لوڈشیڈنگ کی سازشی کہانی

 میرے گھر سے چند قدم کے فاصلے پر اسلام آباد کے سیکٹر F-8کا مرکز ہے۔وہاں موجود ایک دوکان سے میں برسوں سے گھریلو استعمال کی الیکٹرانک اشیاء خریدتا ہوں۔اس دوکان کے مالک بہت نفیس وخوش اخلاق شخص ہیں۔سلام دُعا اور عمومی حال واحوال کے علاوہ کوئی سیاسی موضوع کبھی زیر بحث نہیں لاتے۔دو روز قبل مگر ان کا رویہ حیران کن انداز میں بدل چکا تھا۔

میری داڑھی تراشنے والی مشین ناکارہ ہوگئی تھی۔نئی کے حصول کے لئے ان کے پاس حاضر ہوا۔انہیں یاد تھا کہ ناکارہ ہوئی مشین میں نے چند ہی ماہ قبل خریدی تھی۔ وہ اس کے ناکارہ ہوجانے کے باعث شرمندہ تھے۔تین چار ڈبے انہوں نے شیلف سے ملازم کے بجائے اپنے ہاتھوں سے ڈھونڈے۔ انہیں میرے سامنے رکھ کر مختلف مشینوں کا جائزہ لیتے رہے۔ بالآخر ایک مشین کے ساتھ موجودکتابچہ بھی بہت غور سے پڑھنے کے بعد اسے خریدلینے کی تجویز دی۔میں ان کے خلوص کی وجہ سے شرمسار ہونا شروع ہوگیا۔انہیں سمجھانے کی کوشش کی کہ ان کی تجویز کردہ مشین سے مطمئن نہ ہوا تو گھر قریب ہے فوراََ لوٹا دوں گا۔وہ پریشان نہ ہوں۔ مشین میرے حوالے کرنے سے قبل مگر وہ اسے بجلی کے پلگ میں لگاکر چیک کرنا چاہ رہے تھے۔مشین کو ان پیک کرکے تاروں سے جوڑ کر مگر پلگ کی جانب بڑھے تو بتی چلی گئی۔ ان کے منہ سے برجستہ یہ فقرہ ادا ہوا کہ ’’جب سے ان…کی حکومت آئی ہے بتی غائب ہونا شروع ہوگئی ہے‘‘۔

جو لفظ انہوں نے ادا کیا وہ ہرگز گالی نہیں تھا۔اخبار میں لیکن اسے دہرانا شاید پرانی وضع کے مجھ جیسے صحافی کے لئے ممکن نہیں۔ جو لفظ میں لکھ نہیں رہاوہ ’’غیرت‘‘ سے متعلق تھا۔وہ عمران خان صاحب اور ان کے حامیوں کی اس سوچ کا اظہار بھی تھا کہ ’’امریکی سازش‘‘ کی بدولت پاکستان پر ’’امپورٹڈ حکومت‘‘ مسلط کردی گئی ہے۔

مشین لے کر جیسے ہی گھر پہنچا تو ہمارے ہاں بھی لوڈشیڈنگ شروع ہوگئی۔ ہمارے ہاں کئی برسوں سے جو یو پی ایس لگے ہوئے تھے وہ شاذہی استعمال ہوا کرتے تھے۔ اب کے بار لوڈشیڈنگ کی جو لہرلوٹ آئی ہے اس کی وجہ سے پندرہ منٹ گزرنے کے بعد کام نہیں کرتے۔قیامت خیز گرمی کے ایام میں لوڈشیڈنگ کو برداشت کرنے کے لئے نئے یو پی ایس اور بیٹریاں خریدنا پڑی ہیں۔وہ مگر مکمل طورپر ’’چارج‘‘ نہیں ہوپاتیں۔لوڈشیڈنگ شروع ہونے کے 40یا 45منٹ بعد پھس ہوجاتی ہیں۔

فقدان راحت کا جوانی سے عادی ہوا میرا دل زندگی کی کئی اذیتیں ڈھٹائی سے برداشت کرلیتا ہے۔بچیاں میری مگر سخت جان نہیں۔ ہمارے لاڈنے انہیں نازک مزاج بنادیا ہے۔بجلی کے بغیر دو منٹ بھی برداشت نہیں کرسکتیں۔ بڑبڑانا شروع ہوجاتی ہیں۔بڑی بچی کو لندن کی ایک یونیورسٹی کے لئے ایک امتحان انٹرنیٹ کے ذریعے دینا تھا۔وہ یونیورسٹی کے فراہم کردہ کوڈ استعمال کرئے ہوئے سوالات کے جوابات دے رہی تھی کہ بتی چلی گئی اور نیٹ وائی فائی کے بغیر کام نہیں کرتا۔ اسے مان تھا کہ یونیورسٹی کے تیار کردہ سوالات کے جوابات لکھتے ہوئے وہ امتیازی نمبر حاصل کرلے گی۔موقعہ کھوجانے کو یاد کرتی ہے تو رونا شروع ہوجاتی ہے۔

اپنے ذاتی تجربات لکھنے کا واحد مقصد یہ اقرار ہے کہ لوڈشیڈنگ گزشتہ چند ہفتوں سے پاکستان کے تقریباََ ہر گھر کی کہانی بن چکی ہے۔لوگ اس کی وجہ سے عمران خان صاحب کی جگہ آئی حکومت کو برا بھلا کہنا شروع ہوگئے ہیں۔بطور صحافی چند ٹھوس حقائق سے آگاہ ہوتے ہوئے اگرچہ میرے لئے لوڈشیڈنگ لوٹ آنے کا فقط موجودہ حکومت کو ذمہ دار ٹھہرانا ممکن نہیں۔ہر پاکستانی مگر صحافی نہیں ہے۔وہ اپنے ’’حال‘‘ کو ماضی بعید نہیں ماضی قریب کے تناظر میں دیکھتا ہے۔اسے سمجھ نہیں آرہی کہ ’’اچانک‘‘ لوڈشیڈنگ کیوں لوٹ آئی ہے۔حکومتی ترجمان عمران حکومت کی ’’بدانتظامی‘‘ کو اس کا ذمہ دار ٹھہرائیں گے تو ویسے ہی سنائی دیں گے جیسے عمران حکومت اقتدار سنبھالنے کے بعد قومی خزانہ خالی ہونے کی دہائی مچارہی ہوتی تھی۔اس دہائی کے ہوتے ہوئے احسن اقبال،شاہد خاقان عباسی اور خواجہ آصف جیسے مسلم لیگی رہ نمائوں کو احتساب کے شکنجے میں جکڑنا بھی آسان ہوگیا۔ مفتاح اسماعیل جیسے کاروباری میمن کو بھی کئی ماہ اس ’’چکی‘‘ میں گزارنا پڑے جو قتل کے الزام کے تحت جیل بھیجے افراد کے لئے مختص ہوتی ہے۔عمران حکومت کے سرکردہ پالیسی ساز مگر ایسی ذلت کا سامنا نہیں کررہے ۔ ربّ کریم انہیں حفظ وامان میں رکھے۔

بنیادی مسئلہ پاکستان کا یہ یاوہ حکومت نہیں ہے۔اپنی صحافتی عمر کا بیشتر حصہ میں نے ملکی سیاست اور خارجہ امور کے بارے میں رپورٹنگ کی نذر کردیا۔ ضیاء الدین مرحوم جیسے سینئرز نے مگر بالآخر مشفقانہ ڈانٹ ڈپٹ سے مجبور کیا کہ معاشی معاملات پر بھی نگاہ رکھی جائے۔ان کی بدولت تھوڑی تحقیق کی عادت اپنائی اور معیشت پر جناتی انگریزی میں لکھے مضامین غور سے پڑھنا شروع کئے۔ ماضی کی یادوں کو ٹٹولا تو احساس ہوا کہ 1975میں لاہور سے اسلام آباد منتقل ہونے کے چھ ماہ بعد مجھے اچانک دریافت ہوا کہ اس شہر میں بتی کبھی نہیں جاتی۔بجلی کو گھروں تک پہنچانے والے نظام کی بوسیدگی کی وجہ سے مگر میرے بچپن کے پرانے لاہور میں یہ واقعہ اکثر رونما ہوتا تھا۔ ہم واپڈا کے دفاتر جاکر دادفریاد کیا کرتے تھے۔

اسلام آباد میں بھی لوڈشیڈنگ مگر 1984میں شروع ہوگئی تھی۔میں ان دنوں بہت متحرک رپورٹر ہوا کرتا تھا۔حکومتی پالیسیاں بنانے والے کئی طاقت ور افسروں سے اس کی بدولت ملاقاتیں بھی ضرورت سے زیادہ ہوا کرتی تھیں۔ان میں سے ایک صاحب جنرل ضیاء کے بہت قریب تصورہوتے تھے۔ان کے ہاں ایک بار کھانے کی دعوت پر مدعو تھا۔ وہاں پر مہمان اسلا م آباد میں اچانک کئی گھنٹوں تک بجلی نہ ہونے کی بابت شکوہ کناں تھا۔ میزبان سب کے کوسنے مسکراتے ہوئے سنتے رہے۔ مجھے الوداع کہنے باہر آئے تو پراسرار سرگوشی میں یہ وعدہ لیا کہ میں یہ ’’راز‘‘ نہ تو اخبار میں لکھوں گا نہ ہی کسی اور کو بتائوں گا۔میں نے حامی بھر لی تو ’’انکشاف‘‘ کیا کہ امریکہ پاکستان پر ہمارے ایٹمی پروگرام کی وجہ سے دبائو بڑھانا شروع ہوگیا۔اس دبائو کو کم تر کرنے کے لئے ان دنوں کی حکومت ’’جان بوجھ کر‘‘ کئی گھنٹوں کے لئے بتی غائب کردیتی ہے۔شہریوں کی اس کی وجہ سے تلملاہٹ امریکہ کو یہ پیغام دینے میں آسانی فرا ہم کرتی ہے کہ ہمارے ملک میں بجلی کی کماحقہ پیداوار کے لئے ایٹمی پروگرام لازمی ہے۔1985کے بعد جونیجو حکومت برسراقتدار آگئی۔اس کے ابتدائی مہینوں میں کالا باغ ڈیم شدت سے زیر بحث آنے لگا۔ لوڈشیڈنگ بھی جاری رہی۔سندھ اور دیگر چھوٹے صوبوں سے قومی اسمبلی کے لئے منتخب ہوئے اراکین مگر نجی محفلوں میں طنزیہ انداز میں مجھے یہ سمجھانے کی کوشش کرتے کہ ’’پنجابی افسر‘‘ کالا باغ ڈیم کی افادیت اجاگر کرنے کے لئے ’’جان بوجھ‘‘ کر اسلام آباد میں کئی گھنٹوں کے لئے بتی غائب کردیتے ہیں۔

ہم پاکستانیوں کی برسوں سے عادت ہے کہ روزمرہّ زندگی کے اہم ترین اور اجتماعی معاملات کو زیر بحث لاتے ہوئے ٹھوس حقائق کا کھوج لگانے کے بجائے سازشی کہانیاں ایجاد کرنا شروع ہوجاتے ہیں۔’’امپورٹڈ حکومت‘‘ کی وجہ سے لوڈشیڈنگ کے طویل گھنٹوں کا لوٹ آنا بھی میری دانست میں سازشی کہانی ہے۔یہ مگرقیامت خیز گرمی سے بلبلائے عوام میں مقبول ہورہی ہے۔