لال سنگھ چڈھا: عامر خان کی نئی فلم کے بائیکاٹ کی اپیل، حوالے پرانے انٹرویو اور فلم سے

بالی ووڈ کے معروف اداکار عامر خان کی نئی فلم ’لال سنگھ چڈھا‘ کے خلاف سوشل میڈیا پر بائیکاٹ کی مہم چل رہی ہے۔ یہ فلم آئندہ ہفتے ریلیز ہونے والی ہے۔

اس فلم کے مخالفین اور حامی بائیکاٹ لال سنگھ چڈھا، بائیکاٹ عامر خان، اور بائیکاٹ کرینہ کپور کا سہارا لے کر اپنا اپنا ردعمل دے رہے ہیں۔

بائیکاٹ کی اپیل کرنے والے عامر کے سنہ 2005 کے ایک انٹرویو کا حوالہ دے رہے ہیں جس میں ایک سوال کے جواب میں اُنھوں نے کہا تھا کہ ملک کے حالات کا ایسا برا اثر ہو رہا ہے کہ ان کی اہلیہ نے ایک بار ان سے کہا تھا کہ ان حالات میں کسی دوسرے ملک چلے جاتے ہیں۔

یہ مہم چلانے والے عامر کی ایک فلم ’پی کے‘ سے بھی ایک تصویر شیئر کر رہے ہیں جس میں عامر کو ہندوؤں کے بھگوان شیو کا روپ دھارے ایک شخص سے بات کرتے دکھایا گیا ہے۔

یہ فلم مذہب کو استعمال کرنے والے ڈھونگی رہنماؤں اور توہمات کے خلاف بنی تھی اور باکس آفس پر بہت کامیاب رہی تھی لیکن اب اسے ہندو مخالف کے طور پر مشتہر کیا جا رہا ہے۔ عامر کو انڈیا اور ہندو مخالف کے طور پر پیش کیا جا رہا ہے اور لوگوں سے اپیل کی جا رہی ہے کہ وہ عامر خان اور کرینہ کپور کی نئی فلم نہ دیکھیں۔

سنجے تنوانی نام کے ایک صارف نے ’پی ک‘ے فلم کی تصویر کے ساتھ لکھا: ’کبھی نہیں بھولیں گے، کبھی معاف نہیں کریں گے۔‘

اس کے جواب میں ایک صارف نے لکھا: ’پی کے سنہ 2014 میں سب سے زیادہ چلنے والی فلم تھی۔ اس کا بھی بائیکاٹ ہوا تھا، اور کرو بائیکاٹ۔‘

پیٹرک نام کے ایک صارف نے اپنی ٹویٹ میں کئی مہینے پرانی ایک تصویر پوسٹ کی ہے جس میں عامر ترکی کے صدر کی اہلیہ کے ساتھ کھڑے ہیں۔

پیٹرک نے عامر کی فلم کے بائیکاٹ کی حمایت کرتے ہوئے لکھا کہ ’ترکی پاکستان کے ساتھ مل کر انڈین مسلم نوجوانوں کو انتہا پسند بنانے میں لگا ہوا ہے اس کے باوجود عامر نے ترکی کی خاتون اول سے ملاقات کی۔ ترکی کشمیر کے معاملے پر بھی پاکستان کی حمایت کرتا ہے۔ بالی ووڈ ہمارے معاشرے میں جنگلی بیلوں کی طرح پھیل گیا ہے اور اسے اب کاٹ کر پھبنکنے کی ضرورت ہے۔‘

ابھیشیک شریواستو لکھتے ہیں کہ ’اس فلم کی آمدن کا ایک بڑا حصہ چین اور ترکی کے توسط سے دہشت گردی کی مالی مدد میں جائے گا۔ یہ دونوں ممالک عامر کا گھر ہیں۔ وہ وہاں زیادہ محفوظ محسوس کرتے ہیں۔‘

اروند بلیگا نے بالی وڈ کے بائیکاٹ کی اپیل کرتے ہوئے لکھا کہ ’عامر خان نے ہندو دھرم اور ملک کو نیچا دکھانے میں کوئی موقع نہیں چھوڑا۔ بالی ووڈ ہندو دھرم کا مذاق اڑا کر پیسے بنا رہا ہے۔‘

عامر خان نے بائیکاٹ کی مہم پر ردعمل دیتے ہوئے ایک بیان جاری کیا ہے۔ اُنھوں نے لکھا کہ ’میری فلم کے بائیکاٹ کی اپیل کرنے والے بہت سے لوگ یہ سوچتے ہیں کہ میں انڈیا سے پیار نہیں کرتا۔ وہ اپنے دل میں یہی سوچتے ہیں لیکن یہ سچ نہیں۔ میں انڈیا سے پیار کرتا ہوں۔ آپ پلیز میری فلم کا بائیکاٹ نہ کریں اور اسے ضرور دیکھیں۔‘

ان کے اس بیان پر معروف صحافی رعنا ایوب نے ٹویٹ کی کہ ’انڈیا کے ایک سپر فلم سٹار عامر خان کو اپنے ملک سے اپنی محبت ثابت کرنی پڑ رہی ہے۔‘

ایک اور صارف کلیم نے لکھا کہ ’گذشتہ ہفتے انڈیا کے ایک سابق نائب صدر پر، جو مسلم ہیں، جاسوسی کا الزام لگایا گیا تھا۔ اس ہفتے انڈیا کے ایک صفِ اوّل کے فلم سٹار کو مسلم ہونے کے سبب ملک سے اپنی محبت ثابت کرنی پڑ رہی ہے۔‘

’یہ جمہوریت کی بہت صحت مند علامت ہے‘

ملک کے معروف ایڈورٹائزنگ ماہر پرہلاد ککڑ نے ایک ٹی وی چینل پر بحث میں حصہ لیتے ہوئے کہا کہ سوشل میڈیا پر اس طرح کے بائیکاٹ کی اپیل کرنے والوں کی تعداد بہت زیادہ نہیں ہوتی۔

’اس طرح کی مہم کا کوئی خاص اثر نہیں پڑتا۔ اس سے پہلے بھی عامر کی فلموں ’لگان‘ اور ’پی کے‘ کا بائیکاٹ ہو چکا ہے لیکن یہ فلمیں سپر ہٹ ثابت ہوئیں۔ اس طرح کی مہم سے فلم کو مفت کی شہرت حاصل ہو جاتی ہے۔ بائیکاٹ کی مہم سے فلم کو فائدہ بھی ہو سکتا ہے۔‘

بالی ووڈ ایک عرصے سے دائیں بازو کے نشانے پر ہے جبکہ فلمی صنعت کو عموماً اعتدال پسند سوچ سے تعبیر کیا جاتا ہے۔

سابق وزیر اعظم منموہن سنگھ کے سابق مشیر سنجے بارو نے ایک مضمون میں لکھا تھا کہ بی جے پی اور ہندوتوا کے نظریہ ساز، بالی ووڈ پر اردو زبان اور کلچر کے اثرات اور بڑی تعداد میں مسلم اداکاروں اور فلم سازوں کی موجودگی کو پسند نہیں کرتے۔

ان کا خیال ہے کہ اعتدال پسند عناصر کے سبب ہندوتوا کے نظریات ہندی فلموں پر غالب نہیں ہو سکے مگر کئی برس کی کوششوں کے بعد بالی وڈ کا ایک طبقہ اب کھل کر حکمران جماعت کے ساتھ ہے۔

بالی ووڈ

بالی ووڈ کے مسلم اداکاروں شاہ رخ خان، سلمان خان، سیف علی خان، عامر خان، نصیرالدین شاہ اور کئی دیگر اداکاروں کو اکثر سوشل میڈیا پر نشانہ بنایا جاتا ہے۔

ان کی فلموں، انٹرویوز اور زندگی پر اتنی گہری نظر رکھی جاتی ہے کہ اب یہ کچھ کہنے میں بہت محتاط رہتے ہیں۔ بیشتر اداکار ملک کے حالات پر کچھ بھی بولنے سے گریز کرتے ہیں۔

بی بی سی نے چند مہینے قبل ایک تحقیقی رپورٹ شائع کی تھی کہ بالی ووڈ کے اداکاروں کے خلاف کس طرح مہم چلائی جاتی ہے۔

اس رپورٹ میں بتایا گیا تھا کہ یوٹیوب، فیس بک اور انسٹا گرام پر ایسے درجنوں اکاؤنٹس اور چینل ہیں جو دن رات بالی وڈ کے مسلم اداکاروں اور اداکاراؤں کے خلاف جھوٹی خبریں پھیلاتے ہیں، انھیں پاکستان اور آئی ایس آئی کا ایجنٹ، مسلم انتہا پسند اور ملک دشمن قرار دینے کی کوشش کی جاتی ہے۔

بی بی سی کی تحقیق کے مطابق ان چینلوں کے لاکھوں ناظرین ہیں جو ان پروگرامز کو دیکھ رہے ہیں۔ تفتیش کے مطابق ان چینلز کا تعلق ملک میں دائیں بازو کی ہندو تنظیموں سے ہے۔

ماضی میں کئی بار بالی ووڈ کی فلموں کے بائیکاٹ کی کال دی گئی لیکن ان کا کوئی خاص اثر نہیں ہوا۔ ملک کے بدلے ہوئے حالات میں بائیکاٹ کی نئی کال کا کیا اثر پڑے گا یہ صرف لال سنگھ چڈھا کے لیے ہی نہیں بلکہ بالی ووڈ کے مستقبل کے لیے بھی ممکنہ طور پر فیصلہ کن ثابت ہو گا۔

error: