لیسٹر میں ہندو مسلم کشیدگی: ایک کرکٹ میچ کے بعد بات اتنی آگے کیسے پہنچی؟

انڈیا اور پاکستان میں شاید آپ نے ایسی خبریں سُنی ہوں گی کہ ’دشمن‘ کی جیت پر جشن منانے پر ہندو مسلم کشیدگی پیدا ہو گئی۔ مگر اب برطانیہ کے شہر لیسٹر میں شائقین کے درمیان جھگڑے سے یہ ایک بین الاقوامی مسئلہ بنتا نظر آ رہا ہے۔

لیسٹر کی پولیس نے گذشتہ سنیچر کو ہندو اور مسلم نوجوانوں کے درمیان لڑائی کے بعد اب تک 47 افراد کو گرفتار کیا ہے۔ وہاں بدامنی کی لہر نے اُس وقت جنم لیا جب 28 اگست کو انڈیا اور پاکستان کی کرکٹ ٹیموں کے درمیان ایشیا کپ کا اہم میچ کھیلا گیا۔

لندن سے تقریباً 163 کلومیٹر دور لیسٹر میں 17 اور 18 ستمبر کو جو مناظر دیکھنے کو ملے انھوں نے ناصرف لیسٹر کے شہریوں بلکہ برطانیہ کے ہر شخص کو تشویش میں مبتلا کر دیا ہے۔ شہریوں کے علاوہ ان مظاہروں میں پولیس کے 25 اہلکار اور ایک کُتا بھی زخمی ہوا۔

کشیدگی کی شروعات 28 اگست کو ہوئی جب دبئی میں کھیلے جانے والے میچ میں پاکستان کی شکست کے بعد سوشل میڈیا پر بعض ویڈیوز گردش کرنے لگیں۔

پاکستانی شائقین کے مطابق کچھ ویڈیوز میں ’پاکستان مردہ باد‘ کے نعرے لگائے گئے جبکہ انڈین شائقین نے سوشل میڈیا پر ایسی ویڈیوز شیئر کیں جن میں دعویٰ کیا گیا کہ مسلمان ہندوؤں کے گھروں پر حملے کر رہے ہیں اور مذہبی جھنڈے ہٹا رہے ہیں۔

اِسی طرح سوشل میڈیا پر بعض مسلمانوں نے الزام لگایا کہ ہندو نوجوان مسلمانوں کی دکانوں کے سامنے ’جے شری رام‘ کے نعرے لگا رہے ہیں اور انھیں اُکسا رہے ہیں۔

’لوگوں کو سوشل میڈیا کے ذریعے اُکسایا گیا‘

عینی شاہدین کے مطابق دونوں مذاہب کے لوگوں کے درمیان کشیدگی کی خبریں سوشل میڈیا کے ذریعے مل رہی تھیں لیکن حالات بظاہر نارمل تھے مگر پھر 17 ستبمر کو مسلمانوں کی ایک بڑی تعداد احتجاج پر نکلی۔

پولیس کا کہنا ہے کہ ان کی توقع سے زیادہ تقریباً 300 مظاہرین وہاں پہنچے تھے اور اس وقت صرف آٹھ پولیس والے ڈیوٹی پر تھے۔ بھیڑ کو دیکھنے کے بعد وہاں اضافی پولیس بلائی گئی۔

اس کے بعد جواب میں اتوار کو ہندو مذہب سے تعلق رکھنے والوں نے بغیر پولیس کو اطلاع دیے مظاہرہ کیا۔ اطلاعات کے مطابق وہاں تقریباً 100 لوگ احتجاج کرنے پہنچے تھے لیکن دونوں ہی دن دونوں مذاہب سے تعلق رکھنے والے افراد ایک دوسرے کے خلاف نعرے لگاتے رہے۔ اتوار کو پولیس پر بھی بوتلیں پھینکی گئیں۔

ان واقعات کے پس منظر میں لیسٹرشائر پولیس کے عارضی چیف کانسٹیبل راب نکسن نے بی بی سی کو بتایا ہے کہ کشیدگی بڑھانے میں سوشل میڈیا نے ’بڑا کردار‘ ادا کیا۔ انھوں نے لوگوں پر تشدد اور مذہبی مقامات پر حملوں جیسی اطلاعات کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ ’وہاں بہت سی چیزیں فیک نیوز ہیں۔‘

’میری گزارش ہے کہ اگر لوگ سوشل میڈیا پر معلومات دیکھتے ہیں جس کی وہ تصدیق نہیں کر سکتے تو براہِ کرم اسے شیئر نہ کریں۔‘

’لوگ سوشل میڈیا سے فیک نیوز حاصل کر رہے ہیں اور اسے آگے پہنچا رہے ہیں جس سے مسئلہ سنگین ہو رہا ہے اور خوف بڑھ رہا ہے۔‘

علاقے سے رکن پارلیمان کلوڈیا ویب نے متنبہ کیا ہے کہ اگر معاملے کو سلجھانے کے لیے حکومت اور پولیس نے مداخلت نہ کی تو لیسٹر میں جاری مذہبی تناؤ دیگر شہروں میں بھی پھیل سکتا ہے۔

لیسٹر کی ایشیائی آبادی میں ہندوؤں کی اکثریت

برطانیہ کے مشرقیعلاقے میں واقع لیسٹر بڑے شہروں میں شمار ہوتا ہے جہاں اکثریت برطانوی سفید فام افراد کی نہیں بلکہ یہاں مختلف نسلوں کے لوگ بستے ہیں۔

لیسٹر اپنی ملی جلی ثقافت، تاریخ، فٹ بال ٹیم، ایشیائی کپڑوں، زیورات، مٹھائی کی دکانوں اور انڈین و پاکستانی ریستورانوں کے لیے مشہور ہے۔ 70 کی دہائی سے پہلے تک یہ سفید فام اکثریت والا شہر تھا جہاں کے لوگ اور انتظامیہ باہر سے نقل مکانی کر کے لیسٹر آنے والوں کے بظاہر خلاف تھی۔

70 کی دہائی میں یوگینڈا کے ڈکٹیٹر ایدھی امین نے جب یہ اعلان کر دیا کہ وہاں بسے انڈین 90 دن کے اندر اندر ملک چھوڑ کر چلے جائیں تو ایک بڑی تعداد نے برطانیہ کا رُخ کرنا شروع کیا۔ اس وقت 1972 میں لیسٹر کی انتظامیہ نے یوگینڈا کے ایک اخبار ’یوگانڈا ارگز‘ میں ایک اشتہار شائع کرایا جس میں کہا گیا تھا کہ ’اپنے اور اپنے خاندان والوں کے مفاد کے بارے میں سوچتے ہوئے آپ کو یوگینڈا ریسیٹلمنٹ بورڈ کی صلاح قبول کرنی چاہییے اور لیسٹر نہ آئیں۔‘

اخبار

آج لیسٹر کی کل آبادی کا 37 فیصد حصہ جنوبی ایشیائی افراد پر مشتمل ہے جن میں اکثریت 70 کی دہائی میں یوگینڈا سے نقل مکانی کر کے برطانیہ آنے والے انڈین ہندوؤں کی ہے۔ باقی آبادی مسلمان اور جین مذہب سے تعلق رکھنے والوں کی ہے۔

لیسٹر کی کل آبادی کا تقریباً 25 فیصد حصہ انڈین نژاد ہندوؤں پر مشتمل ہے جن کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ انھوں نے اپنی محنت اور تجارتی کوششوں سے لیسٹر پر اپنا اثر و رسوخ قائم کیا۔

لیسٹر یونیورسٹی کے سابق پروفیسر رچرڈ بونی نے لیسٹر میں ایشیائی کمیونٹی پر ریسرچ کی تھی اور انھوں نے ایک بار کہا تھا کہ ’انڈین کبھی تھکتے ہی نہیں ہیں۔‘

ہندو مسلم کشیدگی کا خوف

لیسٹر میں احتجاج میں شامل دونوں مذاہب سے تعلق رکھنے والوں میں اکثریت نوجوانوں کی تھی جو ’جے شری رام‘ اور ’اللہ اکبر‘ کے نعرے لگا رہے تھے۔ بعض مظاہرین نے پولیس پر بوتلیں بھی پھینکیں اور ایک شخص کو خار دار ہتھیار رکھنے کے الزام میں 10 ماہ قید کی سزا بھی ہوئی۔ یعنی احتجاج صرف نعروں تک محدود نہیں تھا۔

شہر میں ایک ریستوران کے مینیجر جے پٹیل کہتے ہیں کہ ’لوگ ڈرے ہوئے ہیں۔ وہ باہر نہیں نکل رہے۔‘ واقعے کے روز کو یاد کرتے ہوئے انھوں نے بتایا کہ ’لوگ ادھر ادھر بھاگ رہے تھے اور دروازوں پر دستک دے رہے تھے۔۔۔ ہم نے تمام لائٹس بند کیں اور پردے آگے کر دیے۔ یہ بہت خوفناک تھا۔‘

لیسٹر میں رہنے والے ہندو اور مسلمانوں کے کہنا ہے کہ وہ برسوں سے ایک ساتھ مل جل کر رہ رہے ہیں اور انھوں نے کبھی تصور بھی نہیں کیا تھا کہ یہاں ہندو مسلم کشیدگی ہو گی۔

لیسٹر

مقامی تاجر دھرمیش لکھانی کا کہنا تھا کہ ’ہم سب لوگ بہت خوفزدہ ہیں اور فکر مند ہیں۔ لیکن میں سمجھتا ہوں کہ صرف ایک کرکٹ میچ سے بات اتنی خراب نہیں ہوتی۔ کمیونٹی میں کچھ ایسے مسائل ہیں جن پر توجہ دینے کی ضرورت ہے۔ یہ مثال صرف ہندو اور مسلمانوں سے متعلق نہیں ہیں۔‘

احمد کی عمر تقریباً پچاس برس ہے اور ان کی پیدائش لیسٹر میں ہوئی۔ اُن کا کہنا ہے کہ ’میں نے ہندو نوجوانوں کو مسلمانوں کی دکانوں کے سامنے جلوس نکالتے ہوئے دیکھا۔ مذہبی کشیدگی دیکھ کر میں بہت صدمے میں ہوں۔ اس سخت گیر سوچ نے ہمارے شہر کا سکون ختم کر دیا ہے۔‘

لیسٹر کے میئر پیٹر سولسبائی کا کہنا تھا کہ لیسٹر میں جو واقعات ہوئے ان میں شامل ہونے کے لیے ’لوگ لیسٹر کے باہر سے بھی آئے تھے۔‘ انھوں نے مزید کہا کہ سوشل میڈیا پر اس پورے معاملے کے بارے میں جتنی افواہیں اور فیک نیوز پھیلائی گئی اس نے حالات مزید کشیدہ کیے ہیں۔

لیسٹر کی پولیس نے بار بار سوشل میڈیا کے ذریعے عوام سے درخواست کی ہے کہ وہ افواہوں سے دور رہیں اور سوشل میڈیا اور واٹس اپ پر وہی اطلاعات شیئر کریں جو مصدقہ ہیں۔

لیسٹر کے بعض مقامی لوگوں کا کہنا ہے کہ وہ ہمیشہ سے مل جل کر رہے ہیں۔ تو پھر اچانک حالات اتنے خراب کیسے ہو گئے؟

سینیئر صحافی و تجزیہ کار سلیل ترپاٹھی نے لیسٹر کی انڈین کمیونٹی کے بارے میں رپورٹنگ کی ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ ’یہ حقیقت ہے کہ لیسٹر شہر برطانیہ کی سماجی یکجہتی کی ایک شاندار مثال تھا۔‘

’لیکن جن لوگوں نے اپنے چہرے ڈھانپ کر مسلمانوں کی دکانوں کے سامنے جے شری رام کے نعرے لگائے وہ انڈیا کی منقسم کرنے والی سیاست کو برطانیہ لانے کی کوشش کر رہے ہیں۔‘

ان کا مزید کہنا تھا ’برطانیہ کی دو بڑی سیاسی پارٹیاں لیبر اور کنزرویٹو دونوں نے برطانیہ کے ہندوؤں پر بہت اعتماد دکھایا ہے۔ انھیں اس بات کا احساس کرنا چاہیے کہ شدت پسندی صرف کسی ایک مذہب کی خصوصیت نہیں ہے۔‘

’حکومت کو آر ایس ایس یا سخت گیر ہندو نظریے کو پنپنے سے روکنا چاہیے اور ديگر مذاہب کی طرح ہندوؤں پر نظر رکھنی چاہیے۔‘

لیسٹر

وہیں بی بی سی کی نامہ نگار گگن سبروال کا کہنا ہے کہ جب انھوں نے مقامی لوگوں سے بات کی تو ان کا کہنا تھا کہ لیسٹر کی ہندو کمیونٹی کی اکثریت امن پسند لوگ ہیں لیکن گذشتہ چند برسوں قبل مغربی انڈیا کے جزیرے دمن اور دیپ سے جو ہندو نقل مکانی کر کے آئے ہیں، ان میں سے بعض کا تعلق ہندو نظریاتی تنظیم آر ایس ایس سے ہے اور ان کی یہ کوشش ہے کہ وہ تنظیم کے نظریے کو لیسٹر میں بھی عام کریں۔

اب سوال یہ ہے کہ مسلمان کیوں سڑکوں پر آئے، کیا وہ بھی کشیدگی پھیلا رہے ہیں؟

اس کے جواب میں صحافی سلیل ترپاٹھی کا کہنا ہے کہ ’یہ ذمہ داری اکثریت کی ہوتی ہے کہ وہ اپنی طاقت کا غلط استعمال نہ کرے اور حالات خراب نہیں بلکہ صحیح کرنے کی کوشش کریں۔‘

لیسٹر کے واقعات کے بعد پورے برطانیہ میں اس فکر کا اظہار کیا جا رہا ہے کہ کہیں اس ہندو مسلم کشیدگی کی جڑیں بہت گہری تو نہیں ہیں اور اگر ہیں تو حکومت اور پولیس نے اسے پنپنے کیسے دیا؟

بیشتر ماہرین کو لگتا ہے کہ یہی صحیح وقت ہے کہ حکومت اور پولیس معاملے کی صحیح تحقیق کریں اور لیسٹر کی نوجوان نسل اور خاص طور پر آنے والی نسل کو نفرت نہیں بلکہ محبت بھرے سماج میں کھلی سانس لینے دیں۔

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published.