لاہور کو دنیا کا آلودہ ترین شہر قرار دے دیا گیا

پنجاب کے صوبائی دارالحکومت لاہور کو دنیا کا سب سے آلودہ شہر قرار دیا گیا ہے جس نے اپنے روایتی حریف نئی دہلی کو بہت پیچھے چھوڑ دیا ہے۔

 رپورٹ کے مطابق لاہور کا سرکاری ایئر کوالٹی انڈیکس (اے کیو آئی) صبح 9 بجے سے شام 5 بجے کے درمیان اوسطاً 289 رپورٹ کیا گیا اور بین الاقوامی مانیٹرنگ اداروں نے 397 اسکور بتایا۔

نئی دہلی 187 کے ساتھ لاہور کی آلودگی کی سطح کے نصف سے بھی کم پر کھڑا ہے۔

لاہور کے علیحدہ علیحدہ علاقوں میں بدتر کارکردگی کا مظاہرہ کیا گیا، کوٹ لکھپت (صنعتی علاقہ) 500 سے تجاوز کر گیا، فتح گڑھ جہاں زیادہ تر اسٹیل پگھلانے والی صنعت قائم ہیں میں اسکور 400 کے قریب رہا اور رائیونڈ جو نسبتاً سرسبز علاقہ ہے، میں اے کیو آئی 403 پر ہے۔

شہر کے ایئرکوالٹی کے لیے کام کرنے والی تنظیم کے نمائندہ عبدالرؤف نے وضاحت دی کہ ’397 اے کیو آئی یا پارٹیکیولیٹ میٹر (پی ایم 2.5 پر آلودگی عالمی ادارہ صحت کی طرف سے مقرر کردہ سالانہ ہوا کے معیار سے 34.8 گنا زیادہ ہے‘۔

ان کا کہنا تھا کہ ’یہ اتنا ہی ہے جسے ماحولیات کے ماہرین خطرناک قرار دیتے ہیں اور چند مقامات پر یہ انتہائی خطرناک ہوسکتا ہے‘۔

محکمہ ماحولیات کے ایک عہدیدار کا دعویٰ ہے کہ ’جو چیز اس معاملے کو خطرناک بناتی ہے وہ یہ ہے کہ پیر کے روز یہ اسموگ نہیں تھی، یہ خالص آلودگی تھی‘۔

اسموگ اس وقت ہوتی ہے جب دھواں دھند کے ساتھ مل جاتا ہے، پیر کے روز شہر میں نمی کی سطح 60 فیصد تھی اور اس سطح پر دھند نہیں بنتی، پیر کی دھند نے آنکھوں میں کوئی جلن پیدا نہیں کی، جس سے یہ بھی ثابت ہوتا ہے کہ یہ اسموگ نہیں تھی، اس کا مطلب ہے کہ یہ خالص آلودگی تھی۔

ان کا کہنا تھا کہ ’دوسری بات اور جو بات انتہائی تشویشناک ہے، وہ یہ ہے کہ یہ خالصتاً مقامی سطح پر ہے، ملک میں اب بھی مغرب سے ہوائیں چل رہی ہیں، جس کا مطلب ہے کہ ہوا بھارت کی طرف چل رہی ہے اور سرحد کے اس طرف سے آلودگی نے ابھی تک پاکستان پر حملہ نہیں کیا ہے، ایک بار جب ہوا اپنا رخ بدلتی ہے اور بھارتی آلودگی پاکستان آتی ہے تو یقینی طور پر یہاں کی صورتحال مزید خراب ہو جائے گی‘۔

آلودگی کے ’ہاٹ اسپاٹ‘ سے نمٹنے کے علاوہ صورتحال پر قابو پانے کے لیے محکمہ صرف اتنا ہی کرسکتا ہے کہ صنعتی علاقے اور ان کے آپریشنز پر نظر رکھی جائے۔

محکمہ نے پہلے ہی اپنی فیلڈ فورس کو صنعتی آپریشنز پر توجہ مرکوز کرنے کی ہدایت کی ہے خاص طور پر رات کے وقت۔

عام طور پر صنعتیں، خاص طور پر شمالی لاہور میں، رات کے وقت غیر معیاری اور انتہائی آلودگی پھیلانے والے ایندھن کا استعمال کرتی ہے۔

محکمہ موسمیات کی پیش گوئی بھی کوئی ریلیف فراہم نہیں کرتی ہے کیونکہ انہوں اگلے 48 گھنٹوں کے لیے خشک موسم کی پیش گوئی کی ہے اور اگلے چند دنوں کے دوران ماحول صاف کرنے کے لیے کوئی بارش نظر نہیں آئے گی۔

پیر کو ہوا کی رفتار جو عام طور پر آلودگی کو دور کرتی ہے، صرف پانچ ناٹیکل تک تھی جس سے لاہور کی ہوا میں آلودگی رک گئی۔

محکمہ موسمیات کے ایک اہلکار نے بتایا کہ اگلے 24 گھنٹوں تک درجہ حرارت اور دھند ایک جیسی رہے گی۔

پلمونولوجسٹ ڈاکٹر ندیم احمد لوگوں کو گھر سے باہر نکلتے وقت ماسک پہننے کا مشورہ دیتے ہیں یہاں تک کہ گھروں میں بھی ایئر پیوریفائرز کے استعمال کی ضرورت ہے کیونکہ باریک ذرات پھیپھڑوں اور یہاں تک کہ خون پر حملہ کر سکتے ہیں۔

انہوں نے خبردار کیا کہ پہلے سے بیماریوں (جیسے دمہ) میں مبتلا مریضوں کو باہر جانے سے گریز کرنے اور اس آلودگی سے اپنے آپ کو زیادہ سے زیادہ بچانے کی ضرورت ہے۔