قومی اسمبلی میں پی ٹی آئی کے ایک اور رکن کی حکومت پر تنقید

وزیر دفاع پرویز خٹک کی جانب سے وزیر اعظم عمران خان کے سامنے مخالف مؤقف اپنانے کے اگلے ہی روز پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے ایک اور رہنما نے قومی اسمبلی کے فلور پر خیبرپختونخوا کو 'نظر انداز' کرنے پر حکومت پر تنقید کرتے ہوئے مطالبہ کیا کہ کابینہ کے اعلیٰ اراکین بشمول وزیرا عظم کا نام ایگزٹ کنٹرول لسٹ (ای سی ایل) میں ڈالا جائے۔

 رپورٹ کے مطابق نور عالم خان نے حکومتی بنچوں کی اگلی قطاروں کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ 'پہلی تین قطاروں میں براجمان افراد ہی ملک میں افراتفری کے اصل مجرم ہیں، لہٰذا ان کے نام ای سی ایل میں ڈالیں، پاکستان بچ جائے گا'۔

ایک روز قبل وزیر دفاع کی طرح، حکمران جماعت کے رکن قومی اسمبلی نے بھی خیبر پختونخوا، خاص طور پر صوبائی دارالحکومت پشاور میں گیس کے نئے کنکشن پر پابندی کا معاملہ اٹھایا۔

این اے 27 سے تعلق رکھنے والے نور عالم خان نے اپنے آبائی شہر کا وزیر اعظم کے حلقے سے موازنہ کرتے ہوئے کہا کہ ایسا لگتا ہے کہ پشاور اس ملک کا ضلع نہیں ہے بلکہ میانوالی اور سوات ہیں۔

حکومت میں کسی کا نام لیے بغیر نور عالم خان نے حکمرانوں سے کہا کہ وہ اپنے پرتعیش خول سے باہر نکلیں اور عوام کی مشکلات پر توجہ دیں۔

انہوں نے کہا کہ 'براہ کرم اپنے ہوائی جہاز، اپنی لینڈ کروزر اور بی ایم ڈبلیو سے باہر نکلیں اور لوگوں کی حالت دیکھیں'۔

دریں اثنا اپوزیشن نے دعویٰ کیا تھا کہ حکمران جماعت پی ٹی آئی کو اپنی صفوں میں ٹوٹ پھوٹ کا سامنا ہے۔

پاکستان مسلم لیگ (ن) کے رہنما احسن اقبال نے ایک ٹی وی انٹرویو میں کہا تھا کہ 'پی ٹی آئی کے اندر ٹوٹ پھوٹ کا عمل شروع ہو گیا ہے'۔

پشاور سے تعلق رکھنے والے پی ٹی آئی کے رہنما نے ایسے ہی ریمارکس دیے جو مبینہ طور پر وزیر دفاع پرویز خٹک نے حکمران اتحاد کی پارلیمانی پارٹی کے اجلاس میں کہے تھے، انہوں نے کہا تھا کہ 'کیا میں پاکستانی نہیں ہوں، کیا میں یہاں صرف اپنا ووٹ ڈالنے آیا ہوں؟'

دلچسپ بات یہ ہے کہ وزیر دفاع نے مؤقف اختیار کیا کہ خیبر پختونخوا کے لوگوں کو بنیادی سہولیات بھی نہیں دی گئیں اور صوبے میں گیس کے نئے کنکشن پر پابندی بھی عائد کر دی گئی ہے۔

انہوں نے تنبیہ کی تھی کہ اگر ان کے صوبے کے مسائل حل نہ ہوئے تو وہ وزیر اعظم کو ووٹ نہیں دیں گے، جس پر وزیر اعظم خان نے مبینہ طور پر پرویز خٹک سے کہا تھا کہ وہ انہیں 'بلیک میل' نہ کریں۔

بونیر سے تعلق رکھنے والے پی ٹی آئی کے ایک اور رہنما شیر اکبر خان نے ضرورت سے زیادہ بلنگ کا مسئلہ اٹھایا اور مالاکنڈ ڈویژن میں فیول ایڈجسٹمنٹ چارجز واپس لینے کا مطالبہ کیا۔

انہوں نے کہا کہ سابق قبائلی علاقوں اور مالاکنڈ ڈویژن کو ٹیکس فری زون قرار دیا گیا تھا لیکن ان علاقوں کے لوگ مختلف ٹیکس دینے پر مجبور ہیں۔

شمالی وزیرستان کے ایم این اے محسن داوڑ نے کہا کہ ان کے حلقے اور قریبی علاقوں کے لوگ گیس کے لیے پکار رہے ہیں، لیکن حکومت کی جانب سے خیبر پختونخوا کو دی جانے والی گیس کی مقدار کے نام پر پارلیمنٹ کو بے وقوف بنایا جارہا ہے۔

انہوں نے دعویٰ کیا کہ صوبے میں پیدا ہونے والی گیس یہاں کے مکینوں کو فراہم نہیں کی جارہی ہے بلکہ یہ ملک کے دیگر حصوں میں شہریوں کو جا رہی ہے۔

بلوں کی بلڈوزنگ

اپوزیشن نے قومی اسمبلی میں حکومت پر تنقید جاری رکھتے ہوئے ضمنی مالیاتی بل 2022 اور اسٹیٹ بینک آف پاکستان (ترمیمی) بل کو 'بلڈوزنگ' قرار دیا۔

مسلم لیگ (ن) کے رہنما خواجہ آصف نے کہا کہ 'وزیر اعظم' نے دعویٰ کیا تھا کہ وہ 200 ارب ڈالر واپس لائیں گے اور اسے غیر ملکی قرض فراہم کرنے والوں کے منہ پر پھینک دیں گے، لیکن آپ نے پورے اسٹیٹ بینک کو ان کے منہ پر پھینک دیا ہے'۔

انہوں نے کہا کہ جب اہم بلوں کو بلڈوز کیا جارہا تھا تو اسپیکر قومی اسمبلی اسد قیصر نے ایوان میں انتہائی تعصب کا مظاہرہ کیا۔

انہوں نے کہا کہ ہم نے 50 سالہ آئینی تاریخ میں اسپیکر اور ڈپٹی اسپیکر کا ایسا رویہ نہیں دیکھا۔

پیپلز پارٹی کی شازیہ مری نے کہا کہ حکومت نے عوام پر 350 ارب روپے کے نئے ٹیکس لگائے ہیں جو پہلے ہی مہنگائی میں غیر معمولی اضافے کے بوجھ تلے دب چکے ہیں۔

اس پر پارلیمانی امور کے وزیر مملکت علی محمد خان نے کہا کہ قومی اسمبلی سے منظور ہونے والے بلوں کو بلڈوز نہیں کیا گیا کیونکہ ان پر متعلقہ قائمہ کمیٹیوں کے سامنے پہلے ہی بحث ہو چکی ہے۔

اجلاس کی صدارت کرنے والے ڈپٹی اسپیکر قاسم سوری نے ایوان کی کارروائی پیر کی شام 4 بجے تک ملتوی کر دی۔

error: