لاہور ہائیکورٹ نے میچز کے دوران مکمل ٹریفک بند کرنے سے روک دیا

لاہور ہائی کورٹ نے کرکٹ میچز کی سے راستے بند کرنے کے خلاف کیس میں انتظامیہ کو میچز کے دوران راستے بند کرنے سے روکتے ہوئے سیکریٹرک داخلہ کو طلب کرلیا۔

کیس کی سماعت کے دوران عدالت عالیہ میں پاکستان کرکٹ بورڈ (پی سی بی) کے قائم مقام چیف آپریٹنگ آفیسر (سی او او) سلمان نصیر اور چیف ٹریفک آفیس (سی ٹی او) منتظر مہدی لاہور ہائیکورٹ میں پیش

جسٹس شاہد کریم نے ہدایت دی کہ میچیز کے لیے ٹریفک مکمل بند کرنے کی بجائے سگنل فری کریں۔

عدالت کا کہنا تھا کہ 'جو آلودگی ٹریفک بند ہونے سے پھیلے گی اسے سارا سیزن کنٹرول نہیں کر سکیں گے'۔

درخواستگزار ایڈووکیٹ شیراز ذکا نے عدالت کو بتایا کہ کہ جب ٹریفک بند کی جاتی ہے تو 15 لاکھ گاڑیاں پھنس جاتی ہیں۔

اس پر جسٹس شاہد کریم نے اسفتسار کیا کہ 'یہ تو ڈومیسٹک کرکٹ ہے، اتنا کیوں کر رہے ہیں'۔

سی ٹی او لاہور نے عدالت کو بتایا کہ 'ہم ایس او پیز پر عمل کر رہے ہیں جو آپریشنز نے ہمیں بھیجے ہیں۔

عدالت کا کہنا تھا کہ 'لاہور میں اسموگ شروع ہو چکا ہے، ٹریفک بند نہیں ہونی چاہیے۔

جسٹس شاہد کریم نے ریمارکس دیے کہ 'میں خود بھی دو روز سے ٹریفک میں پھنس رہا ہوں، مجھے گھر جانے میں ڈیڑھ گھنٹہ لگ جاتا ہے'۔

ان کا کہنا تھا کہ 'ساری دنیا میں 70 لاکھ لوگ آلودگی سے مرتے ہیں، ایسی سیکیورٹی تو صدر کے لیے ہوتی ہے'۔

انہوں نے کہا کہ 'اب شہر کے ساتھ یہ نہیں ہو سکتا آپ کو منصوبہ سازی کرنی پو گی'۔

پولیس نے عدالت میں موقف اپنایا کہ 'ایسے ایونٹ کے لیے ہمیں ہدایات حکومت سے ملتی ہیں'۔

عدالت نے کہا کہ 'ڈومیسٹک ایونٹ کے لیے اتنا سب کچھ کرنے کی ضرورت نہیں کہ لوگوں کے کاروبار بند کرا دیے جائیں، اب کوئی اپنے حقوق کے لیے بھی نہیں آتا'۔

ان کا کہنا تھا کہ 'بین الاقوامی ٹیمیں ڈومیسٹک کرکٹ کے لیے ایسی سیکیورٹی دیکھیں گی تو سوچ میں پڑ جائیں گی'۔

بعد ازاں انہوں نے سیکریٹری داخلہ کو آئندہ سماعت پر طلب کرتے ہوئے سماعت 11 اکتوبر تک کے لیے ملتوی کردی۔

واضح رہے کہ ملک میں جہاں ایک طرف کرکٹ کی بحالی جاری ہے وہیں میچز کے دوران سیکیورٹی وجوہات کی بنا پر اسٹیڈیم کے آس پاس کی سڑکیں بند ہونے سے شہریوں کو مشکلات کا سامنا رہتا ہے۔

اس سے قبل رواں سال کے آغاز میں بھی کراچی میں منعقدہ پاکستان سپر لیگ (پی ایس ایل) کے میچز کے دوران بھی شہری نے سڑکوں کی بندش کے خلاف سندھ ہائی کورٹ سے رجوع کیا تھا جس پر سندھ ہائی کورٹ نے سڑکیں کھولنے کا حکم جاری کیا تھا۔

error: