لاہور ہائیکورٹ: شہباز شریف کی ضمانت منظور، رہائی کا حکم

لاہور ہائی کورٹ نے مسلم لیگ (ن) کے صدر اور قومی اسمبلی میں اپوزیشن لیڈر شہباز شریف کی ضمانت منظور کر کے رہائی کا حکم دے دیا۔

جسٹس علی باقر نجفی کی سربراہی میں 3 رکنی بینچ نے بطور ریفری بینچ شہباز شریف کے ضمانت کے کیس کی سماعت کی۔

یاد رہے کہ اس سے قبل 14 اپریل کو ہائی کورٹ کے 2 رکنی بینچ میں جسٹس سردار محمد سرفراز ڈوگر نے صدر مسلم لیگ (ن) کی ضمانت منظور کی تھی جبکہ جسٹس اسجد جاوید گورال نے مسترد کردی تھی۔

چنانچہ یہ معاملہ ریفری جج کی نامزدگی کے لیے ہائی کورٹ کے چیف جسٹس کو بھجوایا گیا تھا۔

جس پر آج سماعت کرتے ہوئے 3 رکنی بینچ نے شہباز شریف کی ضمانت منظور کرتے ہوئے رہائی کا حکم دیا اور 50، 50 لاکھ روپے کے 2 مچلکے جمع کروانے کی ہدایت کی۔

سماعت کے دوران نیب پراسیکیوٹر نے دلائل دیتے ہوئے کہا کہ اعظم نذیر تارڑ نے کہا کہ 27 سال میں ایسا نہیں ہوا کہ فیصلہ اناؤنس ہونے کے بعد تبدیل ہوا، جس پر وکیل شہباز شریف بولے کہ میں اب بھی اپنے الفاظ پر قائم ہوں۔

نیب پراسیکیوٹر نے کہا کہ اعظم نذیر تارڑ کی یہ بات توہین عدالت کے زمرے میں آتی ہے، جس پر اعظم نذیر تارڑ نے کہا کہ نیب پراسیکیوٹر نے انتہائیی سخت بات کی جو انھیں واپس لینی چاہیے۔

نیب پراسیکیوٹر نے کہا کہ میں ثابت کر سکتا ہوں کہ جملہ توہین آمیز ہے تو آپ کو اس واپس لینا چاہیے، تاہم عدالت نے انہیں اس معاملے پر مزید بحث سے روک دیا، جسٹس عالیہ نیلم نے کہا کہ آپ صرف کیس پر بات کریں۔

کیس کا پس منظر

یہاں یہ بات مدِ نظر رہے کہ شہباز شریف نے 26 مارچ کو منی لانڈرنگ کیس میں ضمانت کے لیے لاہور ہائیکورٹ سے رجوع کیا تھا۔

یاد رہے کہ گزشتہ برس ستمبر میں لاہور ہائی کورٹ نے آمدن سے زائد اثاثہ جات اور منی لانڈرنگ کیس میں شہباز شریف کی ضمانت کی درخواست مسترد کی تھی جس کے بعد قومی احتساب بیورو (نیب) نے انہیں احاطہ عدالت سے ہی گرفتار کرلیا تھا۔

قبل ازیں 17 اگست کو نیب نے احتساب عدالت میں شہباز شریف، ان کے دو بیٹوں اور کنبے کے دیگر افراد کے خلاف منی لانڈرنگ کا 8 ارب روپے کا ریفرنس دائر کیا تھا۔

بعد ازاں 20 اگست کو لاہور کی احتساب عدالت نے شہباز شریف اور ان کے اہل خانہ کے خلاف منی لانڈرنگ ریفرنس سماعت کے لیے منظور کیا تھا۔

ریفرنس میں بنیادی طور پر شہباز شریف پر الزام عائد کیا گیا کہ وہ اپنے خاندان کے اراکین اور بے نامی دار کے نام پر رکھے ہوئے اثاثوں سے فائدہ اٹھا رہے ہیں جن کے پاس اس طرح کے اثاثوں کے حصول کے لیے کوئی وسائل نہیں تھے۔

اس میں کہا گیا کہ شہباز خاندان کے کنبے کے افراد اور بے نامی داروں کو اربوں کی جعلی غیر ملکی ترسیلات ان کے ذاتی بینک کھاتوں میں ملی ہیں، ان ترسیلات زر کے علاوہ بیورو نے کہا کہ اربوں روپے غیر ملکی تنخواہ کے آرڈر کے ذریعے لوٹائے گئے جو حمزہ اور سلیمان کے ذاتی بینک کھاتوں میں جمع تھے۔

ریفرنس میں مزید کہا گیا کہ شہباز شریف کا کنبہ اثاثوں کے حصول کے لیے استعمال ہونے والے فنڈز کے ذرائع کا جواز پیش کرنے میں ناکام رہا۔

اس میں کہا گیا کہ ملزمان نے بدعنوانی اور کرپٹ سرگرمیوں کے جرائم کا ارتکاب کیا جیسا کہ قومی احتساب آرڈیننس 1999 کی دفعات اور منی لانڈرنگ ایکٹ 2010 میں درج کیا گیا تھا اور عدالت سے درخواست کی گئی کہ انہیں قانون کے تحت سزا دے۔

مذکورہ ریفرنس میں شہباز شریف ان کے صاحبزادے حمزہ شہباز شریف سمیت 10 ملزمان پر 11 نومبر کو فرد جرم عائد کی گئی تھی۔

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published.

error: