مائرہ ذوالفقار قتل کیس: پولیس کا ملزمان کے خلاف اہم شواہد حاصل کرنے کا دعویٰ

پاکستان میں پولیس نے پاکستانی نژاد مائرہ ذوالفقار قتل کیس میں ملزمان کے خلاف اہم شواہد حاصل کرنے کا دعویٰ کیا ہے۔

مائرہ ذوالفقار قتل کیس کی تفتیش کی نگرانی کرنے والے پولیس سروس آف پاکستان (پی ایس پی) کے ایک سینئر افسر نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پربی بی سی کو بتایا کہ اب تک کی گئی تفتیش اور اکٹھے کیے گئے شواہد کی روشنی میں ان کے مطابق یہ بات ثابت ہوتی ہے کہ مائرہ ذوالفقار کو ایک سے زائد ملزمان نے بڑی بے دردی سے قتل کیا ہے۔

سینئر پولیس افسر کے مطابق ان کے پاس ایسے شواہد ہیں کہ یہ قتل دو مردوں نے ہی مل کر کیا ہے کیونکہ انھیں کرائم سین سے قبضے میں لی گئی چھ مختلف اشیاء میں سے تین پر سے دو مردوں کے ڈی این اے کے نمونے ملے ہیں جن کی مزید جانچ پنجاب فرانزک سائنس ایجنسی میں جاری ہے۔پولیس افسر کے مطابق کسی خاتون کا ڈی این اے نمونہ جائے واردات سے نہیں ملا۔

'مقتولہ مائرہ ذوالفقار کے ہاتھوں کی انگلیوں کے ناخنوں سے دو مردوں کے ڈی این اے کے علاوہ، کرائم سین سے قبضے میں لیے گئے دستانوں اور نالے پر سے بھی ایک مرد کے ڈی این اے کے نمونے ملے ہیں۔‘

دوسری طرف پولیس نے جمعرات کو تین ملزمان ظاہر جدون، ان کے بھائی طاہر جدون اور ڈرائیور محمد وسیم کوباقاعدہ گرفتار کر کے لاہور کینٹ کچہری کی ایک عدالت میں پیش کیا جہاں عدالت نے ملزمان کی شناخت پریڈ کے لئے انھیں 14روزہ جوڈیشل ریمانڈ پر جیل بھیج دیا ہے۔

گرفتار ملزمان میں ملزم ظاہر جدون پہلے ہی اس کیس میں نامزد ملزم تھا جس سے پوچھ گچھ کا عمل جاری تھا۔

سینیئر پولیس افسر کے مطابق ملزمان نے پہلے مائرہ ذوالفقار کو نالے کے ذریعے گلا دبا کر قتل کیا لیکن پھر اسے گولی بھی مار دی جو اس کی گردن کے قریب سے داخل ہوکر دوسری طرف کان کے پاس سے نکل گئی۔

Mayra Zulfiqar

مائرہ کے ناخنوں میں اپنے قاتلوں کی جلد کے ذرات

پولیس افسر کے مطابق مائرہ کے ہاتھوں کی انگلیوں کے ناخنوں میں کسی کے ڈی این اے کے نمونوں کا آنا اس بات کی علامت ہے کہ مقتولہ نے مرنے سے پہلے جس نے بھی اسے قتل کیا اس کے ساتھ اپنی جان بچانے کے لئے کافی تگ و دو کی تھی جس کی وجہ سے ہی ان کی جلد کے کچھ حصے اس کے ناخنوں میں پھنس گئے جو بعد میں اہم شواہد کے طور پر پولیس کے ہاتھ لگے ہیں۔

'شناخت پریڈ کے بعد ہم ان تینوں ملزمان کے ڈی این اے سیمپل لے کر پنجاب فرانزک سائنس ایجنسی بھجوائیں گے جہاں ان کو کرائم سین سے ملنے والے ڈی این اے کے نمونوں سے میچ کروایا جائے گا۔‘

سینئر پولیس افسر کے مطابق اب تک کی تفتیش میں اس کیس میں دوسرے نامزد ملزم سعد امیر بٹ کے اس قتل میں ملوث ہونے کے حوالے سے کوئی شواہد نہیں ملے۔ اسی طرح مقتول مائرہ ذوالفقار کی دوست اقراء کے اس واردات میں ملوث ہونے کے بھی تاحال کوئی شواہد نہیں ملے جس کے بعد ہی ملزم سعد امیر بٹ نے لاہور کی ایک عدالت سے ضمانت قبل از گرفتاری کی درخواست بھی واپس لے لی ہے۔

ملزم سعد امیر بٹ نے ضمانت کروانے کے بعد پولیس کو اپنا بیان ریکارڈ کروایا تھا جس میں اس نے اس قتل میں ملوث ہونے سے صاف انکار کیا تھا۔

مائرہ ذوالفقار

سینئر پولیس افسرکے مطابق مرکزی ملزم ظاہر جدون 27مئی تک حفاظتی ضمانت پر تھا اس لئے اسے اس کیس میں پہلے گرفتار نہیں کیا جاسکا لیکن ملزم ظاہر جدون لاہور کے تھانہ کاہنہ میں بھی ایک مقدمے میں 26مئی کو پہلے ہی گرفتار کیا جاچکا تھا۔

یاد رہے کہ پاکستانی نژاد مائرہ ذوالفقار کو 3مئی 2021کو لاہور کے علاقے ڈیفنس (فیز۵) میں جہاں وہ گذشتہ چند ماہ سے ایک خاتون دوست اقراء کے ساتھ کرائے کے مکان میں رہ رہی تھی قتل کر دیا گیاتھا۔مائرہ ذوالفقار چند ماہ قبل ہی برطانیہ سے پاکستان رہنے کے لئے منتقل ہوئی تھی جبکہ اس کے والدین برطانیہ میں ہی رہائش پذیر ہیں۔

اس قتل کی ایف آئی آر مقتولہ مائرہ ذوالفقار کے پھوپھا محمد نذیر کی مدعیت میں لاہور کینٹ کے علاقے ڈیفنس بی پولیس سٹیشن میں چار ملزمان جن میں دو نامزد ملزمان ظاہر جدون اور سعد امیر بٹ کے خلاف درج کروائی گئی تھی جس میں وجہ عناد یہ بتائی گئی کہ مائرہ کو ان دونوں ملزمان نے اس لئے ایک منصوبہ بندی سے قتل کردیا ہے کہ یہ دونوں اس سے شادی کرنا چاہتے تھے جبکہ مائرہ نے دونوں کو شادی سے انکار کر دیا تھا۔

پولیس ذرائع کے مطابق پنجاب فرانزک سائنس ایجنسی کو کرائم سین سے تیس بور پستول کی ایک زندہ گولی،خون آلود دو ٹشو پیپرز، استعمال شدہ دستانوں کا ایک جوڑا، ایک نالا(ویسٹ بینڈ)، ایک عدد شرٹ، ایک جوتا، ایک مردانہ بنیان وغیرہ ملے تھے۔ اس کے علاوہ پولیس کو جائے وقوعہ سے مائرہ کے زیر استعمال تین ایپل فون بھی ملے تھے لیکن لاک ہونے سے ان سے کسی طرح کی معلومات نہیں لی جاسکیں۔

ابتدائی طور پر تفتیش تھانہ ڈیفنس- بی کو سونپی گئی لیکن کیس کی حساسیت کو دیکھتے ہوئے یہ کیس پولیس کی کرائم انویسٹیگیشن ایجنسی (سی آئی اے) لاہور کینٹ کو سونپ دیا گیا۔

کیس کی تفتیش سے منسلک پولیس ذرائع نے بی بی سی کو بتایا ہے کہ مرکزی ملزم ظاہر جدون کے خلاف اس قتل میں ملوث ہونے کا ’پہلا سراغ‘ مقتولہ مائرہ ذوالفقار کے کمرے کی چابی سے ملا جو ان کے بقول سوائے ملزم ظاہر جدون کے کسی اور کے پاس نہیں تھی کیونکہ پولیس ٹیم نے جائے وقوعہ سے مائرہ ذوالفقار کے کمرے کی چابی بھی برآمد کی تھی۔

پولیس ذرائع کے مطابق پولیس ٹیم نے ملزمان کے قبضے سے جائے وقوعہ میں استعمال ہونے والی گاڑی اور پستول بھی برآمد کر لئے ہیں جبکہ سی سی ٹی وی کی فوٹیج کے حصول کا سلسلہ بھی جاری ہے۔

پولیس ریکارڈ کے مطابق ملزم ظاہر جدون کے خلاف پاکستان پینل کوڈ کی مختلف دفعات کے تحت جن میں اقدام قتل، غیر قانونی اسلحہ رکھنے (ممنوعہ بور)، اغواء اور چوری سمیت شامل ہیں، اسلام آباد کے مارگلہ تھانے میں تین اور شالیمار تھانہ میں ایک ایف آئی آر پہلے سے ہی درج ہے۔بی بی سی نے اس کیس کے مدعی اور مقتولہ مائرہ ذو الفقار کے پھوپھا سے رابطہ کرنے کی کوشش کی لیکن کوئی جواب موصول نہیں ہوا۔