لاہور کے تاریخی قذافی اسٹیڈیم کا نام تبدیل کرنے کا فیصلہ

پاکستان کرکٹ بورڈ نے لاہور کے تاریخی قذافی اسٹیڈیم کا نام تبدیل کرنے کا فیصلہ کیا ہے اور اسٹیڈیم کو کسی اسپانسر کا نام دیا جائے گا۔

کرک انفو کے مطابق لاہور کے قذافی اسٹیڈیم کے بعد کراچی کے نیشنل اسٹیڈیم سمیت ملک کے دیگر کھیلوں کے میدانوں کے نام بھی تبدیل کیے جائیں گے۔

لاہور کے تاریخی اسٹیڈیم کا نام 50 سال قبل لیبیا کے اُس وقت کے صدر معمر قذافی کے دورہ پاکستان کے موقع پر انہی کے نام پر ’قذافی اسٹیڈیم‘ رکھا گیا تھا۔

ماضی میں سیاسی بنیادوں پر اس اسٹیڈیم کا نام تبدیل کرنے کی متعدد کوششیں کی گئیں تاہم اس مرتبہ نام تبدیل کرنے کا فیصلہ مکمل مالیاتی بنیادوں پر کیا گیا ہے۔

چیئرمین پی سی بی رمیز راجا نے کہا کہ ’یو گوو‘ کی سروسز حاصل کی ہیں تاکہ اپنے اسٹیڈیم کی مالیت کے ساتھ ساتھ یہ بھی جان سکیں کہ اسپانسرشپ ڈیل کی مالیت کیا ہے، صرف قذافی اسٹیڈیم نہیں بلکہ نیشنل اسٹیڈیم اور دیگر میدانوں کے نام بھی تبدیل کیے جائیں گے۔

ان کا کہنا تھا کہ ہم اس حوالے سے ایک عرصے سے کام کررہے تھے اور اسپانسرز کی طرف سے ردعمل اطمینان بخش ہے، ایک مرتبہ معاہدہ ہوگیا تو قذافی کی جگہ کسی اسپانسر کا نام آ جائے گا۔

1959 میں تعمیر کیے گئے اس اسٹیڈیم کو ابتدائی طور پر لاہور اسٹیڈیم کا نام دیا گیا تھا، تاہم 1974 میں معمر قذافی کے دورہ پاکستان کے موقع پر انہوں نے اسلامی سربراہی کانفرنس میں پاکستان کے جوہری ہتھیاروں کے منصوبے کی حمایت کی تھی۔

کرنل قذافی کے اس اقدام پر اس وقت کے وزیراعظم پاکستان ذوالفقار علی بھٹو نے اسٹیڈیم کا نام ان کے نام پر رکھ دیا تھا۔

جب لیبیا کے سابق صدر کو اقتدار سے بے دخل کیا گیا تھا تو کچھ حلقوں کی جانب سے یہ رائے آئی تھی کہ پاکستان کو اسٹیڈیم کا نام تبدیل کرنا چاہیے لیکن پھر یہ معاملہ دب گیا تھا۔