لال مسجد سے حاصل شدہ اسباق

لال مسجد کے انتہا پسندوں کے خلاف ”فوجی“ آپریشن ختم ہو چکا ہے لیکن پاکستانیوں کی اکثریت کو فکر اس کے نتائج کی ہے۔اس وقت اس سارے واقعے کا تجزیہ پاکستانی ریاست اور معاشرے میں ایسے اختلافات کا انکشاف کر سکتا ہے جن کے اثرات دور رس ہوں گے۔
سب سے پہلا اختلاف لوگوں میں اس کاروائی کی مخالفت اور حمایت کے حوالے سے پایا جاتا ہے۔ایک گروہ ان پاکستانیوں کا ہے جو یہ کہتے ہیں کہ ان انتہا پسندوں کا یہ انجام لازمی تھا کیونکہ ریاستی عملداری کا نفاذ ہر قیمت پر ہونا چاہئے اور یہ بھی کہ مذہبی انتہا پسندی ایک لعنت ہے۔دوسرا گروہ ان لوگوں کا ہے جو یہ اصرار کرتے ہیں کہ بچوں اور عورتوں کی جان بچانے کے لئے عسکریت پسندوں کو ایک محفوظ راستہ فراہم کر دینا چاہئے تھا۔ اس گروہ میں ظاہری بات ہے کہ ملّا صاحبان اور ہر قسم کے روایت پسند عناصر شامل ہیں۔
موجودہ صورتحال کے استحصال کی کوشش مشرف مخالف سیاستدان بھی کر رہے ہیں۔واحد اختلافی رائے ان کے ساتھ بے نظیر بھٹو کی ہے جو اس بات سے متفق ہیں کہ یہ آپریشن ضروری تھا تاہم وہ یہ بھی کہتی ہیں کہ مذہبی انتہا پسندی فوجی حکمرانی کا نتیجہ ہوتی ہے اور اس سے مؤثر طور پرنمٹنا ایک جمہوری نظام میں سویلین بالادستی کے لئے ہی ممکن ہوتا ہے۔
دوسری بات یہ ہے کہ منجدھار کی پرنٹ اور الیکٹرانک میڈیا پر غلبہ حکومت کی بجائے اسلام پرستوں کا رہا ہے۔وجہ اس کی یہ ہے کہ متوسط طبقے سے تعلق رکھنے والے رپورٹروں، نیوز ایڈیٹروں اورٹی وی میزبانوں کے رجحانات مجموعی طور پر فوج مخالف، مشرف مخالف،مغرب مخالف اور امریکہ مخالف ہیں۔نتیجتاًمیڈیا میں جذباتیت پر مبنی موقف کو استحکام ملا ہے۔جرائد اور چینلوں کے مالکان اگرچہ کاروباری ذہنیت رکھنے والے اور اسٹیبلشمنٹ نواز بھی ہیں لیکن اپنے سٹاف کو طویل المدت طور پر وسیع اور حقیقت پسندانہ ”قومی مفاد“ کے حوالے سے تربیت دینے میں وہ یا تو ناکام ہیں یا پھر اس کے لئے وہ خود تیار نہیں۔اس لئے قومی سیاسیات میں آزاد میڈیا کا یہ تعصب عدم استحکام کا مؤجب بن سکتا ہے۔
تیسرے مجموعی طور پر اس ساری صورتحال میں ناکامی مشرف، ملٹری اور پی ایم ایل کے اتحاد کو ہوئی ہے۔متعدد لوگ ان پر الزام لگاتے ہیں کہ اس قدر طویل یہ سارا ڈرامہ انہوں نے خود ہی مرتب کیا تھا تاکہ انہیں جو مسائل لاحق ہیں ان سے لوگوں کی توجہ ہٹائی جا سکے۔ تاہم جب ان کے اداکاروں نے بغاوت کر دی اور اس سارے ڈرامے پر ان کا کنٹرول نہیں رہا تو فی الفور پردے گرا دینے پر یہ مجبور ہو گئے تھے۔بعض لوگ یہ خیال بھی رکھتے ہیں کہ چودھری شجاعت حسین اور اعجازالحق نے مولانا رشید غازی کے ساتھ آخری کوشش کے طور پر جو معاہدہ کیا تھا حکومت اس سے پیچھے ہٹ گئی تھی۔نتیجہ یہ ہے کہ پورے ملک میں ملا عناصر مشتعل ہو چکے ہیں اور روایت پسندبھی خود کو الگ تھلگ محسوس کر رہے ہیں۔اگر اس احتجاج نے وسعت پا کر ایک تشدد آمیز صورت اختیار کر لی تو ہو سکتا ہے کہ حکومت مارشل لاء کے نفاذ پر مجبور ہو جائے۔تاہم عوامی طبقات کے موجودہ رجحانات،این جی اوز اور سول سوسائٹی کے دیگر عناصر کی فوجی حکومت کے لئے مخالفت اور پی پی پی کی واپسی کی کوششوں کی بدولت عام انتخابات سے قبل اس وقت حکمران مسلم لیگ کی قسمت ڈانواں ڈول معلوم ہوتی ہے اور اس سے جنرل مشرف کے سیاسی عزائم پر بھی زد پڑ رہی ہے۔
چوتھے لال مسجد والے معاملے کے اس خوں ریز اختتام نے حکومت کے سیاسی مسائل سے توجہ ہٹانے کی بجائے ان پر توجہ مزید مرتکز کر دی ہے۔چیف جسٹس کی قسمت کے بارے میں سپریم کورٹ کا فیصلہ اگلے ہفتے متوقع ہے۔اس وقت ملک میں جو حکومت مخالف لہر چل رہی ہے اگر ججوں نے بھی اسی کا ساتھ دیتے ہوئے حکومت کے ساتھ تعاون سے گریز کیا تو جنرل مشرف نے موجودہ اسمبلیوں سے اپنے انتخاب، قاف لیگ کی ہمدرد نگران حکومت کے قیام اور اپنی وردی کی بقاء کے جتنے منصوبے بنائے ہیں وہ دھرے کے دھرے رہ جائیں گے۔
پانچویں بات یہ ہے کہ اگر لال مسجد والے واقعے سے فوجی اسٹیبلشمنٹ نے درست اسباق اخذ کئے تو کسی حد تک حالات کی درستگی کی امید کی جا سکے گی۔سب سے اہم چیز جو انہیں سمجھ لینی چاہئے یہ ہے کہ اسی کے عشرے سے اسٹیبلشمنٹ والے جس ملا ملٹری الائنس کے استحکام کی کوششیں کرتے آ رہے ہیں اب اس کا ہمیشہ کے لئے خاتمہ ہو جانا ضروری ہے۔
سرد جنگ کے خاتمے کے بعد کی دنیا اور اس میں 9/11 کے بعد پاکستان کی حیثیت کا ایک فطری نتیجہ ہے۔پاکستان کی جوہری صلاحیت اب خفیہ نہیں بلکہ سب کے سامنے ہے، اس کی مسلح افواج کو بھی جدید مہارت حاصل ہے، اس کی معیشت بھی اب بہتری کی جانب گامزن ہے اور اس سارے ترقیاتی سلسلے کی بقاء کے لئے اسے اس خطے میں اور خاص طور پر بھارت کے ساتھ پر امن روابط کی ضرورت ہے۔اس لئے اپنے سیکورٹی ایجنڈے کے فروغ کے لئے اب اسے جہادی یا اسلام پرست عناصر کی مزید حاجت نہیں۔یہ لوگ مسئلے کے حل کی بجائے خود مسئلے کا حصہ بنے ہوئے ہیں۔جیسا کہ بھارت کے ساتھ ہمارے امن سلسلے کے انقطاع،جنرل مشرف پر قاتلانہ حملوں، سرحد میں طالبانیت کے فروغ، امریکی انتقام کو تحریک دینے اور وفاقی دارالحکومت میں اپنے مفادات کے لئے شریعت کے نفاذ کی اپنی تنگ نظرانہ کاوشوں سے انہوں نے ثابت بھی کیا ہے۔
چھٹے، اس اہم بات کی تفہیم بھی ضروری ہے قاف لیگ کے اتحاد کے ذریعے اسٹیبلشمنٹ والے اپنی فکری تبدیلی پر عمل درآمد کماحقہ‘ نہیں کر سکتی۔ جنرل مشرف کے روشن خیال اعتدال پسندی کے ایجنڈے کے حوالے سے یہ قاف لیگ ہمیشہ خود کو ناکام ثابت کرتی آئی ہے۔ہر اہم موڑ پر اس کے قائدین ملّا عناصر کے ساتھ کو ترک کرنے کی بجائے اسے مستحکم کرنے کے لئے کوشاں رہے ہیں۔جنرل مشرف اور ان کے سیاسی ساتھیوں کے اس باہمی تضاد کو حل کرنا ضروری ہے۔اس کے لئے اسٹیبلشمنٹ والوں کو ملک کے ترقی پسند اور سیکولر عناصر کے ساتھ اتحاد کرنا پڑے گا۔
ساتویں بات سب کو یہ سمجھنا ہو گی کہ مذہبی انتہا پسندی کے جوار بھاٹے کو فوج کی سرگرم و متحرک معاونت کے بغیر واپس دھکیلنا ہماری کمزور، تفرقہ زدہ اور بد نظمی کی شکار سیاسی جماعتوں کے لئے ممکن نہیں ہو سکے گا۔سچ تو یہ ہے کہ فوجی معاونت کے بغیر ایک ”غیر تحلیل شدہ“ سویلین جمہوریت طوائف الملوکی کو دعوت دینے کے مترادف ہو گی بالکل اسی طرح جیسے اب ایک کمزور سویلین اتفاقِ رائے کے بغیر فوجی بالادستی سیاسی تعطل کی جانب گامزن ہے۔اسی کے عشرے میں اسلامائزیشن کے عمل کے آغاز کے لئے جس طرح غیر معتدل سیاسی عناصر اور فوج کا اتحاد تشکیل پایا تھا بالکل اسی طرح اب مذہبی انتہا پسندی کے سدباب کے لئے اعتدال پسند عناصر اور فوج کا اتحاد ضروری ہو چکا ہے!!!