قومی سلامتی اور ناخداؤں کی خواب فروشی

ٹوپی سے کبوتر نکالنا، رائی کا پہاڑ بنانا اور کمرے میں موجود ہاتھی سے انکار کرنا کوئی ہم سے سیکھے۔ ہمارے قومی رہبر عمران خان اور قومی مفکر معید یوسف نے ملکی تاریخ میں ’پہلی قومی سلامتی پالیسی‘ کا اعلان کر دیا ہے۔ یہ ’سنگ میل‘ عبور کرتے ہوئے ہمیں بتایا گیا ہے کہ ’معاشی سلامتی ہی مجموعی قومی سلامتی کا مرکزی نقطہ ہے‘۔ اگرچہ اس دستاویز میں معاشی ترقی کو حتمی تجزیے میں قومی سلامتی کا آلہ کار ہی بتایا گیا ہے، تاہم ایک زیر متن تاثر ملتا ہے کہ کہیں نہ کہیں قومی سلامتی کے عسکری تصور پر معاشی ترقی کو تسلسل سے قربان کرنے کے ناگزیر نقصانات کا موہوم احساس ضرور پیدا ہوا ہے۔ دوسری طرف اعلان کردہ پالیسی سے یہ بھی واضح ہو رہا ہے کہ معیشت کی کڑوی گولی نگلنے کے پس پشت دراصل سلامتی کے عسکری لائو لشکر کے تسلسل کا جذبہ کارفرما ہے۔ امید کا ایک پہلو یہ ہے کہ معیشت کی اپنی ناقابل مزاحمت منطق ہوتی ہے۔ ایک بار پیداواری معیشت کی پنیری کاشت ہو جائے تو انسانی ترقی کی نامیاتی نمود بہت سی دیدہ اور نادیدہ فصیلوں میں رخنے پیدا کر دیتی ہے۔ چنانچہ معاشی ابتری، سیاسی بے یقینی اور سفارتی تنہائی کے سہ شاخے پر مصلوب جسد اجتماعی سے وابستگی کا تقاضا ہے کہ ’قومی سلامتی پالیسی‘ پر اٹھنے والے سوالات پر سنجیدہ نظر ڈال لی جائے۔

اس پالیسی کے تعارف ہی میں بالواسطہ طور پر اعلان کیا گیا ہے کہ قوم نے اب تک کسی ’قومی سلامتی پالیسی‘ کے بغیر ہی پون صدی کا سفر طے کیا ہے۔ اگر یہ دعویٰ درست ہے تو آزادی کے فوراً بعد جغرافیائی محل وقوع سے فائدہ اٹھاتے ہوئے اشتراکی بلاک کے محاصرے کا حصہ بننے کے لئے سیٹو اور سینٹو میں شمولیت کی کیا لم تھی؟ کیا آج قومی سلامتی پالیسی مرتب کرتے ہوئے معیشت کی کلیدی حیثیت کو تسلیم کرنے سے یہ واضح نہیں ہوتا کہ 50ء کی دہائی میں جان فاسٹر ڈلس کا یہ ڈاکٹرائن تسلیم کرنا غلط پالیسی تھی کہ ترقی پذیر ممالک کے لئے روایتی سلامتی ہی انسانی ترقی ہے۔ مغربی پاکستان کی مدد سے مشرقی پاکستان کا دفاع کرنے کا نظریہ کیا قومی سلامتی پالیسی نہیں تھا؟ تیس برس کی مساعی کے بعد ایٹمی صلاحیت کا حصول کیا قومی سلامتی کو یقینی بنانے کے لئے اجتماعی فیصلہ نہیں تھا۔ کیا 3323 کلومیٹر طویل مشرقی سرحد پر 74 سالہ تنائو اور دو طرفہ بداعتمادی کے پس پشت کوئی قومی سلامتی پالیسی کارفرما نہیں تھی؟ کیا 40 برس تک افغانستان کے سنگین پہاڑوں میں تزویراتی گہرائی کی جستجو قومی سلامتی پالیسی نہیں تھی؟ قومی سلامتی پالیسی نام کی یہ دستاویز مجرد اصطلاحات اور باہم متناقض خیالات کا ایک الجھا ہوا ڈھیر ہے جس میں کوئی فکری ارتباط پایا جاتا ہے اور نہ اس پر عمل درآمد کا کوئی فریم ورک دیا گیا ہے۔ اس دستاویز میں قومی سلامتی کی کوئی واضح سمت ہے اور نہ جیو اکنامکس کی مبہم ترکیب کا کوئی متعین مفہوم۔ عمران حکومت کے بہت سے ہوائی قلعوں اور کاغذی کشتیوں کی طرح یہ پالیسی بھی محمد خان جونیجو کے پانچ نکات اور پرویز مشرف کے سات نکات کی طرح اپنی موت آپ مرنے والی بے معنی لفاظی ہے۔

مدبر اعظم عمران خان (جن کی ذات گرامی میں بیک وقت بسمارک اور گلیڈ سٹون کی خوبیاں یکجا ہیں) اور ان کے بیدار مغز مشیر قومی سلامتی نے قومی سلامتی کمیٹی اور وفاقی کابینہ سے اس دستاویز کی منظوری لی تھی۔ تاہم سلامتی کے روایتی عسکری تصور کی بجائے معاشی سلامتی کا ہمہ گیر تصور متعارف کراتے ہوئے پارلیمنٹ سے استصواب کی ضرورت محسوس نہیں کی گئی۔ قومی سلامتی کمیٹی منتخب اور عسکری قیادت کا ایک مشاورتی فورم ہے جس کی کوئی دستوری حیثیت نہیں۔ قومی اہمیت کے معاملات پر ماورائے جمہور فیصلہ سازی کا تصور ہماری تاریخ کے تالاب میں ایک پھولی ہوئی لاش کی طرح تیرتا رہا ہے۔ قومی سلامتی کونسل کی تجویز دینے پر نواز شریف نے اکتوبر 1998 میں جنرل (ر) جہانگیر کرامت کو سبکدوش کیا تھا۔ اگست 2002 میں جنرل (ر) پرویز مشرف نے لیگل فریم ورک آرڈر میں 152 (اے ) کے عنوان سے دستور میں ایک شق بڑھا کے قومی سلامتی کونسل قائم کی تھی لیکن 17 ویں آئینی ترمیم میں اس شق کو حذف کر دیا گیا۔ قومی سلامتی کے مشیر کا عہدہ بھی وزیراعظم کی صوابدید کے تابع ہے۔ اس منصب کی ساکھ ایسی ہے کہ آرمی چیف اور آئی ایس آئی کے سربراہ پارلیمانی کمیٹی برائے قومی سلامتی کے اجلاس میں شریک نہیں ہوئے تو ارکان پارلیمنٹ نے یوسف معید سے بریفنگ لینے سے انکار کر دیا۔ قومی سلامتی پالیسی اگر ملک کے متفقہ نصب العین کو بیان کرتی ہے تو اس اہم ترین معاملے پر پارلیمنٹ کو اعتماد میں لینا ضروری ہے۔

اگر واقعی پاکستان نے قومی سلامتی کو شہریوں کی معاشی بہتری سے منسلک کرنے کا فیصلہ کر لیا ہے تو اتنی بڑی تبدیلی کے ممکنہ نتائج پر بھی غور کرنا چاہیے۔ کیا ہم گزشتہ پون صدی میں قومی سلامتی کے مختلف بیانیوں کا تنقیدی جائزہ لینے کے لئے تیار ہیں؟ کیا ہم وفاق کی اکائیوں کو ایک جیسا احترام اور حقوق دینے پر آمادہ ہیں۔ کیا ہم کھوکھلے نعروں کی بجائے پیداواری معیشت اور تجارت کو فیصلہ سازی میں ترجیحی کردار دینے پر تیار ہیں۔ کیا ہم امتیازی قوانین اور پالیسیاں ترک کر کے مساوی شہریت کا اصول ماننے پر تیار ہیں۔ کیا ہم نے ملک کی نصف آبادی یعنی عورتوں کو معیشت کا فعال حصہ بنانے کا فیصلہ کر لیا ہے۔ کیا ہم تعلیمی نظام کو نظریاتی تلقین کی بجائے علمی تحقیق کی آزادی دے سکیں گے؟ کیا ہم انسانی حقوق سے ہم آہنگ معاشرتی اقدار اپنانے پر تیار ہوں گے۔ کیا ہم مذہبی انتہا پسندی کی درپردہ حوصلہ افزائی سے دستبردار ہو سکیں گے؟ کیا ہم سرمایہ کاری اور تجارت کے لئے بیرونی دنیا سے تعاون کا رشتہ استوار کر سکیں گے۔ کیا سرمایہ کاری اور پیداواری معیشت کو استحکام دینے کے لئے ہم دستور کی روشنی میں جمہوری عمل کے تسلسل کی ضمانت دینے پر تیار ہیں۔ قومی سلامتی کو معیشت سے ہم آہنگ کرنا ایسا آسان نہیں، بگولے قالبِ دیوار و در میں ہوتے ہیں۔

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published.