قیلولہ: مختصر سے وقت کے لیے آنکھ لگنے کے بے انتہا فائدے ہیں جن سے ہمارا موڈ بہتر رہتا ہے

طویل اوقات کام اور روزانہ کرنے کے کاموں کی لمبی فہرستوں کے ساتھ، ہمیں چند ایک کام ہر حال میں کرنا پڑتے ہیں جبکہ بعض کام ہم اپنی مرضی سے کرنا چاہتے ہیں۔ اس وجہ سے صبح سے رات تک ہمارے لیے اپنی اپنی توانائی کی سطح کو برقرار رکھنا آسان کام نہیں ہے۔

کیا یہ حیرت انگیز نہیں ہو گا کہ ہم دن کے درمیان تازہ دم ہو کر ہر اس کام کو جاری رکھنے کے لیے ری سیٹ کے بٹن کو دبانے کے قابل ہو جائیں اور شروع سے جو کام ہمارے سامنے ابھی بھی باقی ہے اُسے ایک نئی توانائی کے ساتھ از سرِ نو شروع کردیں، جیسے کہ ہم ایک کمپیوٹر ہوں؟

وہ بٹن، یا کم از کم ایک میکانزم جو اسی کام کو پورا کرتا ہے، مختصر سے قیلولے کی یا آنکھ جھپکنے کی شکل میں موجود ہے جو سائنس کے بڑھتے ہوئے شواہد کے مطابق، ہماری اپنی ذہنی صلاحیت اور توانائی کو بحال کرنے کا ایک قیمتی ذریعہ ہے جس کے ساتھ ہم دن کا آغاز کرتے ہیں۔

نیند کی فزیالوجی کے ماہر اور لندن میں مقیم ’دی سلیپ سکول‘ کے شریک بانی، گائے میڈوز، اس کی وضاحت کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ'مختصر سا قیلولہ کا بنیادی فائدہ یہ ہے کہ یہ جسمانی اثرات پر اُس تھکان کا مقابلہ کرتے ہیں جو ہمارے جاگنے کے بعد (ہمارے جسم) میں پیدا ہوتے ہیں۔'

جس لمحے سے ہم بیدار ہوتے ہیں 'دماغ میں ایک کیمیکل ایڈینوسین جو کہ میٹابولزم کی ضمنی پیداوار ہے، بڑھنا شروع ہو جاتا ہے۔'

A woman asleep in an office chair with post-it notes over her eyes

وہ کہتے ہیں کہ 'آپ جتنی دیر تک جاگتے رہیں گے آپ کے دماغ میں ایڈینوسین اتنا ہی زیادہ جمع ہوتا ہے، اس طرح نیند کے احساس میں اضافہ ہوتا ہے۔'

میڈوز کہتے ہیں کہ جب ہم کچھ دیر کے لیے آنکھ چھپکتے ہیں، 'ہم اڈینوسین کو کم کرتے ہیں، اس طرح ہم اپنے سسٹم میں تھوڑا سا میٹابولزم کم کرتے ہیں، اور یہ ہماری توانائی کی سطح کو بڑھانے میں مدد دیتا ہے اور ہمیں زیادہ چوکس اور بیدار کرتا ہے۔'

اس سے 'ہمارے مذاج کو بہتر بنانے، (مختلف قسم کے محرکات پر) تیزی سے رد عمل ظاہر کرنے، غلطیاں کرنے کے امکانات کو کم کرنے اور دوپہر کے وقت ہمیں جو بھی کرنا ہے اس پر اور توجہ دینے میں مدد ملتی ہے۔'

میڈو کی طرف سے بیان کردہ فوائد خاص طور پر مختصر وقت کے لیے آنکھ لگنا (ان کی فراہم کردہ توانائی کی وجہ سے وہ اسے 'پاور نیپس' بھی کہتے ہیں) جن کی لمبائی 10 سے 20 منٹ تک ہونی چاہیے، اِس کے ذریعے فراہم کیے گئے فوائد کی نشاندہی کرتے ہیں۔

سارہ میڈنِک، نیند پر تحقیق کرنے والی اپنی کتاب 'ٹیک اے نیپ! چینج یور نیپ' میں کہتی ہیں کہ 'اگر ہم جس چیز کی تلاش کر رہے ہیں وہ یاد داشت، تخلیقی صلاحیتوں، اپنے ادراک کے افعال یا علمی کے حصول کے عمل کو بہتر بنانا ہے، تو 90 منٹ تک طویل آنکھ لگنی چاہیے۔'

طویل ترین قیلولے میں، 60 سے 90 منٹ کے درمیان، ہم REM کے مرحلے میں داخل ہوتے ہیں (REM مخفف ہے 'ریپِڈ آئی موومنٹ' یعنی آنکھوں کی تیز حرکت)۔ سارہ میڈنِک کہتی ہیں کہ 'ہم رات کو اسی قسم کی نیند لیتے ہیں اور اسی وجہ سے اس کے وہی فوائد ہوتے ہیں،' اور سائنسدان 20 سال سے زیادہ عرصے سے نیند کے اس طرح کے اثرات پر تحقیقات کر رہے ہیں۔

قیلولے کی تربیت حاصل کریں

Hombre durmiendo

لیکن آئیے آنکھ لگنے کے مختصر لمحوں پر توجہ مرکوز کریں، کیونکہ دن کے درمیان کسی وقت ڈیڑھ گھنٹہ تلاش کرنا ہر ایک کے بس میں نہیں ہوتا ہے - جب تک کہ ہم کسی ایسے ملک میں نہیں رہتے جہاں قیلولہ ان کی ثقافت کا ایک لازمی حصہ ہو، جیسے کہ شاید سپین یا یونان میں، جہاں کام کے اوقات لوگوں کی عادات کو مد نظر رکھ کر طے کیے جاتے ہیں۔

جیسا کہ میڈوز بتاتے ہیں کہ ایک مختصر وقت کے لیے آنکھ لگا لینا تیراکی یا موٹر سائیکل پر سوار ہونے کے مترادف ہے، یہ ایک ایسا ہنر ہے جس کے لیے تربیت کی ضرورت ہوتی ہے لیکن جسے مختصر وقت میں اور بڑی محنت کے بغیر حاصل کیا جا سکتا ہے۔

وہ کہتے ہیں کہ'اگر آپ سیکھنا چاہتے ہیں تو اس بات کو یقینی بنانے کے لیے الارم لگائیں کہ آپ زیادہ نہیں سو رہے ہیں۔ اگر آپ روزانہ ایک ہی وقت پر سونے کی مشق کرتے ہیں تو آپ کا جسم اس سرگرمی کو ایک مخصوص وقت کے ساتھ وابستہ کرنے کی عادت پیدا کرلے گا۔‘

انھوں نے مزید کہا کہ 'ایک ایسا شخص جو آرام سے کام کرنے والے کے ساتھ آنکھ لگا نہیں سکتا یا قیلولہ نہیں لے سکتا ہے، اُسے یہ صلاحت پیدا کرنے میں تقریباً تین مہینے لگیں گے۔‘

اہم بات یہ ہے کہ ہم اپنے آپ کو سونے پر مجبور نہ کریں بلکہ صرف بستر پر، کرسی یا کسی اور آرام دہ جگہ پر آرام کرنے کے لیے، کمرے میں اندھیرا کریں یا آنکھوں کو ڈھانپنے کے لیے ماسک کا استعمال کریں، اس لمحے سے فائدہ اٹھانے کی کوشش کریں۔

یہ بھی مشورہ دیا جاتا ہے کہ قیلولہ لینے سے پانچ منٹ پہلے فون کو دیکھنا یا ای میلز پڑھنا چھوڑ دیں، سکون سے سانس لیں اور شاید تھوڑا سا پانی پی لیں۔ مختصراً یہ کہ سکون کریں اور آرام کریں۔

بغیر احساس کے سوجانا

کچھ لوگوں کا کہنا ہے کہ ان کے لیے دن کے وسط میں 15 منٹ تک سونا ناممکن ہے کیونکہ وہ اتنی آسانی سے سو نہیں سکتے ہیں۔ لیکن میڈوز کے مطابق ہم اکثر یہ جانے بغیر سو جاتے ہیں کہ ہم ایسا کر رہے ہیں۔

A woman asleep at her desk

ایک تحقیق جس میں لوگوں کو سونے کی اجازت دی گئی تھی (جب کہ ان کے سروں پر الیکٹروڈ لگا کر یہ اندازہ لگایا گیا کہ وہ نیند کے کس مرحلے میں تھے) ظاہر ہوا کہ جب وہ پہلے مرحلے سے گزرے، جو کہ بہت ہلکا ہے، اور پھر وہ بیدار ہو گئے۔ اور پوچھا کہ کیا وہ جاگ رہے تھے یا سو رہے تھے، تو 65 فیصد نے کہا کہ وہ پورا وقت جاگتے رہے، حالانکہ وہ جاگے ہوئے نہیں تھے۔'

تحقیق کرنے والے کا کہنا ہے کہ 'اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ ہم بہتر طور پر سمجھ نہیں پاتے ہیں کہ آیا ہم سو رہے تھے یا نہیں۔ '

لیکن اس کے علاوہ مختصر سی آنکھ لگنے کے یا قیلولے کے فوائد صرف اس صورت میں حاصل نہیں ہوتے جب ہم سو جاتے ہیں بلکہ 10 سے 20 منٹ تک آنکھیں بند کرنے اور توقف کرنے سے بھی حاصل ہوتے ہیں۔

یہ نیند کا وقفہ ان لوگوں کے لیے اچھا ہے جو رات سے پہلے اچھی طرح سو چکے ہیں اور ان کے لیے بھی جو نہیں سوئے ہیں، حالانکہ یہ ذہن میں رکھنا چاہیے کہ ہمیں ایک خاص وقت سے زیادہ نہیں سونا چاہیے (20 منٹ کی مختصر نیند کی صورت میں، اور 90 منٹ مکمل نیند کے قیلولے کے لیے) اگر ہم بیدار ہونے پر سستی محسوس نہیں کرنا چاہتے ہیں۔

متبادل

مختلف انٹرنیٹ سائٹس پر ظاہر ہونے والی ایک مشورے میں یہ تجویز کیا گیا ہے کہ تھوڑی سی دیر کے لیے آنکھ لگنے سے پہلے کافی پی لیں، کیونکہ کیفین کا اثر اسے کھانے کے تقریباً 20 منٹ بعد محسوس ہونا شروع ہو جاتا ہے، جب آپ بیدار ہوتے ہیں۔

میڈنِک کے خیال میں یہ بالکل اچھا خیال نہیں ہے۔

A woman meditating
،تصویر کا کیپشنوہ لوگ جو قہلولے یا مختصر سے وقت کے لیے آنکھ لگنے سے نفرت کرتے ہیں ان کے لیے آرام کا وقت نکالنے کے کئی دیگر طریقے بھی موجود ہیں جو انھیں فائدہ پہنچا سکیں۔

اسی محقق کا کہنا ہے کہ 'قیلولے یا جھپکی کا خیال ہمیں قدرتی طور پر دوبارہ توانائی بخشنے کے لیے ہے۔ دوپہر کے وقت کافی نیند کے لیے ناقابل یقین حد تک خراب ہے۔'

میڈنِک اور اس کے ساتھیوں نے سنہ 2008 میں ایک مطالعہ کیا جس میں 200 ملی گرام کیفین (ایک کپ کافی) اور 60-90 منٹ کی جھپکی کے میموری ٹیسٹ پر اثرات کا موازنہ کیا۔

سوتے وقت ان کاموں پر عام طور پر کارکردگی بہتر ہوتی ہے، کیفین کا کوئی اثر یا منفی اثر نہیں ہوا۔

تاہم محقق نے نوٹ کیا کہ وہ لوگ جو قیلولہ لینے کی عادت نہیں رکھتے تھے انہیں علمی فوائد حاصل نہیں ہوئے۔

وہ کہتی ہیں کہ 'لوگ یا تو نیند کو پسند کرتے ہیں یا اُس سے نفرت کرتے ہیں'۔

'کچھ لوگوں کے لیے نیند آرام کرنے اور دوبارہ کام شروع کرنے کا بہترین طریقہ ہے، لیکن دوسروں کے لیے یہ غلط قسم کا آرام ہے۔'

میڈنِک نے مؤخر الذکر صورت میں ایک متبادل تلاش کرنے کی تجویز دی ہے، جیسے کہ سیر کے لیے جانا، ورزش کرنا یا مراقبہ میں بیٹھنا۔

error: