لکھّا فہیم نے بھی، کلکتہ میری جاں ہے

اتوار13مارچ کی صبح معروف نغمہ نگار اور صحافی حسن کمال اور اردو آنگن کے مدیر امتیاز گورکھپوری کے ہمراہ صبح دس بجے کلکتہ کے نیتا جی سبھاش چندر انٹرنیشنل ائیر پورٹ پہنچا۔ باہر نکلتے ہی استقبال کے لئے آئے ہوئے لوگوں نے گلدستہ پیش کیا اور گلے لگ کر کلکتہ آنے پر اپنی خوشی کا اظہار کیا۔ کچھ پل کے لیے آنکھیں نم ہوگئی اور ہوتا بھی کیوں نہیں کیونکہ ’کلکتہ میرے سینے میں دھڑکتا ہے‘۔تیس سال لندن میں رہ کر آج بھی کلکتہ کے لوگوں نے جس طرح پیار و محبت کا اظہار کیا اس کے لئے میں تہہ دل سے شکر یہ ادا کرتا ہوں۔

ابھی ہم لوگوں سے گلے مل رہے تھے کہ کلکتہ شہر کے معروف فوٹوگرافر اور اردو ادب کے پریمی غلام غوث صاحب نے ہماری تصویروں کو کیمرے میں قید کرنا شروع کردیا۔ غلام غوث صاحب سے ہمارا رشتہ طالب علمی کے زمانے سے ہے جب وہ ایک معروف اسٹیج آرٹسٹ کے طور پر جانے پہچانے جاتے تھے۔اسی بیچ لوکل جرنلسٹ کے منیجنگ ایڈیٹر شمس الدین صاحب نے اپنا مائک ہمارے سامنے کر دیا اور سوالوں کے بوچھار کر دئیے۔خیر تھوڑی دیر بعد ہم سب گاڑی میں سوار ہو کر ہوٹل لینڈزی جو نیو مارکیٹ کے قریب تھا چل دیے۔کلکتے کا نیو مارکیٹ عالمی سطح پر ایک معروف مارکیٹ ہے۔ سر اسٹورٹ سانڈرس ہوگ 1863سے 1877تک کلکتہ کارپوریشن کے چیئر مین تھے اور نیو مارکیٹ کی تعمیر کے پیچھے محرک تھے۔ 1903ء میں مارکیٹ کو سرکاری طور پر سر اسٹورٹ ہوگ مارکیٹ کا نام دیا گیا تھا، حالانکہ لوگ شاذ ونادر ہی اس نام سے مارکیٹ کا حوالہ دیتے ہیں۔ 1930ء میں انگلینڈ کے ہڈرزفیلڈ شہرسے ایک شاندار کلاک ٹاور لایا گیا اور مارکیٹ کے جنوبی سرے پر نصب کیا گیا جہاں یہ آج تک فخر کا مقام رکھتا ہے۔

ہوٹل میں تھوڑی دیر ٹھہر کر ہم خضر پور کے سولہ آنہ قبرستان کے لیے روانہ ہوگئے جہاں اماں اور بھائی شبیر اختر کی قبر پر فاتحہ پڑھنا تھا۔ راستے بھر اماں کی وہ باتیں یاد آنے لگی جسے وہ ہمیں ہمیشہ سمجھاتی تھیں۔ انہوں نے ایک بات ہمیشہ کہی کہ’کبھی کسی کے غلط صحبت میں مت بیٹھنا‘۔اماں نے اپنی ساری زندگی سادگی میں گزار دی۔جس پر ہم بھی عمل پیراہیں۔سولہ آنہ قبرستان پہنچ کر فاتحہ پڑھنے کے بعد کچھ وقت قبرستان میں گزار کر ہم واپس ہوٹل آگئے۔

ہوٹل سے تیار ہو کر ہم چودہواں صوفی جمیل اختر میموریل ایوارڈ تقریب میں شرکت کے لیے نکل پڑ ے۔شا م چھ بج رہے تھے۔کلکتہ کی سڑکوں پر لوگوں کا اژدھام دکھائی دے رہاتھا۔ میں بھی اس خوش فہمی میں مبتلا تھا کہ شاید میری آمد سے آج شہر دیوانہ ہوگیا ہے۔ گاڑیوں کے ہارن،ہاتھ رکشوں کی بھاگ دوڑ، فوٹ پاتھ پر سامان بیچنے والوں کی بھیڑ بھاڑ اور لوگوں کے ہجوم نے میرے اندر ہیجانی کیفیت پیدا کر دیا تھا۔ابھی میں شہر کی رونق اور ہنگامے میں الجھا تھا کہ تھوڑی دیر میں ہی ہم مغربی بنگال اردو اکاڈمی کے مولانا آزاد او ٓڈوٹوریم پہنچ گئے۔ ہال لوگوں سے کھچا کھچ بھرا تھا۔سب سے پہلے اخبارِ مشرق کے بانی اور مدیر اعلیٰ جناب وسیم الحق سے بغل گیر ہوئے۔وسیم الحق کو صرف کلکتہ ہی نہیں بلکہ عالمی سطح پر اردو صحافت میں ایک بڑا نام مانا جاتا ہے۔ جنہیں چند سال قبل اعترافِ صحافت میں صوفی جمیل اختر میموریل ایوارڈ سے بھی نوازا گیا تھا۔ پھر مہمانوں سے باری باری ملاقات ہوئی۔2022کا صوفی جمیل اختر میموریل ایوارڈ حسن کمال صاحب کو پیش کیا گیا۔حسن کمال ایک معروف صحافی اور نغمہ نگار ہیں اور وہ بلٹز اخبار کے ایڈیٹر بھی رہ چکے ہیں۔اس تقریب میں دلی سے تشریف لائے مہمانِ ذی وقار قومی کونسل فروغ برائے اردو زبان کے ڈائریکٹر جناب شیخ عقیل احمد، مسلم انسٹی ٹیوٹ کے سیکریٹری جناب نثار احمد، ڈاکٹر شکیل اختر کے علاوہ صوفی جمیل اختر لیٹریری سوسائٹی کولکتا کے صدر ایس ایم راشدصاحب بھی موجود تھے۔

کلکتہ کی گرمی کا درجہ حرارت مسلسل بڑھتا ہی جا رہا تھا لیکن لوگوں کی محبت اور خلوص نے گرمی کو ایک حد تک مات دے رکھا تھا۔ معروف شاعر اور ادیب پرویز اختر نے دو ہفتے قبل جب میں لندن میں تھا تبھی مجھ سے کہہ دیا تھا کہ خضر پور میں ادبی نشست کا اہتمام کیا گیا ہے۔ جس میں مجھے شرکت کرنی ہے۔پرویز اختر میرے ذہین دوست ہیں اور ایک عرصے سے ہمارا ان کا ساتھ رہا ہے۔ میں نے پرویز اختر سے بلا جھجھک حامی بھر لی اور بدھ 16مارچ کی شام سات بجے خضر پور پہنچ گیا۔ ایاز خان کا مکان خضر پور کے معروف فینسی مارکیٹ علاقے سے قریب ہے۔ جہاں موبائل فون کے تمام سامان پائے جاتے ہیں۔ مجھے کچھ پل کے لیے وہ علاقہ بنکاک کے بازار کی یاد دلارہی تھی۔یہ دیکھ کر خوشی ہوئی کہ خضر پور کا علاقہ کافی پھول پھل رہا ہے اور نوجوان بر سر روزگار ہیں۔پرویز اختر کی سجائی ادبی نشست کامیابی سے اختتام کو پہنچا جہاں مہاراشٹرا سے تشریف لائے خورشید اکرام سوز صاحب سے بھی ملاقات ہوئی۔اس پروگرام میں ممبئی سے تشریف لائے امتیاز گورکھپوری کے علاوہ معروف شاعرامان اللہ ساغر سے بھی ملاقات ہوئی جو اس کی صدارت کر رہے تھے۔ پرگرام کے آخر میں مہمانوں کو کلکتہ کی خاص بریانی پیش کی گئی جسے میں نے خوب جی بھر کے کھایا۔

کئی دن کے بھاگ دوڑ کے بعد آج ہوٹل میں کچھ آرام کرنے کا موقعہ ملا۔ کئی روز سے طبعیت تھک سی گئی تھی۔ لیکن لوگوں کے ملنے جلنے کے سلسلے نے ہماری تھکاوٹ کو مٹا دیا تھا۔ رشٹرا فاؤنڈیشن کی جانب سے محمد فارق، فیروز انجم، پرویز انجم اور ذاکر حسین کچھ پل کے لیے ہوٹل ملنے چلے آئے۔ رشڑا فاؤنڈیشن کی سماجی خدمت اور دشواریوں پر باتیں ہوئی۔ رشڑا فاؤنڈیشن نے کئی برس سے اپنے علاقے میں بچوں کی پڑھائی اور کوچنگ سینٹر کھول رکھا ہے جو کہ ایک قابلِ ستائش بات ہے۔

جمعرات 17مارچ کی شام گارڈن ریچ مولانا آزاد میموریل گرلس ہائی اسکول نے جلسہ استقبالیہ کا اہتمام کیا۔جہاں میری ملاقات اسکول کے صدر جناب شکیل انصاری، ٹیچر انچارج محترمہ نوشاد پروین، کاونسلر روبینہ ناز، جناب محمد جمال اور ڈاکٹر نوشاد عالم سے ہوئی۔مٹیابرج کا اردو ادب میں ایک نمایاں رول رہا ہے اور واجد علی شاہ سے منسلک مٹیابرج کو عالمی سطح پر ایک اہم مقام حاصل ہے۔اسکول کی بچیوں نے مجھ سے کئی سوالات بھی پوچھے جو کہ ان کے لیے کافی حوصلہ افزا تھا۔پروگرام کو کامیاب بنانے میں ڈاکٹر فاطمہ خاتون نے اہم رول نبھایا جنہوں نے کامیاب نظامت کی جو اس اسکول کی معلمّہ بھی ہیں۔پروگرام کے بعد ڈاکٹر فاطمہ خاتون نے ایک پر تکلف عشائیہ کا بھی اہتمام کیا تھا جسے لوگوں نے خوب سراہا۔

اتوار 20مارچ کو الحمد ایجوکیشنل آرگنائزیشن کی جانب سے کلکتہ کے بھارتیہ بھاشا پریشد میں امتیاز گورکھپوری کی ترتیب کتاب ’گردِ سفر‘کا اجرا ہوا۔یہ کتاب میرے سفر نامے پر ماخوذ ہے۔ کتاب کا اجرا مغربی بنگال کے ڈیجاسٹر منیجمنٹ وزیر اور محب اردوجناب جاوید احمد خان نے کیا۔ اس پروگرام میں بطور مہمان خصوصی مسلم انسٹی ٹیوٹ کے سیکریٹری جناب نثار احمداور قاری جناب صباح اسماعیل ندوی،الحمد ایجوکیشنل آرگنائزیشن کے سیکریٹری جناب نہال احمد نے شرکت کی۔ نظامت کے فرائض جناب محمد شاہجہان نے انجام دئے۔

کلکتہ کے سات دن کے سفر میں ہم نے ہزاروں لوگوں سے ملاقات کی تو وہیں کئی اسکول کا بھی دورہ کیا۔ جن میں ٹنگرا کا موتی جھیل اسکول کافی اہم تھا۔ وہاں ہم نے اساتذہ سے بات چیت کی اور اسکول کے مسائل کے ساتھ دیگر امور پر بھی تبادلہ خیال کیا۔ اس دوران الحمد ایجوکیشنل آرگنائزیشن کے اراکین سے بھی ملنے کا موقع ملا جن کے ساتھ بچوں میں تعلیم اور روزگار کے مسائل پر کچھ اہم باتوں پر غور و فکر کیا گیا۔دورانِ گفتگو میں نے لوگوں کو مشورہ دیا کہ صرف سرکاری آفیسر بننے یا بنانے سے قوم کے بچوں کا مستقبل حل نہیں ہوسکتا ہے کیونکہ سرکاری آفیسر میں بمشکل چند مسلمان بچے ہی نوکری پاتے ہیں جبکہ ہزاروں بچے سرکاری افسر بننے کے خواب میں دیگر مواقع سے ہاتھ دھو بیٹھتے ہیں۔ جس کا نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ ہزاروں بچے سرکاری افسر بننے کی چاہ میں دیگر کاموں کو سیکھ نہیں پاتے ہیں اور ان کا کئیریر برباد ہوجاتا ہے۔آج بھی دبئی وغیرہ میں ہزاروں ایسے کام ہیں جہاں ایسے بچے کام کرنے سے محروم ہوتے ہیں کیونکہ ان کا اس کا م کا ڈپلوما اورتجربہ نہیں ہوتا ہے۔

اس طرح کلکتہ کے سات دن کا سفر خلوص و محبت کے ساتھ اختتام پزیر ہوا۔کلکتہ کے قیام کے دوران مختلف مقامات پر اپنے اپنے طور ہم نے کھانے کا بھی خوب لطف لیا۔ جن میں ارسلان کی بریانی، رائل انڈین کا چانپ، نظام کا کھری کباب وغیرہ کافی ذائقہ دار تھا۔ہم نے محسوس کیا ہے کہ کلکتے کے اس سفر میں لوگوں نے ہمارے ساتھ جہاں اپنا دکھ درد باٹا ہے تو وہیں انہوں نے میری آمد سے دل کھول کر اپنی خوشی کا بھی اظہار کیاہے۔میں کلکتہ کے لوگوں کے خلوص کا تہہ دل سے شکریہ ادا کرتا ہوں اور زندگی رہی تو ان شاء اللہ دوبارہ ملنے کا وعدہ کرتا ہوں۔ میں اپنی بات اپنی نظم کے چند لائن سے ختم کرتا ہوں کہ:
کلکتہ تیری خواہاں،
صد شکر میں بھی تیری،
آغوش میں پلا ہوں،
انگلی پکڑ کے تیری،
میں ہر قدم چلا ہوں،
لکھّا فہیم نے بھی،
کلکتہ میری جاں ہے۔

error: