'لاپتہ' میں تھپڑ کے وائرل کلپ پر شرمیلا فاروقی کا تبصرہ

پاکستان پیپلز پارٹی (پی پی پی) کی رہنما اور سابق رکن سندھ اسمبلی شرمیلا فاروقی نے سوشل میڈیا پر وائرل ہونے والے ڈراما سیریل 'لاپتہ' کے ویڈیو کلپ پر اداکار گوہر رشید کی پوسٹ پر تبصرہ کرتے ہوئے ہوئے کہا ہے کہ ظلم ایک انتخاب نہیں بلکہ تلخ حقیقت ہے۔

سوشل میڈیا پر وائرل ہونے والے ڈرامے کے کلپ میں دیکھا جاسکتا ہے کہ جھگڑے کے دوران شوہر کا کردار ادا کرنے والے گوہر رشید نے اہلیہ (سارہ خان) کو تھپڑ ماردیتے ہیں۔

تاہم روایتی ڈراموں کے برعکس اس کلپ میں خاتون، شوہر کے مارنے پر رونے کے بجائے میں پہلے تو حیرانی سے اپنے شوہر کو دیکھتی ہیں اور پھر اسی قوت کے ساتھ اسے تھپڑ ماردیتی ہیں۔

اس کے ساتھ ہی وہ یہ کہتی ہیں کہ ’خبردار، میں تمہارے ہاتھ توڑ دوں گی'۔

مذکورہ ویڈیو کلپ ڈراما سیریل 'لاپتہ' کی 12ویں قسط کا ہے جو پچھلے ہفتے نشر ہونے کے بعد سے سوشل میڈیا پر زیرِ بحث ہے اور تھپڑ کے جواب میں تھپڑ کے اس سین پر صارفین کی رائے بھی منقسم ہوگئی تھی۔

اس وائرل کلپ کے حوالے سے اداکار مرزا گوہر رشید نے بھی انسٹاگرام پر ایک وضاحتی پوسٹ بھی کی تھی اور کہا تھا کہ مجھے ٹی وی پر تشدد دیکھنا پسند نہیں لہذا میں نے کم از کم اپنے کرداروں میں ایسا کرنے سے گریز کیا ہے۔

انہوں نے کہا تھا کہ یہ ہماری بدقسمتی ہے لیکن ٹی وی پر تشدد دکھانا ہمارے معاشرے کا عام حصہ بن چکا ہے اور عورت کے ساتھ ایسا رویہ رکھنا ٹھیک سمجھتا جس طرح 'لاپتہ ' کی قسط میں دانیال نے کیا۔

انہوں نے مزید کہا تھا کہ آپ کو عجیب لگے گا لیکن یہ تھپڑ والے سین کی وجہ سے ہی میں نے اس کردار کا انتخاب کیا یہ ثابت کرنے کے لیے کہ ظلم کا انتخاب انسان خود کرتا ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ اگر کوئی آدمی اپنے نازک انا کے ساتھ آپ پر اپنا زور آزمائے تو آپ بغیر کسی خوف کے وہی کریں جو فلک نے کیا، ایک بہادر عورت کا کرارا تھپڑ بہاد اس کمزور آدمی کو مارنا ہمارے معاشرے کی عورتوں کے لیے ایک بڑا قدم ہوگا۔

تاہم پاکستان پیپلزپارٹی کی رہنما شرمیلا فاروقی کو ظلم کے انتخاب سے متعلق گوہر رشید کی وضاحت کچھ پسند نہ آئی۔

شرمیلا فاروقی نے گوہر رشید کی پوسٹ پر تبصرہ کرتے ہوئے لکھا کہ 'ظلم' ایک انتخاب نہیں بلکہ تلخ حقیقت ہے۔

انہوں نے کہا کہ ہزاروں عورتیں روزانہ ظلم کا شکار ہوتی ہیں اس لیے نہیں کہ وہ ان کی مرضی ہے بلکہ وہ ان کی مجبوری ہے کیونکہ وہ جوابی وار نہیں کرسکتیں یا اپنے شوہر کو چھوڑ نہیں سکتیں۔

—اسکرین شاٹ
—اسکرین شاٹ

شرمیلا فاروقی نے کہا کہ گھریلو تشدد، تیزاب گردی کا شکار ہونا اور بچپن کی شادیاں ہمارے معاشرے کی وہ برائیاں ہیں جو روز بروز بڑھتی جارہی ہیں۔

ان کا مزید کہنا تھا کہ متاثرہ خواتین جسمانی اور مالی طور پر بے بس ہوتی ہیں، وہ خاموشی سے سب برداشت کرتی ہیں اور جو ظلم کے خلاف آواز اٹھاتی ہیں ان کو یا تو خاموش کرادیا جاتا ہے، قتل کیا جاتا ہے یا طلاق دے دی جاتی ہے۔

شرمیلا فاروقی نے کہا کہ متاثرہ خاتون پر الزام تراشی کا سلسلہ کبھی ختم نہیں ہوتا یہ برائیوں کا چکر ہے جو چلتا رہتا ہے۔

اس سے قبل 'لاپتہ ' کی پہلی قسط میں ٹک ٹاکر کا کردار ادا کرنے والی عائزہ خان کو دکاندار کو ہراسانی کے جھوٹے الزامات لگاکر بلیک میل کرتے ہوئے دکھایا گیا تھا جس پر بہت زیادہ تنقید کی گئی تھی بعدازاں دکھایا گیا تھا کہ انہوں نے جاکر دکاندار سے معافی مانگی تھی۔

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *