لب بستہ صحافی اور حلقہ زنجیر میں رکھی زبان

انتظار حسین طبعاً مرنجاں مرنج تھے۔ تاریخ اور سیاست کا رچا ہوا شعور رکھتے تھے لیکن تحریر ہو یا مجلس احباب، سیاسی بحث سے گریزاں رہتے تھے۔ کبھی کبھی اس خود اختیار کردہ خاموشی کا پردہ چاک کرتے تو قیامت اٹھا دیتے تھے۔ ضیا الحق کا ابتدائی زمانہ تھا۔ ریڈیو ٹیلی وژن پر تقدیس کی دبیز چادر ڈال دی گئی تھی۔ ایک ریڈیو مذاکرے میں مدعو کیے گئے۔ پروڈیوسر شکور بیدل نے آموختہ سنایا کہ علاوہ دیگر حجابات کے مشروب ممنوعہ کا ذکر بھی منع ہے۔ انتظار صاحب چمکے، ’’اگر شراب معرفت کی بات ہو تو؟‘‘ غریب سرکاری اہلکار نے کہا ’’اس سے بھی اجتناب ہی کیجئے‘‘۔ کہنے لگے ، ’’بھیا آج کے موضوع میں اقبال کے ’ساقی نامہ‘ کا ذکر تو بہرصورت کرنا پڑے گا‘‘۔ شکور بیدل نے ہاتھ باندھ دیے ’ یار رحم کرو، میری نوکری کا معاملہ ہے ‘۔ مولانا علم الدین سالک جولائی 1973 میں رحلت کر گئے تھے۔ کاش اس موقع پر موجود ہوتے تو انہوں نے درانہ’ طرز تپاک اہل حکم‘ پر ایک خطبہ ارزاں کیا ہوتا۔ درویش کے کلکِ آوارہ کی خوش خرامی دیکھیے۔ یہ کوئی ادبی چٹکلے بیان کرنے کی گھڑی ہے۔ قوم پر برا وقت پڑا ہے۔ پارلیمنٹ میں طوفان بدتمیزی کے عقب سے سو سو اندیشے جھانک رہے ہیں۔ غریب کو روٹی کے لالے پڑے ہیں۔ حضور شاہ میں’ بت ناوک فگن‘ کی آزمائش ہے۔ اہل نظر تا حد نگاہ بے یقینی کا دشت دیکھتے ہیں۔ جنہیں قوم کو اس بحران کے کیف و کم سے آگاہ کرنا تھا، ان کی اپنی درماندگی دیدہ مگر ان کہی ہے۔ ایک شکستہ بازو اپنے زخم ہائے عتاب کے ساتھ اوجھل ہو گیا ہے۔ اس کے حق میں بولنے والے خاموش ہیں۔ایوانِ زیریں کا ایک رکن چھ ماہ سے پابندِ سلاسل ہے۔ ایوانِ بالا کے ایک بزرگ رکن کی تحریر تشنہ اشاعت رہ جاتی ہے۔ لکھنے والی انگلی پر جھجک طاری ہے اور لب گویا کو اذن کلام نہیں۔ پُرکھوں کی نصیحت ہے کہ اے پسر، اپنی زمین تنگ ہو جائے تو اسے چھوڑنا نہیں، دور دیس کی کہانیاں کہتے چلو کہ کچھ رات کٹے۔

آپ کو یوراگوئے کے صحافی ایڈوآرڈو گیلیانو (Eduardo Galeano) سے ملواتے ہیں۔ 1940 میں پیدا ہونے والے گیلیانو کی شہرہ آفاق کتاب Open Veins of Latin America اس خطے کی تاریخ بیان کرتی ہے۔ 1973 میں یوراگوئے پر فوجی آمریت مسلط ہوئی تو ارجنٹائن چلے آئے اور قلم سے مزاحمت کرتے رہے۔ 1976 میں ارجنٹائن پر بھی بندوق نے قبضہ کر لیا اور گیلیانو کے لئے سزائے موت کا اعلان جاری ہو گیا۔ گیلیانو صاحب نے پھر رخت سفر باندھا اورا سپین کی راہ لی جہاں خوش قسمتی سے ایک برس پہلے فرانکو آمریت ختم ہو چکی تھی۔ 60 اور 70 کی دہائیوں میں لاطینی امریکا کے بدنصیب خطے میں امریکی کارستانیوں کا احوال جاننا ہو تو 2007 میں بننے والی John Pilger کی دستاویزی فلم The War on Democracy دیکھیے۔ جارج بش سینئر تب سی آئی اے کے ڈائریکٹر ہوتے تھے۔ واضح رہے کہ میں نے ایسے ہی کسی منصب دار کے حالیہ دورہ پاکستان کا زنہار ذکر نہیں کیا۔ مجھے تو ایڈوآرڈو گیلیانو کا ایک جملہ گوش گزار کرنا ہے۔’ ’میں ایک لکھنے والا ہوں اور مجھے یاد رکھنے کا مرض لاحق ہے۔ میرا کام لاطینی امریکا کی تاریخ کی باز آفرینی ہے کیونکہ میری دھرتی پر یادداشت کھو دینے کا مرض پھیل گیا ہے‘‘۔

گیلیانو سے مل لئے تو اب پیٹرک ماٹی مور (Patrick Mattimore) کو بھی دیکھ لیجیے۔ یہ ایک آشفتہ مزاج امریکی صحافی ہیں۔ نفسیات اور تدریس سے بھی تعلق ہے لیکن محترم نصرت جاوید کی اصطلاح میں ’ذات کے رپورٹر‘ ہیں۔ اچھا خاصا وقت مشرق بعید مثلاً تھائی لینڈ اور چین میں گزار رکھا ہے۔ سنسرشپ کی حرکیات پر عبور رکھتے ہیں۔ ایک انٹرویو کے کچھ نکات اختصار سے بیان کرتا ہوں۔ معاشرے پر ایک ہی موقف مسلط کر دیا جائے تو یہ موقف اپنی ساکھ کھو بیٹھنے کے باعث بذات خود ایک بوجھ بن جاتا ہے۔ جن موضوعات پر پابندی عائد کی جاتی ہے، وہ اپنی حقیقی معنویت سے بھی زیادہ اہمیت اختیار کر جاتے ہیں۔ امتناع میں ایک جبلی کشش پائی جاتی ہے۔ معیشت ہو یا نفسیات، جو شے کمیاب ہو، اس کی طلب بڑھ جاتی ہے۔ دنیا کی کوئی ریاست لامحدود مدت تک معلومات روکنے کی صلاحیت نہیں رکھتی۔ معاشرے میں موجود متنوع مفادات معلومات تک رسائی کا راستہ نکال لیتے ہیں۔ سنسر شپ حتمی تجزیے میں اپنے مقاصد میں نہ صرف ناکام ہوتی ہے بلکہ اپنے مفروضہ مقاصد کو بری طرح نقصان بھی پہنچاتی ہے۔ ( 1971 میں ہم نے ملکی صورت حال پر قریب قریب مکمل پردہ ڈال رکھا تھا۔ اس کے باوجود کراچی کے صحافیAnthony Mascarenhas نے دنیا کو حقائق سے آگاہ کرنے کا راستہ نکال لیا۔ بالآخر 16 دسمبر کو مغربی پاکستان کو بھی اصل بات معلوم ہو گئی۔ تب تک ناقابل تلافی نقصان ہو چکا تھا۔ اسی طرح 1985 کے غیر جماعتی انتخابات میں ضیا حکومت کے قریب قریب سبھی اہم کردار انتخاب ہار گئے۔ ) آگ پر رکھے برتن کو جس سختی سے ڈھانپا جاتا ہے، داخلی بھاپ اسی شدت سے راستہ نکالتی ہے۔ معاشرے میں انسانی تعلقات کا نامیاتی تانا بانا ریاستی بندوبست سے ماورا ہوتا ہے۔ سنسر شدہ خبر باہر نکل جاتی ہے اور اپنے ساتھ افواہ کا غبار لئے آتی ہے۔ ماٹی مور سے ایک دلچسپ سوال پوچھا گیا کہ ایک خاص ملک میں اس نے کن موضوعات کو خصوصی طور پر حساس پایا۔ اس نے چھ موضوعات گنوائے۔ 1959 سے ملک کے ایک خاص خطے میں بے چینی پائی جاتی ہے، اس کا ذکر منع ہے۔ ریاست کی موجودہ حدود سے باہر ایک خطے پر ملکیت کا دعویٰ ہے، یہ حساس موضوع ہے۔ مقتدر رہنمائوں کی ذات اور پالیسیوں پر تنقید قطعی ممنوع ہے۔ ایک چھوٹے سے مذہبی گروہ سے سلوک کا ذکر ناممکن ہے۔ اقلیتوں سے امتیاز پر تبصرہ سخت ناپسندیدہ ہے۔ عوامی مشکلات پر ناکافی ریاستی ردعمل کی نشاندہی اہل اختیار کو ناراض کر دیتی ہے۔ یہ فہرست پڑھ کر مجھے بے اختیار یاس یگانہ یاد آئے۔

یہ کنارہ چلا کہ نائو چلی

کہیے کیا بات دھیان میں آئی

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *

error: