قومی حکومت یا قوم کی حکومت ؟

برادرِ محترم نے انہی صفحات پر 13اور 15اپریل کو ایک ہی سانچے (Template) میں ڈھلے دو کالم یکے بعد دیگرے ارزاں کیے ہیں۔ دونوں کالموں میں، معمولی تصرف کے ساتھ، تین نکات بیان کئے ہیں، خلاصہ یہ ہے کہ حکومت کورونا بحران سے نمٹنے میں ناکام ہوئی ہے۔ معیشت کا حال پہلے سے دگرگوں تھا، اب سراپا پراگندگی ہو چکا۔ تیسرے یہ کہ عمران حکومت سیاسی مفاہمت کی صلاحیت نہیں رکھتی۔ نتیجہ تحریر یہ نکالا ہے کہ چند ماہ کیلئے قومی حکومت تشکیل دی جائے جس کا پہلا کام کورونا سے نمٹنا، دوسرا فریضہ معیشت کو سنبھالا دینا (نیز میثاقِ معیشت تیار کرنا)، تیسری ذمہ داری انتخابی اصلاحات اور آخری مرحلہ نئے اور شفاف انتخابات کا انعقاد ہو۔ ایک اہم بات یہ کہ برادر عزیز نے ہر دو تحریروں میں ذمہ داری کا بار حزبِ اختلاف کے کندھوں پر رکھا ہے، حکومت کے لئے جاہلانہ اور حزبِ اختلاف کے لئے مجرمانہ کے اسمائے صفت پسند کیے ہیں، ایک موہوم امکان کو البتہ پردئہ اسرار میں رکھنا مناسب خیال کیا۔

کورونا کا بحران تو محض ضرورتِ شعری کی حیثیت رکھتا ہے، حقیقی بحران کچھ اور ہے۔ ملک میں ایک منتخب حکومت موجود ہے جو آئین کے تحت قائم ہوئی ہے۔ اس حکومت کو ہٹانے کا طریقہ کار بھی آئین ہی میں لکھا ہے۔ حزبِ اختلاف کے پاس ایسی کونسی گیڈر سنگھی ہے جس کی مدد سے حکومت کا بوریا بستر لپیٹ کر قومی حکومت کا دستر خوان بچھا دے۔ کیا بغیر نام لئے کسی ورائے آئین بندوبست کی طرف اشارہ کیا جا رہا ہے؟ حزبِ اختلاف تو ایسی ورائے دستور مداخلت کی مزاحمت کے جرم ہی میں سرِبازار رسوا ہو رہی ہے۔ یاد کیجئے، محترم پیر اعجاز شاہ نے نواز شریف کے چوتھی مرتبہ وزیراعظم بننے کے بارے میں کیا کہا تھا؟ ابھی برادرم سہیل وڑائچ سے گفتگو میں شہباز شریف نے کس بیانیے کو رکاوٹ قرار دیا؟ پاکستان کے دستور میں ویسٹ منسٹر کے نمونے پر جمہوری ڈھانچہ استوار کیا گیا ہے۔ پارلیمانی جمہوریت میں قومی حکومت کا تصور 1931کی کساد بازاری کے دوران سامنے آیا جو میونخ پیکٹ کی ناکامی پر منتج ہوا۔ جنگ کے دوران چرچل نے ایک اتحادی حکومت ضرور چلائی تھی لیکن ہمارے مہربان تو کچھ اور سوچ رہے ہیں۔ 2008کے بعد سے بنگلا دیش ماڈل، طویل دورانیے کی نگران حکومت، صدارتی نظام کے لیے ریفرنڈم جیسے شوشے تسلسل کے ساتھ چھوڑے گئے ہیں۔ ایسی سوچ کے حامل عناصر کو موجودہ حکومتی تجربے سے سبق سیکھنا چاہیے۔ عمران حکومت کسی شخصی نااہلی یا بددیانتی کی وجہ سے ناکام نہیں ہو رہی۔ اس تجربے کی ناکامی کی بنیادی وجہ اس کی ساختیاتی ترکیب ہے۔ یہ حکومت شفاف جمہوری تائید سے محروم ہے۔ اس حکومت کو کھڑے ہونے کے لئے پیوستہ مفادات کی بیساکھیوں کا سہارا لینا پڑا ہے۔ یہ حکومت اپنی خلائی کیفیت کے باعث سیاسی قوتوں سے مفاہمانہ رویہ اختیار کرنے سے قاصر ہے۔ اس حکومت میں معاشی فیصلہ سازی بیرونی مالیاتی اداروں کو سونپ دی گئی ہے۔ اس بحران سے نکلنے کا ایک دستوری طریقہ کار موجود ہے اور وہ یہ کہ ازسرنو شفاف انتخابات منعقد کروائے جائیں۔ شفاف انتخاب لیکن وہ یوسفِ گم گشتہ ہے جس کی دید کیلئے یعقوب اپنی آنکھیں گنوا بیٹھا ہے۔

ہماری پہلی نام نہاد قومی حکومت غلام محمد نے خواجہ ناظم الدین کو برطرف کر کے قائم کی تھی جسے باصلاحیت افراد کی کابینہ کہا گیا تھا۔ اس غیردستوری اقدام کا مطالبہ کرنے کے لئے بھی کچھ صحافیوں ہی کو آلہ کار بنایا گیا تھا۔ جمہوریت میں صلاحیت کا اکھوا دستوری جواز کی مٹی سے پھوٹتا ہے۔ غلام محمد کی تشکیل کردہ وہ باصلاحیت کابینہ اسی طرح ناکام ہوئی جس طرح چار ورائے دستور آمریتیں ناکام ہوئیں۔ اصلاحات کا نام لیا جائے یا قومی سلامتی کی دہائی دی جائے، ہمارا تجربہ بتاتا ہے کہ دستوری طریقہ کار سے انحراف بالآخر وہاں لے جاتا ہے جہاں نوے روز گیارہ برس میں بدل جاتے ہیں۔ برادر محترم کے پیش کردہ چار نکات کی تفصیل میں تباہی کا اژدھا پوشیدہ ہے۔ اگر مزعومہ قومی حکومت دستوری جواز کے بغیر معیشت بحال کر سکتی ہے تو پھر محض چند ماہ کی مدت کیوں، ایسی جادو اثر حکومت کو تاقیامت اقتدار سونپ دینا چاہیے۔ افسوس کہ حقائق کی دنیا میں ایسا نہیں ہوتا۔ جنرل ضیا الحق کی مجلس شوریٰ بھی تو ایک قومی حکومت ہی تھی، کبھی اس کے ارکان کی فہرست اٹھا کر دیکھیے۔ ایسی پان اسلامی کہکشاں کہاں سے ڈھونڈیے گا مگر یہ کہ ناکام ہوئی۔ اگست 2008ء میں کسی نے پرویز مشرف سے نہیں پوچھا کہ آپ کے سات نکاتی پروگرام کا کیا بنا؟ اور وہ آپ کے وزیراعظم شوکت عزیز ملک چھوڑ کے کیوں چلے گئے۔ ان سے تو کسی نے مواخذہ بھی نہیں چاہا تھا۔ مواخذے کی بات چلی ہے تو توجہ فرمائیے کہ محترم صحافی نے بغیر کہے محض اسم فاعل کی غیرموجودگی سے موجودہ بندوبست کے اجزائے ترکیبی میں دست معجز کی کارفرمائی تسلیم کر لی۔ زیر نظر کالموں میں ’عمران خان کو وزیراعظم بنوانے‘ اور ’عمران خان کو وزیراعظم بنانے‘ جیسی تراکیب بے دھڑک استعمال کی گئی ہیں۔ میں ہی تو ایک راز تھا سینہ کائنات میں… جس حزب اختلاف سے فیس سیونگ کا تقاضا کیا جا رہا ہے، کیا اسے سچائی اور مفاہمت کے نام سے ایک کمیشن کے قیام کا مطالبہ کرنے کی اجازت مل سکتی ہے۔ اس ملک میں جمہوری قوتوں نے سچائی پر اصرار کیے بغیر بہت بار مفاہمت کر کے دیکھی… تم ہمارے کسی طرح نہ ہوئے… یہ مفاہمت 1972ءمیں کرنا چاہی، 1988میں مفاہمت کر کے دیکھی، 2008میں مفاہمت ہی کی پاداش میں رگیدے گئے۔ سچائی کا تعین کیے بغیر قومی مفاہمت میں شفافیت پیدا نہیں ہو سکتی۔ ایسی مفاہمت کو’مک مکا‘ اور ’فرینڈلی اپوزیشن‘ کے گھاٹ اتار دیا جاتا ہے۔ ایسی مفاہمت کو یک طرفہ احتساب کی بھینٹ چڑھا دیا جاتا ہے۔ اب اگر معیشت غبار آلود ہے، سیاست کی لوتھ گہری کھائی میں لڑھک گئی ہے، اندرونِ ملک یک جہتی اور بیرون ملک ساکھ کے سب نشان ملیامیٹ ہو رہے ہیں تو قومی حکومت کی دُہائی پر کان دھرنا گویا قوم کی مستقل بے دخلی پر مہر لگانے کے مترادف ہو گا۔ قوم شراکت ِاقتدار نہیں، انتقالِ اقتدار چاہتی ہے۔ اب قومی حکومت نہیں بلکہ قوم کی حکومت کو موقع دینا چاہئے۔

error: