لیونل میسی: پیرس سینٹ جرمین کے لیے کھیلنے پر آمادگی ظاہر کرنے والے میسی کو بارسلونا کیوں چھوڑنا پڑا؟

آرجنٹائن کے کپتان اور دنیا کے سب سے بڑے فٹبالروں میں شمار کیے جانے والے لیونل میسی بلآخر 21 برس کے بعد بارسلونا کو خیر آباد کہہ رہے ہیں۔ وہ اب پیرس کا رخ کر رہے ہیں، جہاں وہ فرانس کے سب سے بڑے فٹبال کلب پی ایس جی یا پیرس سینٹ جرمین کی نمائندگی کریں گے۔

میسی کا بارسلونا سے جانا بہت ڈرامائی انداز میں ہوا، آخری وقت تک یہ خبریں آ رہی تھیں کہ میسی کا بارسلونا کے ساتھ نیا معاہدہ نہ صرف کچھ گھنٹوں میں طے پا جائے گا بلکہ کلب کے نئے سربراہ لاپورٹے کرسچیانو رونالڈو کو بھی سائن کرنا چاہتے ہیں۔

تاہم سپین میں فٹبال کے ادارے لا لیگا نے بارسلونا کو تنبیہ کی کہ وہ نہ صرف میسی کو سائن نہیں کر سکتے بلکہ انھیں میسی کے علاوہ اپنے دوسرے مہنگے کھلاڑیوں سے بھی جان چھڑانی ہو گی۔

سوشل اور روایتی میڈیا میں لا لیگا کو بہت برا بھلا کہا گیا ہے کیونکہ بارسلونا نے نہ اپنی پریس ریلیز میں میسی کے جانے کا الزام لا لیگا پر ڈالا اور سپورٹس میڈیا میں بھی کچھ ایسی ہی تصویر کشی کی گئی ہے۔

میسی
،تصویر کا کیپشنبارسلونا کے کیمپ نو فٹبال سٹیڈیم میں میسی کے جانے کے بعد ان کے پوسٹر ہٹائے جا رہے ہیں

لیکن میسی کو روتے ہوئے بارسلونا کو خدا حافظ کیوں کہنا پڑا؟ اور کیا اس میں قصور لا لیگا کا ہے؟

سنہ 2013 میں لا لیگا کی طرف سے لائے جانے والے نئے قوانین یہ کہتے ہیں کہ کسی بھی ٹیم میں کھیلنے والے سارے کھلاڑیوں کی مجموعی تنخواہ اس کلب کے منافع کا 70 فیصد ہونی چاہیے۔ مثال کے طور پر اگر بارسلونا کو سال میں ایک سو ملین منافع ہوتا ہے تو ان کے تمام کھلاڑیوں کی تنخواہ ستر ملین سے زیادہ نہ ہو۔

میسی

تاہم یہ قانون نہ تو نیا ہے اور نہ ہی بے جا، جبکہ بارسلونا کے وکیلوں کی فوج کو اس کا علم بھی تھا۔ بارسلونا انہی قوانین کی پاسداری کرتے ہوئے میسی کو 2013 سے کھلا ہی رہا تھا۔ تو اچانک یہ قوانین مسئلہ کیوں بن گئے؟

بیوی
،تصویر کا کیپشنمیسی کا خود تو کوئی سوشل میڈیا اکاؤنٹ نہیں ہے لیکن ان کی اہلیہ نے انسٹاگرام پر پوسٹ کیا اب ہم اکٹھے ایک نئی مہم پر جا رہے ہیں۔

اس کی ایک بڑی وجہ کووڈ کی وبا ہے۔ گذشتہ برس دنیا کی بڑی اور چھوٹی دونوں قسم کی فٹبال لیگز میں میدان سنسان نظر آئے۔

کووڈ کی وجہ سے سٹیڈیم میں مداحوں پر پابندی کے باعث ٹکٹوں سے ہونے والی آمدنی دنیا بھر کے کلبوں کے ہاتھ سے جاتی رہی۔ اس کے علاوہ کووڈ نے مرچنڈائز کی فروخت یعنی کہ کلب کی فٹبال شرٹس اور اس سے منسلک دیگر اشیا کی فروخت میں بھی زبردست کمی آئی۔

نیمار
،تصویر کا کیپشننیمار نے یہ اپنے انسٹاگرام اکاؤنٹ پر پوسٹ کیا اور کہا کہ اب ہم دوبارہ ساتھ ہوں گے۔ نیمار 2013 سے 2017 کے عرصے میں بارسلونا کے لیے کھیلے تھے

ان سب کو مدِ نظر رکھتے ہوئے بارسلونا کو اس نئے فٹبال سیزن میں آنے سے پہلے اپنے کھلاڑیوں کی تنخواہ میں دو سو ملین ڈالر کی کمی کرنا تھی۔

ایسے حالات میں جب بارسلونا کا آڈٹ ہوا تو یہ نتیجہ اخز کیا گیا کہ بارسلونا کے منافع میں کمی کی ایک بڑی وجہ کلب کے ’انتظامی امور میں ہونے والے مسائل تھے‘ اور کووڈ کی وجہ سے بارسلونا کی کمائی پر صرف دس سے پندرہ فیصد منفی اثر پڑا۔

لا لیگا کے قانون کو مدِ نظر رکھتے ہوئے میسی کی تنخواہ کلب کا 70 فیصد نہیں بلکہ 115 فیصد تھی۔

اس کا مطلب یہ تھا کہ بارسلونا یا تو میسی سے چھٹکارا حاصل کرے یا پھر اپنے دیگر دس کھلاڑیوں کو گھر بھیج دے۔

میسی

حالانکہ میسی نے بارسلونا سے یہ کہا کہ وہ اپنی تنخواہ آدھی کر لیں گے لیکن لالیگا قوانین کو مدِ نظر رکھتے ہوئے میسی اگر مفت میں بھی بارسلونا کے لیے کھیلنا چاہتے تو نہیں کھیل سکتے تھے کیونکہ بارسلونا کو پہلے اپنے دیگر کھلاڑیوں کو فارغ کرنا پڑتا اور پھر دوبارہ میسی کے ساتھ معاہدہ کرنا ہوتا۔

ایسے میں نہ تو بارسلونا کے پاس اتنا وقت بچا تھا اور نہ ہی کوئی کلب ایک کھلاڑی کی خاطر اپنی پوری ٹیم کو نکال سکتا ہے۔

اب آگے کیا ہوگا؟

میسی کی نظریں اب فرانسیسی لیگ پر ہیں جہاں وہ اپنے بارسلونا کلب کے سابقہ کھلاڑی نیمار اور دنیا کے سب سے مہنگے کھلاڑی کلیئن ایم باپے کے ساتھ کھیلیں گے۔

حالانکہ ایم باپے کے بارے میں یہ اطلاعات آرہی ہیں کہ وہ ہسپانوی کلب ریال میڈرڈ کے لیے کھیل سکتے ہیں تاہم ابھی حتمی طور پر کچھ طے نہیں پایا۔

ٹوئٹر پر جہاں بارسلونا کلب کے مداحوں نے میسی کے جانے پر غم و غصے کا اظہار کیا ہے وہیں پر پی ایس جی کلب اور فٹبال کے مداح ان کے پیرس جانے پر خوش بھی ہیں۔

ایک مداح نے ٹوئٹر پر لکھا کہ فرانس میں اب سے مشہور چیز آئفل ٹاور نہیں بلکہ لیونل میسی ہیں۔

جبکہ ایک اور صارف نے ٹویٹ کرتے ہوئے دعویٰ کیا کہ پی ایس جی کے ٹوئٹر پر میسی کے آنے سے پہلے صرف 22 ملین فالوئرز تھے اور میسی کے آنے کے اعلان کے بعد یہ 38 ملین ہو گئے۔

میسی بدھ کو پیرس میں آئفل ٹاور کے نزدیک پریس کانفرنس کریں گے جہاں ایک روایتی تقریب میں انھیں پی ایس جی کی جرسی دی جائے گی۔

پی ایس جی کے کھلاڑی نیمار نے اپنے سابقہ اور نئے ساتھی میسی کو کچھ دن قبل اپنی دس نمبر کی جرسی دینے کی آفر کی تھی تاہم میسی نے یہ پیشکش قبول نہیں کی۔

میسی

دس نمبر کی جرسی نیمار پی ایس جی کے لیے کھیلتے ہوئے خود پہنتے ہیں اور عموماً کھلاڑی اپنے نمبر کی جرسی کسی کو نہیں دیتے کیونکہ بہت سے کھلاڑی جرسی کے نمبر کو خوش قسمتی سے جوڑتے ہیں۔

نیمار کی طرح میسی بارسلونا کے ساتھ کھیلتے ہوئے دس نمبر کی جرسی پہنتے تھے۔ تاہم اب یہ دیکھنا باقی ہے کہ میسی کی نئی جرسی پر کون سا نمبر ہو گا۔

میسی کے بارسلونا سے جانے کے بارے میں جہاں آنے والے وقت میں کھیل کے تاریخ دان اور ماہرین بہت کچھ لکھیں اور کہیں گے وہیں پر یہ فٹ بال کلبوں اور مداحوں کے لیے ایک سبق بھی ہے۔

سبق یہ ہے کہ یہ کھیل گیارہ کھلاڑیوں پر مشتمل ہے۔ ایک کھلاڑی کی خاطر آپ پوری ٹیم کی قربانی نہیں دے سکتے چاہے وہ کھلاڑی لیونل میسی ہی کیوں نہ ہو۔

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *

error: