لندن: سیوریج کے نمونوں میں پولیو وائرس رپورٹ

برطانیہ کے دارالحکومت لندن میں سیوریج کے پانی کے نمونوں میں پولیو وائرس رپورٹ ہوا ہے، جس کے بارے میں حکام نے کہا ہے کہ یہ 1980 کی دہائی کے بعد پہلا موقع ہے کہ وائرس ملک بھر میں پھیل سکتا ہے لیکن تاحال کوئی کیس سامنے نہیں آیا۔

غیر ملکی خبر ایجنسی ’رائٹرز‘ کی رپورٹ کے مطابق یوکے ہیلتھ سیکیورٹی ایجنسی (یو کے ایچ ایس اے) نے کہا ہے کہ ایک فیصد سے کم کیسز میں بچوں میں معذوری کا سبب بننے والی اس بیماری سے انفیکشن کا خطرہ دراصل ویکسنیشن کی زیادہ شرح کی وجہ سے بھی کم ہوگیا ہے۔

لیکن اس کے باوجود ہیلتھ ایجنسی نے والدین کی حوصلہ افزائی کی ہے کہ وہ اپنے بچوں کو گندے پانی کی معمول کے مطابق معائنے سے وائرس کی دریافت کے بعد ویکسین لگانے کو یقینی بنائیں اور خاص طور پر وہ لوگ جنہوں نے کورونا کی ویکسین نہیں لگوائی۔

رپورٹ کے مطابق وائرس پر قابو پانے کے لیے ملک بھر میں ویکسینیشن کی سطح 90 فیصد سے زیادہ درکار ہے لیکن حالیہ برسوں میں لندن میں بچوں کی ویکسینیشن کی شرح اس سے نیچے گر گئی ہے۔

شہر میں جن بچوں کو حفاظتی ٹیکے نہیں لگائے گئے نیشنل ہیلتھ سروس 5 سال سے کم عمر کے بچوں کے والدین سے رابطہ کرے گی۔

رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ پولیو بنیادی طور پر فضلے کی آلودگی سے پھیلتا ہے جس کے نتیجے میں دنیا بھر میں سالانہ ہزاروں بچے زندگی کی بازی ہار جاتے ہیں جبکہ ہزاروں معذوری کا شکار ہو جاتے ہیں، ابتدائی طور پر اس کا کوئی علاج نہیں ہے لیکن ویکسینیشن نے دنیا کو جنگلی یا قدرتی طور پر ہونے والی اس بیماری کے خاتمے کے قریب پہنچا دیا ہے۔

ہیلتھ ایجنسی کا کہنا ہے کہ اس سے عام طور پر سالانہ ایک سے تین کے درمیان سیوریج میں پولیو وائرس کے نمونے ملتے ہیں جو کہ پہلے نہ ہونے کے برابر تھے۔

رپورٹ میں کہا گیا کہ رواں سال، اس کا ایک نمونہ فروری میں مشرقی لندن کے بیکٹن ٹریٹمنٹ ورکس میں پایا گیا تھا اور اسی پلانٹ میں اپریل سے اب تک تقریباً 40 لاکھ افراد کی خدمت کرنے والے پلانٹ میں ابھی تک کیسز سامنے آ رہے ہیں۔

ہیلتھ ایجنسی کا کہنا ہے کہ ماضی میں اس طرح ہوتا تھا کہ جو فرد بیرون ملک سے براہ راست زبانی پولیو ویکسین کے ساتھ ویکسین کے ذریعے واپس آتا یا ملک کا سفر کرتا تھا اور مختصر طور پر اپنے فضلے کے ذریعے وائرس کا اخراج کرتا تھا تو پھر وائرس ظاہر ہوتا تھا۔

ہیلتھ ایجنسی کا خیال ہے کہ اس بار بھی ایسا ہی ہوا ہے لیکن اہم فرق یہ ہے کہ یہ وائرس ممکنہ طور پر آپس میں جڑے ہوئے لوگوں کے درمیان بھی ممکنہ طور پر پھیل چکا ہے اور اسے ’ویکسین سے حاصل کردہ پولیو وائرس‘ کے نام سے جانا جاتا ہے، جو بیماری کا سبب بن سکتا ہے، ایجنسی نے کہا کہ کمیونٹی ٹرانسمیشن کی تحقیقات کی جا رہی ہے۔

اگرچہ برطانیہ میں اس قسم کا واقعہ مؤثر طریقے قابل غور نہیں اور ویکسین سے پھیلنے والے پولیو وائرس کے طور پر ہی جانا جاتا ہے، اس وائرس کا عالمی سطح پر ان ممالک میں خطرہ ہے جہاں حفاظتی ٹیکوں کی پہنچ کم ہے جس کی وجہ سے یہ وائرس پھیلنے کا سبب بن سکتا ہے اور یوکرین اور اسرائیل میں بھی حال ہی میں اس وائرس کے کیسز رپورٹ ہوئے ہیں جبکہ نائیجیریا اور یمن جیسے ممالک میں یہ وبا زیادہ عام ہے۔

برطانیہ میں پولیو کا آخری کیس 1984 میں سامنے آیا تھا، اور یہ ’جنگلی‘ پولیو اب صرف افغانستان اور پاکستان میں پایا جاتا ہے، تاہم 2022 میں ملاوی اور موزمبیق میں وائرس کے پھیلنے کی اطلاع ملی ہے جو باہر سے آیا۔

ورلڈ ہیلتھ آرگنائزیشن کے ڈائریکٹر جنرل ٹیڈروس ایڈہانوم گیبریاس نے کہا کہ ہیلتھ ایجنسی برطانیہ کے ساتھ تعاون کرکے کام کر رہی ہے۔

انہوں نے ٹویٹر پر اپنے بیان میں کہا کہ پولیو کے خاتمے کے لیے نگرانی، ویکسینیشن اور سرمایہ کاری اہم ہے۔

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published.