قومی اسمبلی میں ہنگامہ: سات حکومتی اور اپوزیشن اراکین پر اسمبلی حدود میں داخلے پر پابندی

اس وقت اگر اسمبلی میں سب سے زیادہ کوئی مشکل میں ہے تو وہ شاید خود اس ایوان کے سپیکر قومی اسمبلی اسد قیصر ہیں جو منگل کو یہ کوشش کرتے نظر آئے کہ کسی طرح قومی اسمبلی کا اجلاس جاری رہ سکے لیکن بظاہر ان کی اپنی ہی جماعت کے لوگ ان کی نہیں سن رہے تھے۔

پاکستان کی قومی اسمبلی میں منگل کو ہونے والا اجلاس ہنگامہ آرائی کی نذر ہو گیا جس میں اپوزیشن اور حکومتی ارکان باہم دست و گریباں نظر آئے، غیر پارلیمانی زبان کا استعمال ہوا اور بجٹ کی کاپیوں کو بطور ہتھیار استعمال کیا گیا جس سے بعض ارکان پارلیمان کے زخمی ہونے کی بھی اطلاعات ہیں۔ ایوان کی کارروائی کی یہ ویڈیوز سوشل میڈیا پر وائرل ہوئیں۔

منگل کو ایوان میں ہونے والی ہنگامہ آرائی کے بعد قومی اسمبلی کا اجلاس بدھ تک ملتوی کر دیا گیا اور اس کے بعد سپیکر قومی اسمبلی اسد قیصد نے اپنی ایک ٹویٹ میں اسمبلی میں ہونے والے واقعات کو مایوس کُن قرار دیا۔ اُنھوں نے کہا کہ واقعے کی مکمل تحقیقات کروائی جائیں گی اور غیر پارلیمانی زبان استعمال کرنے والے ارکان کو بدھ کو ایوان میں داخلے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔

اسد قیصر

یوں تو جس دن بجٹ پیش کیا گیا تھا اسی دن سے ایوان کے اندر ہنگامہ آرائی شروع ہو گئی تھی مگر منگل کے اجلاس کے دوران جب حکومتی اراکین بھی اس احتجاج میں زور و شور سے شامل ہو گئے تو سپیکر قومی اسمبلی کو کم از کم تین بار ایوان کی کارروائی ملتوی کرنا پڑی۔

سپیکر کی ہدایات پر پارلیمان کے اندر سکیورٹی پر مامور سارجنٹ ایٹ آرمز نے ایوان میں امن قائم کرنے اور ڈِسپلن بحال کرنے کی کوشش ضرور کی اور ہوا میں اڑتی بجٹ کی ایک کاپی لگنے سے سکیورٹی سٹاف یعنی سارجنٹ ایٹ آرمز بھی معمولی زخمی ہوئے۔

سپیکر کے اختیارات اور سارجنٹ ایٹ آرمز

منگل کے روز سپیکر اسد قیصر نے اپنے اختیارات استعمال کرتے ہوئے نا صرف سارجنٹ ایٹ آرمز کو ہنگامہ آرائی روکنے کی ہدایات دیں بلکہ ان کی درخواست پر ایوان بالا نے سارجنٹ ایٹ آرمز کی اضافی نفری بھی قومی اسمبلی سیکرٹریٹ کے حوالے کر دی ہے۔

سارجنٹ ایٹ آرمز پارلیمنٹ کے دونوں ایوانوں میں موجود ان اہلکاروں کو کہا جاتا ہے جو ہنگامہ آرائی اور اس قسم کے ناخوشگوار صورتحال پر قابو پانے کی ذمہ داری انجام دیتے ہیں۔

یہ سارجنٹ سپیکر کے حکم پر کسی رکن قومی اسملبی کو زبردستی ایوان سے باہر بھی نکال سکتے ہیں۔ تاہم ابھی تک سپیکر اسد قیصر نے اپنے ان اختیارات کا استعمال نہیں کیا ہے اور صرف تحقیقات کا اعلان کیا ہے۔

سارجنٹ ایٹ آرمز ایوان میں سکیورٹی سیل کا حصہ ہوتے ہیں۔ پارلیمنٹ میں سکیورٹی سیل کی ذمہ داری ہوتی ہے کہ اس کے ارکان سپیکر قومی اسمبلی یا چیئرمین سینیٹ کو ان کے آفس سے قومی اسمبلی و سینٹ کے ہال تک اور واپسی میں ان کے ساتھ رہیں، مہمانوں کی گیلری میں موجود افراد پر نظر رکھیں، اجلاسوں کے دوران کمیٹی رومز پر نظر رکھیں اور سینیٹ چیئرمین یا قومی اسمبلی کے سپیکر کے حکم پر ایوان کے ہال میں نظم و ضبط قائم کریں۔

بجٹ ہنگامہ آرائی

سیاسی ماہرین کے مطابق سپیکر قومی اسمبلی ہنگامہ آرائی اور ڈِسپلن کی خلاف ورزی کرنے والے رکن کی رکنیت بھی معطل کر سکتا ہے۔

سپریم کورٹ کے سینیئر وکیل آزاد نفیس نے بی بی سی کو بتایا کہ پارلیمنٹ کے اجلاس کی کارروائی کا تعلق اندرونی قواعد و ضوابط سے ہی ہوتا ہے جو اجلاس کے موقع پر سپیکر جاری کر دیتا ہے۔ ان کے مطابق ان رولز کا براہ راست کوئی آئین اور قانون سے تعلق نہیں ہوتا۔

ایک طویل عرصہ قومی اسمبلی کے سیکرٹری رہنے والے کرامت اللہ نیازی نے بی بی سی کو بتایا کہ سپیکر کو کسی بھی رکن کے خلاف کارروائی عمل میں لانے کے لیے مشروط اختیارات حاصل ہوتے ہیں۔ ان کے مطابق اگر کسی رکن کا رویہ انتہائی نامناسب ہو تو پھر ایسے میں سپیکر اسے اجلاس سے نکال بھی سکتا ہے اور اس کی رکنیت کو بھی معطل کر سکتا ہے مگر یہ اختیارات کبھی کبھار ہی استعمال میں لائے جاتے ہیں۔

کرامت اللہ نیازی کے مطابق ایوان کی رولز آف بزنس کی ایک کمیٹی ہوتی ہے جو ان رولز کو بناتی ہے اور اس میں ایوان کی منظوری سے تبدیلیاں لائی جاتی ہیں۔ ان کے مطابق سپیکر سارجنٹ ایٹ آرمز کو کہہ کر کسی رکن کو زبردستی بھی اجلاس سے باہر نکال سکتا ہے مگر کسی رکن کی گرفتاری یا اس سے مزید کسی بھی قسم کی سخت سزا سنانے کا سپیکر کو بھی اختیار حاصل نہیں ہوتا ہے۔

سیاسی ماہرین کے مطابق ایسی صورتحال میں زیادہ تر سپیکر اپنے تجربے اور سیاسی شعور کو بروئے کار لاتے ہوئے معاملات کو آگے بڑھاتا ہے اور بیک وقت ایوان میں موجود ہر جماعت سے بیک ڈور رابطہ بھی قائم کر کے رکھتا ہے۔

منگل کو سپیکر قومی اسمبلی اسد قیصر نے حکومتی اور اپوزیشن جماعتوں کے نمائندوں سے ملاقات بھی کی مگر پھر بھی ایسا لگ رہا ہے کہ اجلاس میں ہنگامہ آرائی ابھی تھمنے کا نام نہیں لے رہی۔

منگل کو وزیر اعظم عمران خان کی بھی سپیکر قومی اسمبلی اسد قیصر سے ملاقات ہوئی ہے اور اطلاعات کے مطابق کچھ سابق سپیکرز نے بھی ان سے رابطہ قائم کر کے ایوان کی کارروائی کو آگے بڑھانے سے متعلق مشاورت کی ہے۔

’سپیکر‘ کی موت

وفاقی وزیر فواد چوہدری نے بجٹ اجلاس کے دوران ہنگامہ آرائی کو معمول کا حصہ قرار دیتے ہوئے کہا کہ ’اس اسمبلی میں تو ایک سپیکر جان سے چلے گئے تھے، کرسی لگنے سے۔‘

پاکستان کی اسمبلی میں جو کچھ ہو رہا ہے اس سے سنہ 1958 کا وہ واقعہ یاد آتا ہے جب مشرقی پاکستان اسمبلی میں ہنگامہ آرائی کے دوران ڈپٹی سپیکر شاہد علی کی زخمی ہونے کے دو روز بعد موت ہو گئی تھی جسے پراسرار قتل بھی کہا گیا تھا۔

نوائے وقت
،تصویر کا کیپشناخبار نوائے وقت میں شائع ہونے والی ڈپٹی سپیکر شاہد علی کی وفات کی خبر

جب اپوزیشن ارکان کو اسمبلی سے باہر نکال دیا گیا

پاکستان کے ایوان زیریں اور ایوان بالا کا حصہ رہنے والے جماعت اسلامی پاکستان کے سابق نائب امیر پروفیسر غفور احمد نے اپنی کتاب ’اور پھر مارشل لا آ گیا‘ میں ایک ایسے واقعے کے بارے میں لکھا ہے جس سے معلوم ہوتا ہے کہ قومی اسمبلی میں اراکین کو زبردستی بھی ایوان سے نکالا گیا تھا۔ وہ اہنی کتاب میں لکھتے ہیں کہ سنہ 1975 میں جب ذوالفقار علی بھٹو وزیر اعظم تھے تو قومی اسمبلی سے اپوزیشن اراکین کو اظہار خیال کا موقع دیے بغیر فیڈرل سکیورٹی فورس کے ذریعے اسمبلی بلڈنگ سے باہر سڑک پر پھینک کر اور اسمبلی کے بیرونی دروازے کو مقفل کر کے صرف 23 منٹ میں دستور میں ترمیم کا چوتھا ترمیمی بل منظور کر لیا گیا تھا۔

پھر مارشل لا آ گیا
،تصویر کا کیپشنپروفیسر غفور احمد کی کتاب، پھر مارشل لا آ گیا سے اقتباس

پروفیسر غفور نے اپنی کتاب میں یہ بھی لکھتے ہیں کہ ’ اس دور کے بعض سیاسی مبصرین اور سینیئر صحافیوں کے مطابق جن اراکین اسمبلی کو کارروائی سے زبردستی باہر نکالا گیا تھا ان میں مولانا فضل الرحمان کے والد اور اس وقت جے یو آئی کے امیر مولانا مفتی محمود اور شاہ احمد نورانی بھی ان اراکین میں شامل تھے جبکہ کچھ اپوزیشن اراکین نے خود اس اجلاس کا بائیکاٹ کیا تھا۔‘

error: