قلعہ سیف اللہ: مسافر وین کا حادثہ جو کئی گھروں کے ایک سے زائد افراد نگل گیا

بلوچستان کے ضلع قلعہ سیف اللہ میں کھائی میں گرنے والی مسافر وین کے المناک حادثے نے متعدد خاندانوں کو سوگوار کردیا لیکن ان میں بعض خاندانوں کا غم دوگنا ہے کیونکہ ان کے دو یا دو سے زائد رشتہ دار اس حادثے کی وجہ سے ان سے بچھڑ گئے۔

یاد رہے کہ بدھ کی صبح حادثے سے دوچار ہونے والی مسافر گاڑی لورالائی سے نکلی تھی اور مین روٹ کی بجائے اخترزئی روڈ سے ژوب جارہی تھی کے اس علاقے میں پہاڑ کی چوٹی سے نیچے گہری کھائی میں جاگری۔

اس سوگوار خاندانوں میں ژوب سے تعلق رکھنے والے عبدالمالک سلیمان خیل کا خاندان بھی شامل ہے جس میں ان کے دو ماموں ہلاک ہوگئے۔

اس حادثے میں مسافر وین میں سوار 23 افراد میں سے صرف ایک مسافر بچ گیا جس کی عمر 13سال کے لگ بھگ ہے لیکن ان کی بھی حالت تشویشناک ہے۔

حادثہ

ڈپٹی کمشنر قلعہ سیف اللہ حافظ محمد قاسم کاکڑ نے بتایا کہ حادثہ صبح کے وقت ضلع کے علاقے اخترزئی کے علاقے میں پیش آیا۔

عینی شاہدین کے مطابق چونکہ گاڑی بہت زیادہ گہرائی میں جاکر گری جس کی وجہ سے ہلاکتیں زیادہ ہوئیں۔

’ہلاک ہونے والے میرے دونوں ماموں بڑے بھائی سے ملنے لورالائی گئے تھے۔‘

عبدالمالک اپنے حادثے میں ہلاک ہونے والے دونوں ماموﺅں کی لاشوں کو لینے کے لیے ژوب سے قلعہ سیف اللہ آئے تھے۔

جب ان سے فون پر رابطہ کیا گیا تو انھوں نے بھرائی ہوئی آواز میں کہا کہ اس حادثے نے ان کے خاندان کو ایک بڑے سانحے سے دوچار کردیا۔

ان کا کہنا تھا کہ ان کے دونوں ماموں داد میر اور نور محمد شادی شدہ تھے اور ان کے بچے بھی ہیں۔

عبدالمالک نے بتایا کہ ان کے ماموں ژوب سے اپنے بڑے بھائی سے ملنے لورالائی گئے تھے جو کہ وہاں کھیتی باڑی کرتے ہیں۔

انھوں نے کہا ان کے ساتھ تین دن تک قیام کے بعد آج وہ واپس ژوب اپنے گھر جارہے تھے لیکن اس حادثے کی وجہ سے وہ گھر نہیں پہنچ سکے اورہم سے ہمیشہ ہمیشہ کے لیے بچھڑ گئے۔

عبدالمالک کی طرح پائند خان بھی اپنے خاندان کے دو افراد کو اس حادثے میں کھو دیا۔

ان کا کہنا تھا کہ وین کے حادثے میں ان کی بیوی اور بھانجے لورالائی سے ژوب آرہے تھے لیکن حادثے میں دونوں ہلاک ہوگئے۔

بعض اطلاعات کے مطابق ہلاک ہونے والوں میں گنڈاپور قبیلے سے تعلق رکھنے والے ایک ہی خاندان کے چھ سے زائد افراد بھی شامل تھے۔

ہلاک ہونے والوں میں 12 مرد، 5خواتین اور 5 بچے شامل تھے۔

حادثہ

حادثے میں صرف ایک مسافر زندہ بچ گیا

ڈپٹی کمشنر قلعہ سیف اللہ نے بتایا کہ گاڑی میں سوار 23 افراد میں سے ڈرائیور سمیت 22 مسافر ہلاک ہوگئے لیکن ان میں سے ایک بچ گیا جن کی عمر 13سال کے لگ بھگ ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ بچ جانے والا مسافر شدید زخمی ہے جن کو پہلے قلعہ سیف اللہ پہنچایا گیا جہاں سے بعد انھیں مزید علاج کے لیے کوئٹہ منتقل کیا گیا۔

ہوش میں نہ آنے کے باعث اس کم عمر مسافر کی تاحال شناخت نہیں ہوسکی ہے۔

حادثہ کہاں پیش آیا؟

ڈپٹی کمشنر قلعہ سیف اللہ نے بتایا کہ یہ حادثہ صبح 8 بجے کے قریب اخترزئی کے علاقے میں پیش آیا۔

ان کا کہنا تھا کہ حادثے سے دوچار ہونے والی مسافر گاڑی صبح لورالائی سے نکلی تھی اور مین روٹ کی بجائے اخترزئی روڈ سے ژوب جارہی تھی۔

انھوں نے بتایا کہ اختر زئی کے علاقے میں گاڑی پہاڑ کی چوٹی سے نیچے گہری کھائی میں جاگری۔

انھوں نے بتایا کہ گہرائی بہت زیادہ تھی جس کی وجہ سے ہلاکتیں زیادہ ہوئیں۔

ان کا کہنا تھا کہ ریسکیو 1122اور انتظامیہ کے اہلکاروں کے علاوہ علاقے کے لوگ وہاں پہنچے اور لاشوں اور واحد بچ جانے والے کم عمر مسافر کو ہسپتال پہنچایا۔

عینی شاہدین نے کیا دیکھا؟

محمد اکرام ان لوگوں میں شامل تھے جو کہ حادثے کے بعد جائے وقوعہ پر پہنچے اور انھوں نے ایک اور شخص کے ساتھ حادثے میں زخمی ہونے والے مسافر کو پہلے قلعہ سیف اللہ پہنچایا اور پھر وہاں سے کوئٹہ لایا۔

اکرام احمد نے بتایا کہ چونکہ گہرائی بہت زیادہ تھی جس کی وجہ سے گاڑی کئی قلابازی کھانے کی وجہ سے پچک گئی تھی۔

ان کا کہنا تھا کہ انھوں نے تمام مسافروں کو دیکھا جن میں سے ایک کم عمر مسافر کے سوا باقی تمام مسافر ہلاک ہوگئے تھے۔

انھوں نے بتایا کہ جب ان میں سے ایک کی سانسیں چل رہی ہیں تو انھوں نے فوری طور پر ان کو پہلے ابتدائی طبی امداد کے لیے قلعہ سیف اللہ پہنچایا اور وہاں ضروری طبی امداد کی فراہمی کے بعد ان کو کوئٹہ لایا۔

انھوں نے کہا کہ قلعہ سیف اللہ اور کوئٹہ دونوں میں ڈاکٹروں نے بتایا کہ بچ جانے والے مسافر کی حالت تشویشناک ہے۔

error: