لاڑکانہ کے ہسپتال میں خاتون کا مبینہ ریپ: ’جسم کے نچلے حصے کو سن کر کے مجھے ریپ کیا گیا‘

سندھ کے شہر لاڑکانہ میں آپریشن تھیٹر میں ایک مریضہ کے مبینہ ریپ کے خلاف اہل خانہ اور علاقے کے لوگوں نے احتجاجی مظاہرہ کیا ہے، پولیس نے متعلقہ نجی ہسپتال کو ان کے مطالبہ پر بند کر دیا ہے۔

لاڑکانہ کے قریب انڈس ہائی وے پر واقع پکھو شہر کے رہائشیوں نے دھرنا دے کر انڈس ہائی وے کو بلاک کر دیا، جس کے بعد متاثرہ خاتون کے رشتے دار اور علاقے کے لوگ ٹریکٹر ٹرالیوں، موٹر سائیکلوں اور گاڑیوں میں سوار ہو کر جلوس کی صورت میں لاڑکانہ پہنچے جہاں نجی میڈیکل سینٹر کے باہر دھرنا دیا گیا۔

تفتیش پر عدم اطمینان

لاڑکانہ پولیس نے 12 مارچ کو نجی ہسپتال کے اسٹاف کے خلاف آپریشن تھیٹر میں مبینہ ریپ کا مقدمہ درج کیا تھا۔

متاثرہ خاتون کے شوہر نے بی بی سی کو بتایا کہ واقعے کے بعد پولیس کی تفتیش سے وہ مطمئن نہیں تھے کیونکہ ان سے کوئی رابطہ نہیں کیا گیا تھا۔ جبکہ مرکزی ملزم ڈاکٹر کو بھی حراست میں نہیں لیا گیا جس نے ضمانت کرا لی، ان کا کہنا تھا کہ ان کا مطالبہ تھا کہ اس متنازع نجی ہسپتال کو بند کیا جائے، ان کے احتجاج کے بعد ایس ایچ او کو تبدیل کر دیا گیا ہے۔

ڈی این اے سے تفتیش آگے بڑھے گی

ایس ایس پی لاڑکانہ مسعود بنگش نے بی بی سی کو بتایا کہ ایف آئی آر درج کر کے تین ملزمان کو گرفتار کر لیا گیا ہے۔ جبکہ ڈاکٹر شعیب نے عدالت سے ضمانت حاصل کر لی ہے۔ اگر عدالت ان کی ضمانت مسترد کرتی ہے تو انھیں کو بھی گرفتار کیا جائے گا۔

ایس ایس پی کے مطابق میڈیکل سینٹر کو بند کر دیا گیا ہے، ملزمان کے ڈی این اے کرا لیے گئے ہیں جس کے نتائج کی روشنی میں تفتیش آگے بڑھے گی۔

’جسم سن کرنے کے بعد ریپ کیا گیا‘

متاثرہ خاتون کے شوہر نے مقدمے میں موقف اختیار کیا ہے کہ ان کی بیوی (ف) کو، جس کی عمر 25 سے 26 سال ہو گی کی ٹانگ ٹوٹ گئی تھی، لے کر وہ اپنے کزن کے ساتھ لاڑکانہ میں نجی ہسپتال آ گئے جہاں ڈاکٹر سے ملاقات کی، جس نے کہا کہ آپریشن ہو گا، مریضہ کو داخل کروائیں۔

لاڑکانہ میں خاتون کے ریپ کے خلاف احتجاج

ان کے مطابق دوپہر کو ڈھائی بجے ہسپتال کا عملہ ان کی بیوی کو آپریشن تھیٹر میں لے گیا۔ کچھ دیر کے بعد ڈاکٹر گیا، شام کو پانچ بجے ہسپتال سے بیوی کو باہر نکالا گیا جس نے بتایا آپریشن تھیٹر میں ہسپتال کے عملے نے انجیکشن لگا کر جسم کے نچلے حصے کو سن کر دیا، تاہم وہ ہوش میں رہیں۔ اس دوران ایک ملزم نے ان کو برہنہ کر کے ریپ کیا جبکہ دوسرے ملزمان خاموش رہنے کے لیے دھمکاتے رہے، جب بڑا ڈاکٹر آیا تو اس نے انھیں بھی یہ بات بتائی اس نے بھی خاموش رہنے کو کہا۔

’میں نے جسم پر ہاتھوں کو محسوس کیا‘

متاثرہ خاتون کا کہنا تھا کہ وہ گھر کی سیڑھی سے گر گئی تھی جس کی وجہ سے ان کی ٹانگ ٹوٹ گئی، آپریشن تھیٹر میں انہیں برہنہ کیا گیا انہوں نے اپنے جسم پر ہاتھ محسوس کیے، وہ بتا نہیں پا رہی ہیں کہ کہاں سے شروع کریں کیا بتائیں۔ انھوں نے کہا کہ وہ تو شادی شدہ ہیں، یہ غیر شادی شدہ لڑکیوں کے ساتھ بھی معلوم نہیں کیا کرتے ہوں گے۔

ڈاکٹر کا موقف

خاتون کا آپریشن کرنے والے ڈاکٹر شعیب چانڈیو اس الزام کو مسترد کرتے ہیں اور اس کو بلیک میلنگ کا حربہ قرار دیتے ہیں تاہم ان کا یہ کہنا تھا کہ مدعی فریق نے ان سے رقم کا یا لین دین کوئی مطالبہ نہیں کیا۔

ڈاکٹر شعیب کے مطابق جمع کے روز گیارہ بجے مریضہ آئی تھیں۔ جمعہ کی نماز کے بعد ان کو آپریشن تھیٹر منتقل کیا گیا جہاں جو ایس او پیز ہوتی ہیں ان کے تحت مریضہ کو تیار کر کے انہیں بلایا گیا۔ یہ آپریشن ایک گھنٹہ جاری رہا جس کے بعد وہ باہر آ گئے اور او پی ڈی میں مصروف ہو گئے۔

ان کے مطابق مریضہ نے ان سے آپریشن تھیٹر میں کوئی بات نہیں کی۔ سات بجے کے قریب وہ دوسرے آپریشن کی تیاری میں تھے کہ اسٹاف نے بتایا کہ مریضہ کے رشتے دار شور شرابہ کر رہے ہیں۔ وہ ان کے پاس گئے بات چیت کرنے لیکن وہ طیش میں تھے تو وہ یہ کہہ کر آ گئے کہ بعد میں بات کرتے ہیں۔

ڈاکٹر شعیب کے مطابق آپریشن کے دوران ہسپتال کی ایک خاتون اہلکار بھی موجود تھیں۔ انھوں نے کہا کہ ایسا کچھ آپریشن تھیٹر میں ہونا ممکن نہیں اور انہوں نے اپنے اسٹاف سے بھی دریافت کیا انہوں نے بھی انکار کیا۔

ڈاکٹر شعیب کا کہنا ہے کہ پولیس کو صورتحال کے بارے میں بتایا گیا جس کے بعد ایس ایچ او نے انھیں سکیورٹی دے کر کے محفوظ راستہ فرہم کیا۔ اس کے بعد اے ایس پی کو انھوں نے اپنا یہی بیان قلمبند کرایا۔ رات کو تین بجے پولیس نے ایف آئی آر درج کر لی اور وہ اس وقت ضمانت پر ہیں۔

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *