرسی کو فارسی میں ’’صندلی‘‘ کہا جاتا ہے۔اس کے علاوہ ککھ یاد نہیں رہا۔

وہ شعر جو میرے بزرگ اکثر دہرایا کرتے تھے اس کے پورے الفاظ یاد نہیں رہے۔اس کا مفہوم غالباََ ربّ کریم سے شکوہ کرتا ہے کہ تونے مجھے لکڑی کے تختے سے باندھ کر بپھرے دریا میں پھینک دیا۔اس کے بعد تقاضایہ بھی ہے کہ میرے کپڑے گیلے نہ ہوں۔ میں نے اس شعر کی اپنے تئیں جو تکانماتشریح کی وہ انسان کو لالچ اور گناہ کو اُکسانے والی ترغیبات سے گریز کے حوالے سے اُبھرے مخمصے کا ذکر کرتی ہے۔

نظر بظاہر شہباز شریف اور ان کی جماعت کے سروں پربندوق رکھ کر کسی نے عمران خان صاحب کو تحریک عدم اعتماد کے ذریعے گھر بھیجنے کو مجبور نہیں کیاتھا۔قومی اسمبلی میں مسلم لیگ (نون) عددی اعتبار سے اپوزیشن میں بیٹھی سب سے بڑی جماعت تھی۔دوسرا نمبر پیپلز پارٹی کا تھا۔اس کے بعد مولانا فضل الرحمن کی جمعیت العلمائے اسلام۔ یہ تینوں جماعتیں اپنی بھاری بھر کم تعداد کے باوجود عمران حکومت کو گرانے کے قابل نہیں تھیں۔گزشتہ برس کے مارچ سے مگر جب تحریک انصاف کی صفوں میں بغاوت ابھرنا شروع ہوئی تو عمران خان صاحب کے نامزد کردہ ڈاکٹر حفیظ شیخ کو خفیہ رائے شماری کی بدولت سینٹ کا رکن منتخب ہونے میں ناکامی کا سامنا پڑا۔ اس ناکامی نے اپوزیشن کا حوصلہ بڑھایا۔

اس کے بعد گزشتہ برس ہی کے اکتوبر میں ایک اہم ریاستی ادارے کے سربراہی کی تعیناتی کے ضمن میں وزیر اعظم کی جانب سے برتی تاخیر نے ’’سیم پیج‘‘ والے تصور کو کمزور تر دکھانا شروع کردیا۔عمران حکومت کی ’’اتحادی‘‘ جماعتیں بھی شکوہ کنائی میں مصروف ہوگئیں۔آصف علی زرداری اور شہباز شریف کے دلوں میں امید بندھی کہ عمران خان صاحب سے ناراض ہوئے افراد کو ساتھ ملاکر سابق وزیر اعظم کو تحریک عدم اعتماد کے ذریعے گھر بھیجا جاسکتا ہے۔انہوں نے اس کی خاطر ’’بندے‘‘ جمع کرنا شروع کردئیے۔

یہ دونوں صاحبان جب بندے پورے کرنے میں مصروف تھے تو عمران خان صاحب نے قوم سے خطاب کرتے ہوئے اعلان کردیا کہ رواں برس کے جون تک پیٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں میں اضافہ نہیں کیا جائے گا۔مذکورہ اعلان عالمی منڈی کے نگہبان ادارے کو انگوٹھا دکھانے کے مترادف تھا۔یہ ادارہ شوکت ترین کے تیار کردہ بجٹ سے مطمئن نہیں تھا۔ اس نے 500ملین ڈالر کی وہ قسط روک لی جو پاکستان کو ’’امدادی پیکیج‘‘ کے نام پر وصول ہوتی تھی۔ اسے رام کرنے کے لئے ’’منی بجٹ‘‘ متعارف کروانا پڑا تھا۔ اس کے علاوہ سٹیٹ بینک آف پاکستان کو کامل خودمختاری دینے کا قانون بھی انتہائی عجلت میں منظور کروایا گیا۔ مذکورہ اقدامات لینے کے بعد آئی ایم ایف کو انگوٹھا دکھانا ممکن ہی نہ رہا۔عمران خان صاحب اس کے باوجود آتش نمرود میں بے خطر کود پڑے۔

 اپوزیشن جماعتوں کے لئے مناسب تو یہی تھا کہ لب بام کھڑے محو تماشہ رہتیں۔ انتظار کرتیں کہ رواں برس کے جون میں عمران حکومت اپنا بجٹ کیسے بنائے گی۔ ان کے ذہنوں میں لیکن ’’29مئی 2022ئ‘‘ کا خوف ڈال دیا گیا۔سرگوشیوں میں پھیلائی افواہوں کے ذریعے تاثر یہ ابھارا گیا کہ مذکورہ روز سابق وزیراعظم نومبر میں تعینات ہونے والے آرمی چیف کا اعلان کردیں گے۔ اس ضمن میں جو نام مشہور ہوا وہ اپوزیشن جماعتوں کو 2017ء سے ’’بندے کا پتر‘‘ بنائے رکھنے کا ذمہ دار تصور ہوتا ہے۔اپوزیشن کو خطرہ لاحق ہوا کہ اگر وہی صاحب تعینات ہوگئے تو عمران خان صاحب آئندہ انتخاب سادہ نہیں بلکہ بھاری اکثریت سے جیت جائیں گے۔ انہیں مضبوط تر بنانے کے لئے آصف علی زرداری اور شہباز شریف جیسے قدآور رہنمائوں کو ’’منی لانڈرنگ‘‘ وغیرہ کے الزامات کے تحت سزائیں سنواکر عوامی عہدے کے لئے نااہل بھی قرار دلوایا جاسکتا ہے۔

’’29مئی ‘‘کی وجہ سے ابھرے سچے یا جھوٹے خدشات نے اپوزیشن جماعتوں کو مزید متحرک بنادیا۔ مارچ کے پہلے ہفتے میں بالآخر وزیر اعظم کیخلاف تحریک عدم اعتماد قومی اسمبلی کے دفتر میں جمع کروادی گئی۔قومی اسمبلی کے سابق سپیکر اسد قیصر مگر اس پر گنتی کروانے میں لیت ولعل سے کام لیتے رہے۔ دریں اثناء عمران حکومت کو واشنگٹن میں تعینات پاکستانی سفیر کی جانب سے بھیجا ایک مراسلہ مل گیا۔عمران خان صاحب اور ان کی جماعت کا دعویٰ ہے کہ مذکورہ مراسلے کی بدولت علم ہوا کہ بائیڈن انتظامیہ عمران خان صاحب کی خارجہ پالیسی سے ’’نکونک‘‘ آچکی ہے۔وہ ان کا تختہ الٹنے کا ارادہ باندھے ہوئے ہے۔اپوزیشن کی جانب سے پیش ہوئی تحریک عدم اعتماد درحقیقت واشنگٹن میں سوچی ترکیب ہے۔ ’’امریکی سازش‘‘ ناکام بنانے کے لئے عمران خان صاحب البتہ 3اپریل تک ڈٹے رہے۔ان کے لگائے ڈپٹی سپیکر قاسم سوری نے تحریک عدم اعتماد کو ’’مسترد‘‘ کردیا۔یہ اعلان ہوتے ہی عمران خان صاحب نے صدر مملکت کو نئے انتخابات کروانے کے لئے چٹھی لکھ دی۔سپریم کورٹ نے تاہم مذکورہ اقدامات غیر آئینی ٹھہرادئیے۔ قومی اسمبلی تحریک عدم اعتماد پر گنتی کروانے کو مجبور ہوئی۔عمران خان صاحب اس کے نتیجے میں ہمارے وزیر اعظم نہیں رہے۔ شہباز شریف نے گیارہ جماعتوں پر مشتمل بھان متی کا کنبہ دِکھتی حکومت کی قیادت سنبھال لی۔

اقتدار سنبھالتے ہی انہیں پہلا فیصلہ یہ کرنا تھا کہ پیٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں کو اسی سطح پر منجمد رکھنا ہے یا نہیں جس کا اعلان عمران خان صاحب نے کیا تھا۔قیمتوں کو اس سطح پر برقرار رکھنے کے لئے قومی خزانے سے بھاری بھر کم امدادی رقم درکار ہے۔عام پاکستانی مگر اس کے بارے میں لاتعلق محسوس کرتا ہے۔آئی ایم ایف اگرچہ بضد ہے کہ پیٹرول اور ڈیزل کی پاکستان میں قیمتیں طلب اور رسد کے قانون کے تحت طے کی جائیں۔اس کی ہدایت پر عمل ہوتو ہمارے ہاں یکمشت پیٹرول کے ایک لیٹر کی قیمت میں کم از کم 30روپے کا اضافہ کرنا پڑے گا۔حکومت نے یہ اضافہ کردیا تو پاکستانیوں کی اکثریت بلبلااٹھے گی۔ مذکورہ اضافے کو ٹالنے کے لئے شہباز حکومت کوئی ’’جگاڑ‘‘ لگانا چاہ رہی ہے۔ وہ کماحقہ ’’جگاڑ‘‘ لگانے میں ناکام رہی تو آئی ایم ایف مزید امدادی رقوم فراہم نہیں کرے گا۔ جس کے نتیجے میں بالآخر آئندہ دو تین ماہ بعد پاکستان خدانخواستہ دیوالیہ بھی ہوسکتا ہے۔

شہباز حکومت کو اعتماد ہے کہ چند ’’کڑوی گولیاں‘‘ نگل کر وہ پاکستان کو دیوالیہ سے محفوظ رکھ سکتی ہے۔اس تناظر میں اس نے جو ترکیب سوچی ہے اسے مرحلہ وار اگلے برس کے جون تک لاگو کرنا پڑے گا۔ عمران خان صاحب حکومت کو اتنا وقت دینے کو آمادہ نہیں۔ بضد ہیں کہ رواں ماہ کے آخری ہفتے تک نئے انتخاب کی تاریخ کا اعلان کردیا جائے وگرنہ وہ لاکھوں حامیوں کے ہمراہ اسلام آباد پہنچ کر حکومتی کاروبار جام کردیں گے۔

’’امریکی سازش‘‘ کی داستان نے ’’میر جعفروں ‘‘ کو بھی پریشان کردیا ہے۔ وہ چاہ رہے ہیں کہ شہباز حکومت آئندہ بجٹ تیار کرنے اور اسے قومی اسمبلی سے منظور کروانے کے بعد تازہ انتخاب کا اعلان کردے۔ شہباز شریف اور ان کی جماعت مگر عوام کو اشتعال دلانے والے فیصلے لینے کے بعد ووٹ مانگنے جائے گی تو ان کے حلقوں کے دیرینہ حامی ان سے ہاتھ ملانے کو بھی آمادہ نہیں ہوں گے۔عمران خان صاحب اور ان کی جماعت کے لئے البتہ ایسا ماحول بن جائے گا جو 1997ء کے انتخاب کے دوران نواز شریف کے لئے نمودار ہوا تھا۔

آسان راہ تو یہ تھی کہ آئندہ بجٹ تیار کرنے کے بجائے شہباز حکومت جلد ازجلد نئے انتخاب کا اعلان کردے۔وہ مگر ایسا کرے گی تو اس میں شامل جماعتوں کو ’’خودغرض اور بزدل‘‘ ٹھہرایا جائے گا جو پاکستان کو دیوالیہ سے بچانے کے لئے کڑے اور بروقت فیصلے لینے میں ناکام رہیں۔ ریاستی ادارے ان کی یہ ’’خطا‘‘ کبھی معاف نہیں کریں گے۔ فارسی شعر کے ’’قعر دریا‘‘ میں ’’تختہ بند‘‘ ہوئے انسان کی مجبوری لہٰذا مجھے یاد آنا شروع ہوگئی ہے۔

error: