لاہور قلندرز کا یارک شائر کرکٹ کلب سے معاہدہ: نسلی تعصب کے الزامات سے دوچار کاؤنٹی سے معاہدے کی ضرورت کیوں محسوس ہوئی؟

پاکستان سپر لیگ میں حصہ لینے والی فرینچائز لاہور قلندرز اور انگلش کرکٹ کاؤنٹی یارک شائر نے شراکت قائم کرنے کا فیصلہ کیا ہے جس کے تحت دونوں ٹیمیں اپنے کھلاڑیوں کو ایک دوسرے کے پلیٹ فارم پر کھیلنے کے مواقع فراہم کریں گی اور سکالر شپ کے ذریعے باصلاحیت کرکٹرز کو تربیت کی سہولیات بھی دی جائیں گی۔

اس شراکت کو کرکٹ اور کرکٹرز کی بہتری کے ضمن میں خوش آئند قرار دیا جا رہا ہے لیکن اس سلسلے میں سب سے اہم سوال یہ سامنے آ رہا ہے کہ آخر لاہور قلندرز کو ایک ایسی کاؤنٹی سے یہ پارٹنرشپ قائم کرنے کی ضرورت کیوں پیش آئی ہے جو نسلی تعصب کی وجہ سے اس وقت شہ سرخیوں میں ہے؟

نسلی تعصب والی ٹیم ہی کیوں؟

جب یہ سوال لاہور قلندرز کے چیف آپریٹنگ آفیسر ثمین رانا سے پوچھا گیا تو انھوں نے بی بی سی اردو سے بات کرتے ہوئے اس کا پس منظر اور اس کے اثرات پر تفصیل سے روشنی ڈالی۔

ثمین رانا کا کہنا ہے کہ جب یارک شائر کاؤنٹی میں نسلی تعصب کا تنازع اٹھا اور پاکستانی نژاد کھلاڑی عظیم رفیق کے بیانات سامنے آئے تو لاہور قلندرز بھی اس معاملے کو بہت غور سے دیکھ رہی تھی۔

انھوں نے کہا یہ صورتحال واقعی تشویش ناک تھی اور اس تنازعے سے یارک شائر کاؤنٹی کی ساکھ کو بہت نقصان پہنچا تھا اور اس کے کئی عہدیدار کو اپنے عہدے چھوڑنے پڑگئے تھے۔

ثمین رانا کہتے ہیں کہ اس تمام صورتحال کے باوجود یارک شائر کاؤنٹی سے پارٹنرشپ قائم کرنے میں لاہور قلندرز کی سوچ بالکل واضح ہے۔

’یقیناً وہاں نسلی تعصب کی صورتحال نہیں ہونی چاہیے تھی لیکن جو کچھ ہوا اسے ٹھیک بھی کرنا ہے۔ صرف باہر بیٹھ کر باتیں کرنے سے خرابیاں خود بخود ٹھیک نہیں ہوتی ہیں۔‘

ثمین رانا نے کہا کہ لاہور قلندرز نے یہ بات خاص طور پر محسوس کی کہ یارک شائر کاؤنٹی میں انتظامی تبدیلیوں کے بعد لارڈ کملیش پٹیل کے چیئرمین کی حیثیت سے آنے سے حالات میں بہتری کے آثار دکھائی دیے ہیں۔

'وہ مثبت سوچ اور وژن رکھتے ہیں اور صورتحال کو بہتر بنانے کے خواہاں ہیں۔ اسی لیے لاہور قلندرز نے سوچا کہ ان کے ساتھ مل کر کام کیا جائے اور اپنا مؤثر کردار ادا کرسکیں۔'

کرکٹ

انھوں نے کہا کہ یارک شائر کو حالات بہتر کرنے اور نسلی تعصب کی وجہ سے پہنچنے والے نقصان کی تلافی کے لیے برطانوی کاؤنٹی کلب کو کسی کی مدد چاہیے تھی اور لاہور قلندرز لارڈ پٹیل کی کوششوں میں ان کا ساتھ دینے میں خوشی محسوس کرتی ہے۔

ثمین رانا کا کہنا ہے کہ لاہور قلندرز کا پیغام بھی سب کے سامنے ہے جس نے پچھلے چھ، سات برسوں کے دوران رنگ، نسل، زبان اور علاقائی وابستگی سے بالاتر ہوکر پورے پاکستان میں جاکر ٹیلنٹ تلاش کیا ہے اور ان باصلاحیت کرکٹرز کو بین الاقوامی کرکٹ تک لانے میں اپنا کردار ادا کیا ہے۔

'آپ کے سامنے کشمیر کے سلمان ارشاد، راولپنڈی کے حارث رؤف، باجوڑ کے شاہین شاہ آفریدی اور معاذ خان کے علاوہ اور بھی کئی مثالیں موجود ہیں۔'

یاد رہے کہ لاہور قلندرز پی ایس ایل کی اب تک کی سب سے ناکام ٹیم رہی ہے اور ٹورنامنٹ کے چھ میں سے پانچ ایڈیشنز میں وہ آخری نمبر پر رہی ہے۔

اس پارٹنرشپ میں پہل کس نے کی؟

لاہور قلندرز اور یارک شائر کاؤنٹی کی یہ رفاقت کیسے قائم ہوئی، اس بارے میں ثمین رانا کا کہنا ہے کہ یہ کسی منصوبہ بندی کا نتیجہ نہیں ہے۔

انھوں نے بتایا کہ لارڈ پٹیل سے ان کی دبئی میں ملاقات ہوئی جس میں لاہور قلندرز کے پلیئرز ڈیولپمنٹ پروگرام پر بھی بات ہوئی، جس میں انھوں نے لارڈ پٹیل کو اس پروگرام سے متعلق وڈیوز دکھائیں جن سے وہ متاثر ہوئے۔

'ان کا خیال تھا کہ اس طرح کی سرگرمیاں یارکشائر کاؤنٹی میں شروع کی جائیں۔ اور ہمیں خوشی ہوگی کہ لاہور قلندرز نے اپنے پلیئرز ڈیولپمنٹ پروگرام سے جو کچھ سیکھا ہے وہ ہم دوسروں کے ساتھ بھی شیئر کرسکیں۔'

لاہور قلندرز کے چیف ایگزیکٹیو آفیسر عاطف رانا بھی بی بی سی اردو سے بات کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ یہ لاہور قلندرز کے لیے بہت بڑا اعزاز ہے کہ یارکشائر کاؤنٹی نے باصلاحیت کرکٹرز کی صلاحیتوں کو اجاگر کرنے کے لیے جس ٹیم کے پروگرام کو پسند کیا اور اس پراعتماد کیا وہ لاہور قلندرز ہے۔

'آخر دنیا میں کئی دوسری فرنچائز ٹیمیں بھی ہیں لیکن لارڈ پٹیل نے لاہور قلندرز کا ہی انتخاب کیا۔'

حارث رؤف کاؤنٹی کرکٹ کھیلیں گے

حارث
،تصویر کا کیپشنحارث رؤف آئندہ سال غیر برطانوی کھلاڑی کی حیثت سے یارکشائر کاؤنٹی سکواڈ میں شامل ہونگے

اسی شراکت کے نتیجے میں پاکستانی کرکٹ ٹیم کے فاسٹ بولر حارث رؤف آئندہ سال کاؤنٹی سیزن میں یارک شائر کی نمائندگی کریں گے۔ وہ اس سے قبل آسٹریلیا میں بگ بیش بھی کھیل رہے ہیں۔

ثمین رانا کا کہنا ہے کہ حارث رؤف کا کاؤنٹی کرکٹ کھیلنا ان کی لارڈ پٹیل سے ہونے والی گفتگو اور پارٹنرشپ کا ہی نتیجہ ہے۔

حارث رؤف آئندہ سال غیر برطانوی کھلاڑی کی حیثت سے یارکشائر کاؤنٹی سکواڈ میں شامل ہونگے۔ وہ 2018 میں انڈیا کے چتیشور ُپجارا بعد یارک شائر کی نمائندگی کرنے والے پہلے ایشیائی کرکٹر ہونگے۔

یارک شائر کاؤنٹی کی موجودہ ٹیم میں اسوقت صرف ایک غیر سفید فام کرکٹر عادل رشید شامل ہیں۔

ثمین رانا نے بتایا کہ لاہور قلندرز نے آئندہ ماہ شروع ہونے والی پاکستان سپر لیگ میں یارک شائر کے نوجوان باصلاحیت کرکٹر ہیری بروک کو شامل کیا ہے جو انگلینڈ کی انڈر 19 ٹیم کے کپتان بھی رہ چکے ہیں۔

یارک شائر کاؤنٹی کی تاریخ

کرکٹ
،تصویر کا کیپشنانگلینڈ کی ٹیسٹ ٹیم کے موجودہ کپتان جو رووٹ بھی یارکشائر سے کھیلتے ہیں

یارکشائر انگلینڈ کی فرسٹ کلاس کرکٹ کھیلنے والی ٹیموں میں ممتاز مقام رکھتی ہے۔ اسے سب سے زیادہ 33 مرتبہ کاؤنٹی چیمپیئن بننے کا اعزاز بھی حاصل ہے۔

یہ کاؤنٹی 1863 میں قائم ہوئی تھی۔ اس کاؤنٹی کی طرف سے کھیلنے والے مشہور کرکٹرز میں سر لین ہٹن، ہربرٹ سٹکلف، فریڈ ٹرومین، جیف بائیکاٹ اور برائن کلوز قابل ذکر ہیں۔

انگلینڈ کی ٹیسٹ ٹیم کے موجودہ کپتان جو رووٹ بھی یارکشائر سے کھیلتے ہیں۔

یارک شائر کاؤنٹی کی سب سے خاص بات یہ تھی کہ اس نے ایک طویل عرصے تک اس روایت کو قائم رکھا کہ غیر برطانوی کرکٹرز تو دور کی بات، صرف اس کی حدود میں پیدا ہونے والے کرکٹرز ہی اس ٹیم کی طرف سے کھیلیں گے۔

لیکن 1992 میں یہ جمود ٹوٹا اور یارکشائر نے پہلے غیربرطانوی کرکٹر کے طور پر بھارت کے سچن تندولکر سے معاہدہ کیا تھا۔

سوشل میڈیا پر صارفین کا ملا جلا رد عمل

لاہور قلندرز کی جانب سے لیے گئے فیصلے کے بعد سوشل میڈیا پر صارفین نے اس شراکت پر کافی تبصرے کیے جن میں کئی کا خیال تھا کہ یہ بہت عمدہ فیصلہ ہے جبکہ متعدد افراد نے کہا کہ کیا لاہور قلندرز کو اور کوئی کاؤنٹی نہیں ملی تھی۔

صارف 'انسپائر' لکھتے ہیں کہ یہ بہت ہی زبردست شراکت ہے اور وہ امید کرتے ہیں کہ یہ نہ صرف کرکٹ کو فائدہ پہنچائے گی بلکہ مختلف نسلی گروہ سے تعلق رکھنے والے لوگوں کے لیے بھی مفید ثابت ہوگی۔

کرکٹ

دوسری طرف ایک اور صارف نے لکھا کہ یہ ایک عجیب سی بات ہے کہ لاہور قلندرز یارکشائر سے ایسے وقت میں شراکت قائم کر رہے ہیں جب وہ کاؤنٹی زیر تفتیش ہے۔

ایک اور صارف لانگ بوائے لکھتے ہیں کہ 'سارے کلبز میں سے آپ نے ایسے کلب کو چنا جہاں نسلی تعصب کا تنازع چل رہا ہے'۔

صارف نومی نے لاہور قلندرز کی پی ایس ایل میں ناقص کارکردگی کا حوالہ دیتے ہوئے ثمین رانا کو مخاطب کیا اور لکھا کہ زبردست کام کیا ہے لیکن اب برائے مہربانی اپنے کوچنگ سٹاف کا بھی سوچیں۔

صارف قرۃ العین لکھتی ہیں کہ جس قسم کی خدمات یہ فرنچائز قوم اور قومی کرکٹ ٹیم کے لیے ادا کر رہے ہے اس پر انھیں صرف ٹرافی نہیں ملنی چاہیے۔ ان کا کہنا تھا کہ دیگر فرنچائز کے پاس ٹرافی ہے لیکن لاہور قلندرز کے پاس عزت و احترام ہے۔

ایک اور صارف وشیش مونگا نے اس امید کا اظہار کیا کہ یہ شراکت کرکٹ سے کہیں زیادہ آگے جائے اور یارکشائر میں نسلی تعصب کا خاتمے کا سبب بن سکے۔

کرکٹ

البتہ صارف لاسٹ بوائے نے اس فیصلے پر اپنی مایوسی کا اظہار کیا اور کہا کہ یارکشائر کے حالات اور عظیم رفیق کے ساتھ ان کے برتے ہوئے رویے کو دیکھتے ہوئے یہ لاہور قلندرز کا انتہائی نامناسب فیصلہ ہے۔

'یہ معاہدہ اب یارکشائر اپنی تشہیر اور ساکھ بہتر بنانے کے لیے استعمال کرے گی تاکہ وہ ایشیائی اور پاکستانیوں کے دلوں میں نرم گوشہ بنانے میں کامیاب ہو جائے۔'