مائرہ ذوالفقار قتل کیس: پوسٹ مارٹم رپورٹ میں بے دردی سے قتل کیے جانے کا انکشاف

پاکستان کے شہر لاہور میں قتل ہونے والی 26سالہ پاکستانی نژاد برطانوی لڑکی مائرہ ذوالفقار کی پوسٹ مارٹم رپورٹ میں انھیں بے دردی سے قتل کیے جانے کا انکشاف ہوا ہے۔

بی بی سی کو موصول پوسٹ مارٹم رپورٹ کے مطابق، مائرہ ذوالفقار کے جسم پر گولیوں کے دو نشانات سمیت کل چھ زخم آئے ہیں۔

رپورٹ کے مطابق ’ایک گولی مائرہ ذوالفقار کی گردن سے آرپار ہوئی اور دوسری گولی ان کے کندھے پر لگی۔ اسی طرح مقتولہ کے گلے اور جسم پر بھی زخموں کے نشانات موجود ہیں جنھیں مقتولہ کی اپنے قاتل (قاتلوں) سے موت سے پہلے کی سٹرگل (بچنے کی کوشش) کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔‘

یاد رہے کہ پاکستانی نژاد مائرہ ذوالفقار کو 3مئی 2021 کو لاہور کے پوش علاقے ڈیفنس (فیز5) میں جہاں وہ گذشتہ چند ماہ سے ایک خاتون دوست کے ساتھ کرائے کے مکان میں رہ رہی تھی نامعلوم افراد نے قتل کر دیا تھا۔

مائرہ ذوالفقار چند ماہ قبل ہی برطانیہ سے پاکستان رہنے کے لیے منتقل ہوئی تھیں جبکہ ان کے والدین برطانیہ میں ہی رہائش پذیر ہیں۔

شواہد کا فرانزک جائزہ

اس قتل کی ایف آئی آر مقتولہ مائرہ ذوالفقار کے پھوپھا محمد نذیر کی مدعیت میں ڈیفنس بی پولیس سٹیشن میں چار ملزمان کے خلاف جن میں دو نامزد ملزمان بھی ہیں، درج کروائی گئی جس میں وجہ عناد یہ بتائی گئی کہ مائرہ کو ان دونوں ملزمان نے اس لیے ایک منصوبہ بندی سے قتل کر دیا تھا کہ یہ دونوں اس سے شادی کرنا چاہتے تھے جبکہ مائرہ نے دونوں کے ساتھ شادی سے انکار کیا تھا۔

دوسری طرف پولیس ذرائع کے مطابق پنجاب فرانزک سائنس ایجنسی کو بھی کرائم سین سے تیس بور پستول کی ایک زندہ گولی، خون آلود دو ٹشو پیپرز، استعمال شدہ دستانوں کا ایک جوڑا، ایک ویسٹ بینڈ، ایک عدد شرٹ، ایک جوتا، ایک مردانہ بنیان وغیرہ بھی ملے تھے جس کی رپورٹ کا تاحال پنجاب پولیس کے تفتیش کاروں کو انتظار ہے کیونکہ پولیس ذرائع کے مطابق فرانزک رپورٹ سے کافی شواہد ملنے کا امکان ہے۔

مائرہ ذوالفقار

پولیس ذرائع کے مطابق اگر فرانزک رپورٹ میں کسی شخص کا ڈی این اے مل گیا تو اسے ملزمان سے میچ کروا کر اس کیس کو جلد حل کرنے میں بڑی مدد ملے گی۔ دوسری طرف پولیس تفتیش کاروں کو گولیوں کے خالی خول وغیرہ کرائم سین سے نہیں ملے۔ مائرہ ذوالفقار کا فون بھی پولیس تحویل میں ہے جس کی مکمل چھان بین کی جارہی ہے۔

تحقیقات کرائم انویسٹیگیشن ایجنسی کے سپرد

پولیس حکام نے بی بی سی کو بتایا ہے کہ تاحال اس کیس میں کوئی گرفتاری نہیں ہوئی ہے۔

جائے وقوعہ والے گھر کے مالکان نے بی بی سی کو بتایا کہ انھوں نے گھر کا اوپر والا حصہ جہاں مائرہ اور ان کی سہیلی الگ الگ کمروں میں رہ رہی تھیں ایک پراپرٹی ڈیلر کی مدد سے انھیں دیا تھا۔ انھوں نے مزید بتایا کہ وہ نہیں جانتے کہ اس روز کیا ہوا اور کس نے یہ قتل کیا ہے۔

ایک سوال کے جواب میں ان کا کہنا تھا کہ نامزد ملزمان اکثر مائرہ ذوالفقار اور ان کی سہیی سے ملنے آتے تھے۔

ابتدائی طور پر تفتیش تھانہ ڈیفنس بی کو سونپی گئی تھی لیکن کیس کی حساسیت کو دیکھتے ہوئے یہ کیس پولیس کی کرائم انویسٹیگیشن ایجنسی (سی آئی اے) لاہور کینٹ کو سونپ دیا گیا۔

ابتدائی تفتیش میں یہ بات بھی سامنے آئی کہ قتل سے محض دو ہفتے قبل مائرہ ذوالفقار نے تھانہ ڈیفنس بی میں ہی ایک نامزد ملزم کے خلاف ایک تحریری درخواست جمع کروائی تھی کہ اس نے ان کا موبائل چوری کیا اور وہ اسے ریپ کا نشانہ بنانا چاہتا ہے۔

پولیس نے مائرہ ذوالفقار اور ملزم دونوں کو بلا کر تفتیش کی اور یہ نتیجہ نکالا کہ چونکہ ملزم اور مائرہ ذوالفقار دونوں اچھے دوست ہیں،دونوں کا ایک نارمل تعلق ہے، دونوں کی ایک ساتھ تصاویر اور ویڈیوز بھی ہیں، اور مائرہ کا فون بھی چوری نہیں ہوا لہٰذا ملزم کے خلاف مزید کارروائی کی کوئی ضرورت نہیں۔

ڈی آئی جی آپریشنز لاہور ساجد کیانی نے بی بی سی کو اس بات کی تصدیق کی کہ ایک ایس ایس پی کی قیادت میں پولیس ٹیم نے پولیس حکام کی غفلت کے بارے میں چھان بین کی ہے جس کے بعد ایس ایچ او تھانہ ڈیفنس بی کو اس لاپرواہی کی بنیاد پرمعطل کر دیا گیا ہے۔

پولیس ذرائع نے بی بی سی کو بتایا ہے کہ دوسرے ملزم کے خلاف پاکستان پینل کوڈ کی دفعات جن میں اقدام قتل، غیر قانونی اسلحہ رکھنے (ممنوعہ بور)، اغواء اور چوری شامل ہیں، کے تحت اسلام آباد کے مارگلہ تھانے میں تین اور شالیمار تھانہ میں ایک ایف آئی آر درج ہوئی ہے۔

پولیس ذرائع نے مزید بتایا ہے کہ اب تک کی تفتیش سے یہ بات سامنے آئی ہے کہ دونوں ملزمان موقع واردات پہ موجود نہیں تھے کیونکہ ایک ملزم کے فون کی لوکیشن اسلام آباد ہی تھی جبکہ دوسرا ملزم اس روز لاہور میں اپنے گھر پہ سویا ہوا تھا جس کی تصدیق سی سی ٹی وی فوٹیج سے کی جا چکی ہے۔ پولیس اب اس پہلو سے بھی تفتیش کر رہی ہے کہ آیا ملزمان نے مائرہ ذوالفقار کے قتل کے لیے کیا کسی کرائے کے قاتل کو استعمال کیا یا پھر یہ قتل کسی اور نے ہی انجام دیا ہے۔

پولیس ذرائع نے مزید بتایا ہے کہ جس رات قتل کی یہ واردات انجام دی گئی اس روز مائرہ کے کمرے میں شور شرابے کی آواز آئی تھی اور گھر کے مالکان میں سے ایک جس کا کمرہ مائرہ کے کمرے کے عین نیچے تھا اس نے شور شرابے کی وجہ معلوم کرنے کے لیے مائرہ کی سہیلی کو فون بھی کیا تھا لیکن جب اس نے وہ فون نہ اٹھایا تو وہ بھی دوبارہ سو گیا۔

پولیس تفتیش کاروں نے مقتولہ کی دوست سے بڑی تفصیل سے پوچھ گچھ کی ہے اور اس نے پولیس کو مزید بتایا ہے کہ اسے مائرہ کے قتل کا تب علم ہوا جب وہ بینک میں اپنی نوکری پر جا چکی تھی۔

ملزمان میں سے ایک نے اسلام آباد کی ایک عدالت سے حفاظتی ضمانت کروا رکھی ہے جبکہ دوسرے نامزد ملزم نے لاہور کی ایک عدالت سے22 مئی تک ضمانت قبل از گرفتاری کروا رکھی ہے۔ اس نے اپنا بیان پولیس کو ریکارڈ کروایا ہے جس میں اس نے اس قتل میں ملوث ہونے سے بالکل انکار کیا ہے۔

بی بی سی نے متعدد بار کیس کے مدعی اور مقتولہ مائرہ ذوالفقار کے پھوپھا محمدنذیر سے رابطہ کرنے کی کوشش کی لیکن انھوں نے کوئی جواب نہیں دیا۔

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *

error: