لوح آئندہ کے ملال کا حزنیہ یا امید کی خیال گائیکی

اس میں کیا شک کہ جو دن گزر رہے ہیں، وہ کچھ ایسے خوشگوار نہیں۔ پچھلے موسم میں جو آندھیاں چلیں، انہوں نے ریت پر کسی ناقابل فہم طرز خطاطی میں کچھ نقش و نگار چھوڑے۔ بارش تو ہوئی نہیں کہ گھاس کی نمود ہو سکتی۔ سو ہم سب ایک چٹیل میدان میں اپنی اپنی قوس اور لکیر کے قیدی خراش زدہ آوازوں میں ایک دوسرے پر نعرہ زن ہیں۔ ہماری للکار میں یقین کی کھنک نہیں اور ہمارے غصے میں انصاف کا خروش نہیں۔ ایک عہد عبور میں کھڑے ہیں اور اگلے طوفان کا انتظار ہے۔ ایک گروہ یا جتھہ تو جنگی حکمت عملی میں Attritionیعنی حریف کی سانس ٹوٹنے کا انتظار کر سکتا ہے، لیکن قوم کو پیش رفت کے لئے منزل کے اثبات، سمت کے تعین اور تدبیر میں تدبر کی ضرورت ہوتی ہے۔ حادثوں کا انتظار تو رائیگانی کا نسخہ ہے۔ ٹھہریے، آپ کو ایک اچھی خبر دے لوں۔ لمحہ موجود میں پاکستان کے سب سے اچھے ادیب اسد محمد خان کی کتاب ’’گزری صدی کے دوست‘‘ شائع ہو گئی ہے۔ خریدنے کا ارادہ باندھ رہا تھا کہ نیک صفت محمود الحسن نے عطیہ کر دی۔ کتاب کیا ہے، موتیے کے تازہ سفید پھول بڑے سے طشت میں رکھے ہیں۔ یوسفی صاحب کی ’’آبِ گم‘‘ ہی کی طرح صنف کے تعین سے ماورا ہے۔ خوشبو دیتے نثر پارے اور سات وداعی نظمیں۔ پوری کتاب ہی نظیری کے ’’کرشمہ دامن دل می کشد‘‘ کی تفسیر ہے۔ تخلیقی عمل کے بیان میں دو نکات ایسے ارزاں کیے کہ اہل درد کو لوٹ لیا۔ کسی قدر اختصار سے درج کرتا ہوں۔ ’’تخلیقی عمل شکرانے کا عمل ہوتا ہے۔ یعنی جو کچھ بھی ہمیں یہاں دیکھنے کو ملا، اسے سمجھ کے، اپنی حسیات اور فکر کے میڈیم سے گزار کے، اپنی آسائش اور دوسروں کی عشرت اور آگہی کے لئے درج کرتے رہیں‘‘۔ اور پھر تخلیق میں تشکر کا دوسرا رخ بھی بیان فرمایا۔ ’’جتنا کچھ زندگی میں گندہ، نحوست آزار اور گھنائونا ہے، اسے بھی دیکھنے، سمجھنے اور پہچان لینے کی صلاحیت اور موقع ہمیں ملا… تو شکرگزاری اس پر بھی۔ اس طرح ہم بالکل سیاہ اور سر تا سر سفید کے بیچ… (لاکھوں ) Grey areas… پر کراہے، واویلا کیا اور بین کیے‘‘۔ تخلیق کی صراحی میں وجود کے جشن اور دکھ کی مزاحمت کا ایسا دوآتشہ کوئی کیا کشید کرے گا۔

منکہ ایک مزعومہ صحافی ہوں، سیاست کے پیچاک سے لاتعلق نہیں رہ سکتا۔ گیانی اسد محمد خان کے محررہ سے حوصلہ پاتا اور اپنا ملال بیان کرتا ہوں۔ ٹھیک پندرہ برس قبل مئی 2006ءمیں شہید بینظیر بھٹو اور محترم نواز شریف نے میثاق جمہوریت پر دستخط کئے۔ بڑے دھارے کی سیاسی قوتوں میں دستوری مفاہمت کا یہ اعلان ایک بڑی جمہوری پیش رفت تھی۔ اسکے بعد دو واقعات ہوئے۔ 27دسمبر 2007ءکو بےنظیر بھٹو شہید کر دی گئیں۔ اور 9مارچ 2008ءکو طے پانے والا معاہدہ بھوربن 13مئی 2008ءکو منہدم ہو گیا۔ 20ستمبر 2020ءکی اے پی سی اپنے بیانیے میں میثاق جمہوریت سے کم اہم نہیں تھی۔ سو پھر سے بساط بچھی۔ سینٹ کے نصف مدتی انتخاب کی چٹان کچھ اس طرح نصب کی گئی کہ پی ڈی ایم کے جہاز میں شگاف پڑ گیا۔ تاریخ کی کچہری سے حتمی انصاف کا تانگہ ایک بار پھر خالی لوٹ آیا۔ تو کیا سپر ڈال دی جائے؟ تاریخ کی جدلیات میں تغیر کے عوامل ان گنت ہیں۔ نواز شریف یکم دسمبر 2011ءکو سیاہ کوٹ پہنے میموگیٹ اسکینڈل میں سپریم کورٹ پہنچے اور پھر مارچ 2018ءمیں اس پر اظہار تاسف کیا۔ مارچ 2018ءمیں بلوچستان اسمبلی اور پھر سینیٹ میں محترم آصف علی زرداری کا موقف شفاف نہیں تھا۔ یہ سب ہوا لیکن یہ بھی یاد کیجئے کہ جنوری 2013ءمیں کینیڈا سے درآمدہ قبا پوش انقلابی اسلام آباد جا پہنچا تو نواز شریف نے مضبوط موقف اختیار کرکے اس غبارے سے ہوا نکال دی تھی۔ اگست 2014ءمیں انہدامی سیاست نے ڈی چوک میں اکھاڑہ سجایا تو پیپلز پارٹی دیگر پارلیمانی قوتوں کے ساتھ منتخب حکومت کے ساتھ ڈٹ کر کھڑی رہی۔ عملی سیاست میں بہت سی دھوپ چھائوں ساتھ ساتھ چلتی ہے۔ آج کے غبار آلود مطلع میں دھوپ کا ٹکڑا اوجھل ہوتا نظر آتا ہے۔ درخواست ہے کہ ابر سیاہ کے روشن کناروں پر نظر کیجئے۔ داخلی معیشت کی ناگزیر منطق، خارجی عوامل کا ابلق منہ زور، جمہوری ارتقا کے مثبت اشارے اور غنیم کا خالی ہوتا ہوا ترکش۔ تاریکی گہری ہو جائے تو ستاروں کی روشنی بڑھ جاتی ہے۔ جمہور کے شعور کی مشعل جلتی رہے تو سیاسی عمل خود اپنا راستہ بناتا ہے۔

چند بنیادی نکات پر سیاسی قیادت میں وسیع تر مکالمے کی ضرورت ہے۔ مضبوط معیشت کے بغیر سیاسی استحکام ممکن نہیں۔ معیشت کی جمہوری تشخیص کرنے کی ضرورت ہے۔ آمدنی کیسے بڑھانا ہے اور اس آمدنی کو کہاں استعمال کرنا ہے۔ ہمارے ملک کی موجودہ عالمی تنہائی دور کرنے کے لئے مستعد سفارت کاری کی ضرورت اپنی جگہ لیکن ہمیں اندرون ملک اپنے مفروضہ استثنائی تشخص پر توجہ دینے کی بھی ضرورت ہے۔ عملیت پسندی کا تقاضا ہے کہ دنیا کو اپنی راہ پر لانے کی بجائے آج کی عالمی حرکیات کو سمجھا جائے۔ اس ضمن میں تعلیمی نظام کی ترتیب نو چاہیے نیز ذرائع ابلاغ کی کھڑکی کھولنے کی ضرورت ہے۔ انگریزی دان طبقے نے ایک مفید مطلب اصطلاح ایجاد کی ہے Inclusion (مشمولہ بندوبست)۔ ہم نے Exclusion (اخراج) کا شعار اپنا رکھا ہے۔ اس سے قومی یک جہتی پیدا نہیں ہوتی۔ صنفی، مذہبی، لسانی اور ثقافتی اکائیوں کو استحقاق، مساوات اور احترام کی بنیاد پر قوم کی تعمیر میں شامل کرنے کی ضرورت ہے۔ آپ شوق سے 2023ءکے انتخاب کی بساط بچھایے۔ کھرے کھوٹے کا احوال تو کھل کر رہے گا۔ پُرکھوں نے جو کیا، ہم نے تاوان ادا کیا۔ آج ہم جو کریں گے، آنے والوں کے آگے آئے گا۔ دیر کیا ہے، آنے والے موسمو / دن گزرتے جا رہے ہیں، ہم چلے۔

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *

<