Site icon Dunya Pakistan

لندن میں بیٹے کے نکاح میں شرکت کے لیے حکومت سے درخواست نہیں کروں گی: مریم نواز

پاکستان مسلم لیگ ن کی نائب صدر مریم نواز نے کہا ہے کہ وہ لندن میں اپنے بیٹے جنید صفدر کے نکاح میں شرکت کے لیے حکومت سے ملک سے باہر جانے کی اجازت دینے کی درخواست نہیں کریں گی۔

مریم نواز نے کہا کہ وہ ’انتقامی کارروائی، جھوٹے مقدمے اور ایگزٹ کنٹرول لسٹ (ای سی ایل) میں نام ہونے کے باعث‘ اس نکاح کی تقریب میں شرکت نہیں کر سکیں گی۔

تاہم ان کا کہنا تھا کہ وہ حکومت سے ملک سے باہر جانے کی درخواست نہیں کریں گی۔

مریم نواز کی جانب سے اپنے بیٹے کے نکاح کا کارڈ ایک ٹویٹ کے ذریعے شیئر کرتے ہوئے بتایا گیا کہ ’میرے بیٹے کا نکاح عائشہ سیف الرحمان کے ساتھ 22 اگست کو ہو رہا ہے اور یہ تقریب لندن میں ہو گی لیکن بدقسمتی سے میں انتقامی کارروائی، جھوٹے مقدمے اور ای سی ایل (ایگزٹ کنٹرول لسٹ) میں نام ہونے کے باعث شریک نہیں ہو پاؤں گی۔‘

مریم نواز کا کہنا ہے کہ ’میں اس وقت جیل میں تھی جب میری والدہ کی وفات ہوئی، اور اب میں اپنے بیٹے کی خوشیوں میں شریک نہیں ہو پاؤں گی۔ میں یہ معاملہ اللہ پر چھوڑتی ہوں۔‘

مریم نواز کی اس ٹویٹ کے بعد کئی لوگوں نے انھیں تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے سوال کیا ہے کہ یہ شادی پاکستان میں کیوں نہیں ہو سکتی؟

احتساب سے متعلق وزیر اعظم عمران خان کے مشیر شہزاد اکبر نے مریم نواز کی ٹویٹ کے جواب میں کہا ہے کہ ’حقیقت یہ ہے کہ آپ ایک مجرم ہیں جو ضمانت پر باہر ہیں۔ اور آپ کی اپیل اسلام آباد ہائی کورٹ میں سنی جا رہی ہے۔ آپ بیرون ملک نہیں جا سکتیں کیوں کہ خدشہ ہے کہ آپ اپنے والد، دو بھائیوں، کزن اور انکل کی طرح لوٹ کر نہیں آئیں گی۔‘

شہزاد اکبر نے ان پر تنقید کرتے ہوئے مزید کہا کہ ’کیا آپ کو شادی یہاں نہیں کرنی چاہیے جہاں آپ کا دعویٰ ہے کہ آپ کی جڑیں ہیں، لاہور کی گوال منڈی میں بہترین کھانا ملتا ہے، آپ اور ’دیگر‘ افراد اس میں شامل ہوں اور بعد میں اپنے آپ کو قانون کے سامنے پیش کر دیں۔‘

مسلم لیگ ن کی نائب صدر مریم نواز کا نام اگست 2018 سے ایگزٹ کنٹرول لسٹ میں ہے جس کی وجہ سے وہ بیرونِ ملک سفر نہیں کر سکتیں۔

ان کے والد اور پاکستان مسلم لیگ ن کے بانی نواز شریف العزیزیہ ریفرنس میں اسلام آباد ہائی کورٹ کی جانب سے نومبر سنہ 2019 میں طبی بنیادوں پر دی گئی ضمانت پر چھ ہفتے کے لیے ملک سے باہر چلے گئے تھے۔

سنہ 2019 کے اواخر میں لاہور ہائی کورٹ نے مریم نواز کی جانب سے ایگزٹ کنٹرول لسٹ سے اپنا نام نکلوانے کی درخواست پر وفاقی حکومت کو ان کا موقف سن کر فیصلہ کرنے کی ہدایت کی تھی جس پر وفاقی کابینہ نے ان کا نام ای سی ایل سے نہ نکالنے کا فیصلہ کیا تھا۔

مریم نواز کی سزائیں

ایون فیلڈ ریفرنس میں مریم نواز سات سال قید کی سزا سنائے جانے کے بعد اب پاکستان کے قانون کے مطابق انتخابات میں حصہ لینے کے لیے 10 سال تک نااہل ہوچکی ہیں۔ یہ نااہلی اس کیس میں بریت کی صورت میں ختم ہو سکتی ہے۔مریم نواز کو کیلیبری فونٹ کے معاملے میں غلط بیانی پر شیڈول 2 کے تحت ایک برس قید کی سزا بھی سنائی گئی جبکہ ان پر 20 لاکھ پاؤنڈ کا جرمانہ بھی عائد کیا گیا تھا۔ اسلام آباد ہائی کورٹ سے سزا کی معطلی کے بعد انھیں اڈیالہ جیل سے رہا کر دیا گیا تھا۔اکتوبر 2018 میں نیب نے ان کی سزا کی معطلی کے خلاف سپریم کورٹ میں اپیل دائر کی تھی جسے سپریم کورٹ نے مسترد کرتے ہوئے اسلام آباد ہائی کورٹ کا حکم برقرار رکھا تھا۔انھیں اگست 2019 میں نیب نے چوہدری شوگر ملز میں مبینہ بدعنوانی کے الزام میں گرفتار کیا تھا لیکن نومبر 2019 میں انھیں لاہور ہائی کورٹ سے ضمانت پر رہا کر دیا گیا تھا۔

Exit mobile version