لاہور اب رہنے کے قابل نہیں رہا

لاہور شہر اب رہنے کے قابل نہیں رہا۔

یہ جملہ لکھنے سے پہلے میں نے ہزار بار سوچا۔ دل کٹ کر رہ گیا۔حقیقت مگر یہی ہے۔ جن دنوں ہم اسکول میں پڑھتے تھے، اُس وقت کی سردیاں مجھے یاد ہیں۔ دو تین ڈگری سینٹی گریڈ عام بات تھی۔ اسموگ کا کسی نے نام تک نہیں سنا تھا۔ ایسی کڑاکےکی سردی پڑتی تھی کہ دانت بجتے تھے۔ ہم ہتھیلیوں کو رگڑ رگڑ کر پھونکیں مارتے تھے، دستانے پہنے بغیر گزارا نہیں ہوتا تھا۔ یہ سردیاں اکتوبر سے شروع ہوتی تھیں اور فروری تک جاتی تھیں۔ فروری کی ’بسنت پالا اڑنت ‘ہوتی تھی۔ پھر آہستہ آہستہ اکتوبر کی سردی نومبر میں آ گئی اور اس کے چند سال بعد نومبر والی ٹھنڈ دسمبر میں۔ اب حال یہ ہے کہ جنوری کا پہلا ہفتہ ہے اور اُس ٹھنڈ کانام و نشان نہیں جو کبھی لاہور کا خاصا ہوا کرتی تھی۔ آج کل درجہ حرارت پندرہ سے اٹھارہ ڈگری کے درمیان گھومتا رہتا ہے، رات کسی وقت دس ڈگری ہو جاتا ہے۔ ہم کوٹ اور مفلر پہن کر اپنا شوق تو پورا کر لیتے ہیں مگر سچی بات یہ ہے کہ آئندہ چند برسوں میں اِس کی ضرورت بھی پیش نہیں آئے گی۔ جی ہاں، اب بھی زیادہ تر لوگ ایسے ہوں گے جو کہیں گے کہ سردیوں کے مہینے آگے کو چلے گئے ہیں مگر سردی پڑتی ضرور ہے اور اِس کا دورانیہ بھی مارچ اپریل تک بڑھ گیا ہے۔ یہ سب دل کو خوش رکھنے کی باتیں ہیں، پہلے میں بھی خود کو ایسے ہی تسلی دیا کرتا تھا لیکن ہماری آنکھوں کے سامنے سب کچھ بدل گیامگر ہمیں نظر نہیں آیا۔میں اسّی کی دہائی کی بات نہیں کرتا کہ وہ قبل از مسیح کی کوئی داستان لگے گی، چند سال پیچھے لے جاتا ہوں۔ فقط چار پانچ سال پہلے آٹھ دس دن ا سموگ پڑتی تھی، نومبر کے آخری ہفتے میں بارش ہوتی تھی اور اس کے بعد دسمبر کی ٹھنڈ شروع ہو جاتی تھی، جنوری میں اِس ٹھنڈ کی ایک لہر آتی تھی جس سےپرانے دور کی یاد تازہ ہوجاتی تھی اور کچھ نہ کچھ کام چل جاتا تھا۔ اِس مرتبہ مگراسموگ ایک بلا کی طرح دو مہینے سے لاہور شہر پر منڈلا رہی ہے، ائیر کوالٹی انڈیکس مسلسل بد ترین دائرے میں گھوم رہا ہے، ایسے شہر کی کھلی فضا میں رہنا بیماری کو دعوت دینے کے مترادف ہے۔ لاہور اب دنیا کے سب سے آلودہ شہروں میں شامل ہو چکا ہے، سردی اور بارش کایہاں نام و نشان نظر نہیں آرہا۔ ابھی یہ سطریں لکھتے ہوئے سردیوں کی پہلی بارش کے نام پر چند چھینٹے پڑے ہیں، پہلے یہ بارش اکتوبر نومبر میں ہوا کرتی تھی۔ ایسے میں اِس شہر کا نوحہ نہ لکھوں تو کیا کروں۔

یہ موسمیاتی تغیرات ہیں جن کے بارے میں ہم سمجھتے تھے کہ سب جھوٹ اور فراڈ ہے، مغرب کی سازش ہے۔ ہمارا خیال تھا کہ ایک یا دو ڈگری درجہ حرارت کم یازیادہ ہونے سے بھلا زمین کو کیا فرق پڑے گا۔ سبی میں اگر پینتالیس ڈگری گرمی پڑتی ہے تو یہ چھیالیس ہو جائے گی، مری کی ایک ڈگری کی سردی دو ہو جائے گی، پھر کیا ہوا، یہ کوئی بڑی بات نہیں لہٰذا موسمیاتی تبدیلی کے بارے میں اتنابھی پریشان ہونےکی ضرورت نہیں، یہ مغرب والے ہر بات کو بڑھا چڑھا کر پیش کرتے ہیں، خودتو صنعتی انقلاب کے ثمرات سمیٹ لیے، اب ہم ترقی کرنا چاہتے ہیں تو گلوبل وارمنگ کا مسئلہ کھڑا کر دیا۔ یہ خلاصہ ہے اُن خیالات کا جو عام طور سے گلوبل وارمنگ کے بارے میں لوگ رکھتے ہیں۔ میں بھی اسی طرح سوچتا تھا لیکن اب کچھ عرصے سے اپنی آنکھوں سےجو دیکھ رہا ہوں اسے نظر انداز کرنا حماقت ہی ہوگی۔ مجھے یہ ممکن نظر نہیں آرہا کہ مستقبل میں لاہور شہر کی فضائی آلودگی میں کوئی بہتری آ جائے گی یااِس کی سردی اور بارش کے موسم واپس آ جائیں گے۔ ایسا کچھ نہیں ہوگا بلکہ آنے والے برسوں میں اِس شہر کا موسم بد تر ہوتا چلاجائے گا۔ یہ قنوطی نقطہ نظر رکھنے کی تین وجوہات ہیں:

پہلی وجہ یہ ہے کہ موسمیاتی تبدیلی پر قابو پانے کے لیے جو کوششیں عالمی سطح پر کی جا رہی ہیں، وہ بھی اِس خطرےسے نمٹنے میں کامیاب نہیں ہو سکیں۔ اور اِس ناکامی کی بنیادی وجہ یہ ہے کہ دنیا کے سائنس دان اور جہاندیدہ لوگ عام آدمی کو گلوبل وارمنگ کے خطرے کے بارے میں اُس طرح آگاہ نہیں کرپائے جس طرح کیاجانا چاہیے تھا۔ عالمی سطح پر اگریہ ادراک نہیں ہو سکا تو ہم کس کھیت کی مولی ہیں۔ دوسری وجہ یہ ہے کہ ہم نے اپنے طور پر موسمیاتی تبدیلی پر قابوپانے کی کوئی کوشش نہیں کی، یہ مسئلہ ہمارےروز مرہ مباحث کا موضوع ہی نہیں، مجھے یاد نہیں پڑتا کہ کسی ٹی وی چینل نے اِس پر کسی مذاکرے کا اہتمام کیا ہویا ہماری جامعات میں سے کسی نے اِس پر کوئی تحقیقی مقالہ یا دستاویز شائع کی ہو۔ اِس مسئلے کے بارے میں ہم نے یہ فرض کر لیا ہے کہ یا تو سرے سے یہ مسئلہ اتنا اہم نہیں یا پھر ہم اِس کا کوئی حل نہیں نکال سکتے۔ تیسری وجہ یہ ہے کہ موسمیاتی تبدیلی پر قابو پانے کے لیے جن وسائل اور جس قوت نافذہ کی ضرورت ہے وہ ہمارے پاس نہیں۔ دنیا کے کسی ایک شہر نے اگر فضائی آلودگی کا مسئلہ حل کیا ہے تو وہ بیجنگ ہے۔ مجھے دو مرتبہ بیجنگ جانے کا اتفاق ہوا ہے۔ اِس شہر نے 1998 میں فضائی آلودگی سے نجات پانے کا بیڑہ اٹھایا تھا اور اگلے بیس برسوں میں اس نے یہ کام کر دکھایا۔ حیرت کی بات یہ ہے کہ اِن بیس برسوں میں بیجنگ کا جی ڈی پی 1078فیصد، آبادی 74فیصد اور گاڑیوں کی تعداد میں 335فیصد تک اضافہ ہوا۔اِن بیس برسوں میں سلفر ڈائی آکسائڈ اور نائیٹروجن ڈائی آکسائڈ کے مجموعی اخراج میں بالترتیب 93فیصد اور 38فیصد کمی واقع ہوئی۔ دنیا کا کوئی اور شہر یہ کام نہیں کرسکا۔

مجھے کوئی خوش فہمی نہیں کہ اگلے بیس برس میں لاہور بیجنگ بن جائے گا کیونکہ نہ ہمارے پاس وہ وسائل ہیں اور نہ ہی وہ سیاسی عزم جس کی مدد سےاِس قسم کی جوہری تبدیلی ممکن ہوتی ہے۔ ہر گزرتے دن، مہینے اور سال کے ساتھ لاہور شہر میں رہنا مشکل ہوتا چلا جائے گا اور سچ پوچھیں تو اگلے بیس برسوں میں شاید اِس شہر میں سانس لینا بھی دشوارہو جائے۔ آج اگر کوئی شخص اِس شہر اور اِس ملک سے فضائی آلودگی کا خاتمہ کرنے کا بیڑہ اٹھاتا ہے تو اِس بات کا امکان ہے کہ اگلے بیس تیس برسوں میں ہم صحت مند فضا میں سانس لے سکیں ورنہ ’’ہماری داستا ں تک بھی نہ ہوگی داستانوں میں‘‘!

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published.