لاحاصِل سے حاصِل تک

"انعم آفرین"

غالباً صبح کے چار بجے ہوں گے ۔ حسب معمول نور العین کی آنکھ فجر کی اذان سے قبل کھل گئی ۔ اس کا ذہن ڈولنے لگا ۔ مختلف طرح کے اندیشے آنے شروع ہوگئے ۔ نم آنکھیں، اضطرابی چہرہ، خندہ پیشانی اور پیشانی سے نمودار ہونے والا پسینے کا گول گول قطرہ کسی انہونی کیفیت کی نشاندہی کررہا تھا ۔ وہ ہنوز لیٹی رہی ۔  کمرے میں تاریکی تھی، صرف کھڑکی کے ذریعہ چاند کی مدھم روشنی اندر کی طرف سفر کر رہی تھی ۔
تھوڑی دیر قبل اس نے ایک خواب دیکھا تھا ۔ وہی خواب جس کا سلسلہ متواتر کئی مہینوں سے چل رہا تھا، جس نے ہمیشہ اس کی یاس کو آس میں تبدیل کیا ہے ۔ عجیب سی کیفیت تھی ۔ محمود حسن ایک دفعہ پھر اسے اپنی چاہت کا یقین دلا رہا تھا ۔ ایسی محبت جس کی ڈور سال بھر پہلے ہاتھ سے چھوٹ چکی تھی ۔ ماضی کے جھروکے سے ہوائیں دستک دینے لگیں اور وہ ایک بار پھر اپنے خیالات و تصورات کی جانب ملتفت ہوتی چلی گئی ۔ وہ کہہ رہا تھا کہ"تم فقط میری ہو، تمہیں مجھ سے دنیا کی کوئی طاقت جدا نہیں کر سکتی ۔"
ماضی کے اوراق جوں جوں پلٹا کھا رہے تھے، اس کا ذہن منتشر ہوتا جا رہا تھا ۔ اسے محسوس ہو رہا تھا کہ یہ محض وہم ہے،خیال ہے ۔ محبتوں کا حاصل ہونا تو فقط کتابی باتیں ہیں ۔ عام زندگیوں میں محبتیں کامل نہیں ہویا کرتیں ۔ وہ ہمیشہ یہ گمان کر کے اپنا ذہن ہلکا کر لیتی اور روز مرہ کی الجھنوں میں مصروف ہو جاتی ۔
 کہا جاتا ہے کہ جب توہمات پر بارہا حقیقی گمان ہونے لگے تو ظاہر ہے اس کی تعبیر کسی نہ کسی صورت میں پوشیدہ ہوتی ہے ۔ آج بھی وہ نماز اور گھریلو کاموں سے فراغت پا کے یونیورسٹی جانے کی تیاری میں لگ گئی ۔ اس کے دل پہ ایک بوجھ تھا جو بار بار اسے اپنی جانب مبذول کررہا تھا ۔ محمود حسن کی یادیں اس کے ذہن کے کسی گوشے میں برف کی طرح منجمد ہو گئی تھیں جو کبھی پگھل جاتیں تو کبھی اپنی اصل صورت اختیار کرلیتیں ۔ وہ ایک دفعہ پھر ماضی میں گم ہوگئی اور کب یونیورسٹی پہنچی اسے پتہ ہی نہ چلا ۔
وہ سیدھے کلاس میں داخل ہوگئی ۔ وہاں آج کچھ زیادہ گہما گہمی تھی اور اس کے کلاس فیلوز آپس میں سرگوشیاں کررہے تھے ۔ کچھ لڑکوں کو کہتے سنا کہ یونیورسٹی میں کیمسٹری کے نئے پروفیسر آئے ہیں جو آج کلاس لینے والے ہیں ۔ سبھی ایکسائٹڈ تھے لیکن نور خود میں ہی محو تھی ۔ جیسے ہی پروفیسر کلاس میں داخل ہوئے ۔ سبھی طلباء احتراماً کھڑے ہوئے ۔ نور کی نظر جب پروفیسر پہ پڑی تو وہ دنگ رہ گئی ۔ وہ کوئی اور نہیں بلکہ محمود حسن تھے ۔ اس کا وجود سکتے میں آگیا ۔ کچھ وقفے کیلئے لگا کہ اس کے جسم میں زیر و زبر کی صلاحیت نہیں رہی ۔ یوں محسوس ہوا گویا کسی غیبی طاقت کے ذریعہ اس کی زبان سے قوتِ گویائی چھین لی گئی ہو اور جسم سے حرکت کی صلاحیت ۔ نور کے علاوہ سبھی اسٹوڈنٹس بیٹھ چکے تھے ۔ پروفیسر نے نور سے مخاطب ہو کے کہا"آپ بھی بیٹھ جائیں"اس کی زبان گنگ رہ گئی ۔ بہ مشکل اس نے "جی" کہا اور ان کے حکم کی عمل آوری کی ۔
کسی طرح لکچر اپنے خاتمے کو پہنچا اور پروفیسر کے کمرۂ جماعت سے نکلنے کے بعد نور تیزی سے اپنا بستہ اٹھائے، آنسوؤں کو دبائے باہر نکل پڑی اور کلاس کے عقبی حصے میں پہنچ کے پھوٹ پھوٹ کے رونے لگی کہ دفعتاً اسے ایک آواز نے چونکایا ۔"جدائی کے لمحات میں نے کس طرح گزارے ہیں، یہ تم نہیں جانتیں نور "
اس نے مڑ کے دیکھا ۔ ایک وجیہہ شکل کا خوبرو نوجوان اس کے سامنے سر جھکائے کھڑا تھا ۔ وہی محمود حسن جس کی آمد کا یقین نور خود کو دلانے میں بارہا ناکام ہو رہی تھی ۔ نور کی آواز رندھ گئی، رقت طاری ہوگئی ۔ وہ قدرے بے بس ہو رہی تھی اور اس کی آنکھوں کی نمی گول قطرے کی شکل میں رخسار سے لڑھکتے ہوئے زمین دوز ہورہی تھی ۔ محمود حسن نے نور کا ہاتھ تھام لیا اور خوشی و غم کے ملے جلے جذبات کے ساتھ کہنے لگے ۔"تم فقط میری ہو ۔ تمہیں مجھ سے دنیا کی کوئی طاقت جدا نہیں کر سکتی " نورالعین نے مسکراتے ہوئے کہا"بعض اوقات خواب بھی معجزے کی طرح حقیقت ہو جایا کرتے ہیں"گویا دونوں ایک ہوئے اور یوں انہوں نے لاحاصل سے حاصل تک کا سفر طے کیا ۔

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published.

error: